بھٹکل میں اے پی سی آر کے زیر اہتمام قانونی بیداری کا کامیاب اجلاس عام :اپنے حقوق کے لئے سوال کرتے رہیں خوف نہ کھائیں :ماہرین کا خطاب

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 11th February 2018, 12:11 AM | ساحلی خبریں |

بھٹکل:10/ فروری (ایس اؤنیوز)جو کوئی حق کی، قانون کی بات کرتاہے اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگائی جاتی ہے ، حق کی آواز کو بند کرنےکی سازشیں ہورہی ہیں، غریبوں اور لاچاروں کی صدا کو دبایا جارہاہے، ہر طرف ڈرا ور خوف کا ماحول پیدا کیا جارہاہے ،مظلوموں ، بے سہاروں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، برسوں سے ہم اسی ماحول میں جی رہے ہیں، اتنے سال گزرنے کے بعدبھی کچھ نہیں بدلا، وہی پرانی باتیں دہرائی جارہی ہیں ، ہمیں احتساب کرنا ہوگا کہ ہم کہاں پہنچ گئے ہیں؟ اور جب تک ہم سوال نہیں کریں گے، حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھائیں گے تو کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ بدلنا ہے تو اٹھو! سوال کرو، آواز لگاؤ ۔ ان خیالات کااظہار کرناٹکا ہائی کورٹ کے سابق پروسیکیوٹر ، حقوق انسانی کے جہد کار ایڈوکیٹ بی ٹی وینکٹیش نے کیا۔

وہ یہاں جمعہ کی رات نوائط کالونی تنظیم گراؤنڈ میں اے پی سی آر بھٹکل کے زیر اہتمام ’’ملک کے جمہوری نظام کو درپیش خطرات اور اقلیتوں کا کردار‘‘عنوان پر منعقدہ قانونی بیداری کے اجلاس عام میں  مہمان خصوصی کے طورپر خطاب کررہے تھے۔ موصوف نےکہاکہ ملک سنگین حالات سے گزر رہاہے ، جو لوگ  سچ کہنے کی جرأت کرتاہے اورحق کی بات کرتاہے اس کی آواز کو دبایا اور  ختم کیا جارہاہے جس کی تازہ مثال گوری لنکیش ہے۔ مگر میں آپ سے کہتا ہوں کہ سوال کرنا بند نہ کریں بلکہ مزید لوگ سوالات کرنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوجائیں، اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانا بند مت کریں۔بڑی مسرت ہوتی ہے کہ آج کل ملک کےنوجوان سوال کررہے ہیں، کنہیا کمار، جگنیش میوانی ، شہلہ رشید ، رحمانی جیسے نوجوان جس طرح سوالات کررہے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک خوشگوار تبدیلی ہے۔ ایڈوکیٹ بی ٹی وینکٹیش نے عوام الناس بالخصوص نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ظلم کے خلاف ہرگز خاموش نہ رہیں، بلکہ  اپنی آواز بلند کریں اور جو لوگ آواز بلند کرتے ہیں، اُن کا ساتھ دیں۔

قانونی پیچیدگیوں اور عدالتوں کے چکر کو لے کر انہوں نے کہاکہ جب غریب ، مظلو م طبقات پر چارج شیٹ کے بعد عدالت میں کارروائی شروع ہوتی ہے تو چارج شیٹ کے مطابق انہیں معمولی سزا ہونی چاہئے مگر انہیں عمر قید کی سزا دی جاتی ہے، یہ اس لئے کہ انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ۔ جیل میں بند قیدیوں میں اکثر مسلمان، دلت، شودر اور غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی کوئی خبر گیری کرنے والا نہیں ہے، یہ اس لئے ہے کہ ہم نے سوال کرنا بند کیا ہے۔ اپنے دستوری حقوق کی جدوجہد کو ترک کیا ہےاس کے نتائج صرف اسی حد تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ دائرہ سرکاری دفاتر تک پھیلا ہواہے، جہاں رشوت کا بازار گرم ہے، جنہیں ہمار ے کام کے لئے تقرر کیا گیا ہے وہ کام کرتے ہوئے ایسا جتاتا ہے کہ جیسے ہم پر احسان کررہاہے، یہ ہماری خاموشی کا ہی نتیجہ ہے کہ بے گناہ ، بے قصور جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے  ایسی تمام ناانصافیوں اور برائیوں کے خلاف جدوجہد کرنے والی اے پی سی آر ٹیم کو میں مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے آخر میں کہاکہ ہم سب آزاد ملک کے باشندے ہیں سب کو آزاد رہنا چاہئے ، ہم تمام قانون کی عزت کریں، ہم قانون کی حفاظت کریں گے  تو  قانون  ہماری حفاظت کرے گا۔ انہوں نے عوام سے بہتر رویہ اختیار کرنے اور ڈٹ کر بات کرنے پر زور دیا۔

اجلاس میں سماجی کارکن اور سوشیل میڈیا پر ملکی حالات کے تجزیہ نگار مغربی بنگال کی نوجوان شخصیت ولی رحمانی نے جمِ غفیر سے سیرتﷺ اورتاریخی حوالوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی کے رکن پارلیمان ونئے کٹیار کہتے ہیں کہ یہ ملک ہندؤوں کا ہے ، مگر میں کہتاہوں کہ ونئے کٹیار ہندو نہیں ہے، کیونکہ ہندو ہمارے بھائی ہیں، ہندو دلوں کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں دلوں کو توڑتے نہیں ۔ ولی رحمانی نےکہاکہ 1947میں ملک کا بٹوارہ کیاگیا ،بٹوارے کا قرض مسلمانوں کو ادا کرنا پڑرہاہے ، 70برسوں کے بعد دلوں کابٹوارہ کیا جارہاہے، آج بھی مسلمانوں سے کہا جاتاہے کہ پاکستان چلے جائیں ، 70برس بعد مسلمانوں سے محب وطن کی سند مانگے جانے کو دیکھیں تو سمجھ لیجئے کہ ہم کدھر جارہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہاکہ آج بھی ملک کی سرحد پر ملک کے لئے جان کی قربانی دینے کی ضرورت پڑے گی تو مسلمانوں کے بچے کفن پہن کر سرحد پر لوٹنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے زہر اور نفرت انگیز ی سے ماحول کو بربادکرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جن راستوں پر تم کاٹنے بچھا رہے ہوکل ان راہوں پرتمہارے بچوں کو بھی چلنا ہوگا ، پیر چھلنی ہونگے تو سب کے ہونگے ، اسی لئے دردمندانہ اپیل کرتاہوں کہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کے بیج نہ بوئیں۔ولی رحمانی ملک کے حالیہ تشدد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اس ملک کو کرنی سینا، آرایس ایس سینا، انڈین مجاہدین جیسوں کی ضرورت نہیں ہے ہمارے ملک کے لئے صرف ایک بھارتی سینا کافی ہے۔میں نے بہت پہلے کہاتھا کہ ملکی دستور خطرے میں ہے،  مرکزی وزیر نے بھی کہہ دیا کہ وہ دستور کو ختم کرنے کے لئے اقتدار پر آْئے ہیں ، مگر ملک کے لوگوں کو احساس نہیں ہورہا ہے،  آج سپریم کورٹ کے 4ججوں نے بھی کہہ دیا کہ ملک کا دستور خطرے میں ہے، مگر اس کے بائوجود عوام کا احساس جاگ نہیں رہا ہے۔ رحمانی نے بتایا کہ حالات بتارہے ہیں کہ اس ملک کی جمہوریت، دستور سب پر خطرات کا سایہ ہے  انہوں نے  ملک کے عوام کو بیدار ہونے  کی آواز دی اور کہا کہ  بیدار ہونے میں ہی ملک کی بہتری ہے۔

اجلاس عام کا آغاز حسن قاضیا کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ عرباض احمد نے  نظم ’’امن و اخوت، عدل ومحبت کا پرچار کرو۔ انسانوں کی اس نگری میں انسانوں سے پیا رکرو ‘‘ پڑھ کر  سنائی۔ اس کے بعد8سال سے زائد عرصے تک جیل میں اپنے ناکردہ گناہوں کی سزاکاٹ کر بے قصور رہاہونے والے مولانا شبیر احمد گنگولی نے اپنی سرگزشت زنداں سنائی ۔ انہوں نے اے پی سی آر کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اسی تنظیم کی کوششوں سے وہ رہا ہوئے ہیں۔

اے پی سی آر کے ضلعی ناظم مولانا سید زبیر نے افتتاحی و استقبالیہ کلمات کے ساتھ اجلاس عام کی صدارت کی۔ اے پی سی آر کے ضلع جنرل سکریٹری قمرالدین مشائخ نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اے پی سی آر کے ذریعے ضلع میں قانونی بیداری کے پروگرام، ورکشاپ، راحت رسانی جیسے اہم کاموں کو انجام دیا جارہاہے ، مستقبل میں ضلع کے دوسرے مقامات پر اس کی شاخیں قائم کرتے ہوئے مظلوموں کی مدد کرنے کی بات کہی۔مشہور صحافی ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ اسماعیل ضوریز ابن ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے شکریہ اداکیا ۔ اس موقع پر مولانا عبدالعظیم قاضیا ندوی، مولانا محمد جعفر فقی بھاؤ ندوی، نارتھ کینرا مسلم یونائیٹیڈ فورم کے جنرل سکریٹری محسن قاضی ، مجاہد مصطفیٰ، سید اشرف برماور، ایس ایم سید شکیل، عنایت اللہ شاہ بندری ، جان عبدالرحمن محتشم وغیرہ موجود تھے۔اجلاس میں عوام کی کثیر تعداد آخر تک شریک تھی ، درمیان میں تواضع کا اہتمام کیا گیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار: سی آر زیڈ قانون میں رعایت۔سیاحت کے لئے مفیدمگرماہی گیری کے لئے ہوگی نقصان دہ

ساحلی علاقوں میں سمندر ی جوار کی حد سے 200میٹر تک تعمیرات پر روک لگانے والے کوسٹل ریگولیشن زون(سی آر زیڈ) قانون میں رعایت کرتے ہوئے اب ندی کنارے سے 100میٹرکے بجائے 10میٹر تک محدود کردیا گیا ہے۔

سرسی ڈی وائی ایس پی سے کی گئی یلاپور رکن اسمبلی شیورام کوڈھونڈنکالنے کی گزارش

کانگریس اور جے ڈی ایس کے اراکین نے بغاوت کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس سے دور رہنے اور وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کی جانب سے پیش کی گئی ’اعتماد‘ کی تحریک کے حق میں ووٹ نہ دینے کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے مخلوط حکومت گرنا یقینی ہوچلا ہے۔ 

بھٹکل اوراطراف کے  طلبہ وطالبات کے لئے15ڈسمبر کو ہوگا سائنسی وتحقیقی مقابلہ جات کاانعقاد : تعلیمی ادارے توجہ دیں

شہر بھٹکل کا معروف تعلیمی و فلاحی ادارہ تربیت اخوان(شمس اسکول)کے زیر اہتمام  اے جے اکیڈمی فار ریسرچ اینڈ ڈیلوپمنٹ کے اشتراک سے15ڈسمبر 2019 بروز اتوار کو سانتسی و تحقیقی مقابلہ جات کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں  بھٹکل‘ مرڈیشور‘ شیرور اور منکی کے سرکاری و  غیر سرکاری‘امدادی ...

مویشی چوروں کے ساتھ ساز باز کرنے کے الزام میں 2پولیس والے ہوئے گرفتار۔4کی تلاش جاری

ایک ہفتے پہلے ساستھان ٹول گیٹ پر 21بھینسوں کی ایک بڑی کھیپ جو ضبط کی گئی تھی، اس تعلق سے گرفتار شدہ ملزمین کے بیانات کی روشنی میں پولیس کی تحقیقاتی ٹیم نے محکمہ پولیس سے ہی وابستہ 2افراد کو گرفتار کرلیا،جبکہ مزید چارمفرور پولیس والوں کو گرفتار کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ان پر الزام ...

منگلورومیں تیز بخار کی وجہ سے 8سالہ بچے کی موت۔ عوام کو ڈینگی بخار کا شبہ۔ محکمہ صحت کے آفیسر نے کی تردید

ایک پرائیویٹ اسکول کی تیسری جماعت میں زیر تعلیم 8سالہ بچے کرش این سوورنا کی یہاں کے نجی اسپتال میں موت واقع ہوگئی ہے جس کے بارے میں عوام کو شبہ ہے کہ وہ ڈینگی بخار میں مبتلا ہوگیا تھا۔ لیکن ڈسٹرکٹ ملیریا کنٹرول آفیسر ڈاکٹر نوین کمار نے ڈینگی بخار سے موت ہونے  کی تردید کردی ہے۔