انکولہ میں سسر کے ہاتھوں عصمت دری سے دکھی بہو نے کر لی خودکشی؛ ملزم گرفتار

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 4th August 2018, 7:35 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

انکولہ 4؍اگست (ایس او نیوز) ضلع شمالی کینرا کے انکولہ تعلقہ ہیلّور گرام میں ایک شادی شدہ خاتون نے اپنے سسر کے ہاتھوں جنسی ہراسانی سے تنگ آکر قریبی جنگل میں پھانسی لگالینے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

اطلاع کے مطابق  جب گھر کے دوسرے تمام افراد کہیں باہر گئے ہوئے تھے تو تنہا ئی کا فائدہ اٹھا کر برہما ہری کنترا (۵۰سال) نے اپنی 20سالہ بہو کی آبروریزی کی۔ اس سے رنجیدہ ہوکر مذکورہ خاتون نے قریبی جنگل میں جاکر پھانسی لگاتے ہوئے خودکشی کرلی۔ عصمت دری کے ملزم کو انکولہ پولیس نے اڈپی ضلع کے ملپے سے گرفتار کرلیا ہے۔

موصولہ تفصیل کے مطابق خودکشی کرنے والی خاتون نے ایک سال قبل ہیرے گُتّی کے رہنے والے برہما ہری کنترا کے بیٹے کے ساتھ عشق میں مبتلاہوکر رجسٹر ڈ شادی کی تھی۔ جب بھی ماہی گیری کے لئے اس کا شوہر سمندرمیں چلا جاتا تو موقع دیکھ کر اس کا سسر اس کے ساتھ نامناسب حرکتیں کیا کرتاتھا۔مئی کے مہینے میں ایک رات جب بہو اپنے کمرے میں تنہا سو رہی تھی تو سسر برہما ہری کنترا زبردستی اس کے کمرے میں داخل ہوا اور اس کے ساتھ زنابالجبر کیا۔ اس واقعے کے بعد وہ خاتون اپنے شوہر کے ساتھ ہیلّور میں واقع اپنے مائیکے میں رہنے کے لئے آگئی تھی۔ مگر لگتا ہے کہ سسرکے ہاتھوں اپنی عصمت دری کا واقعہ وہ بھلا نہیں پائی تھی اور ذہنی ہیجان کی وجہ سے وہ اپنے گھر کے پاس والے جنگل میں اپنے ہی دو پٹے کا پھندابناکر خود کشی کرلی۔بتایا جاتا ہے کہ خودکشی کرنے سے قبل اس نے ایک تحریر چھوڑی ہے جس میں سسر کی طرف سے آبر وریزی کاتفصیل سے ذکرکیا گیا ہے۔

پولیس نے کیس داخل کرنے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ملپے جاکر برہماکو ماہی گیر کشتی سے گرفتار کرلیا۔ برہما کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ تملناڈو کا رہنے والا ہے ۔ کچھ برسوں قبل کام کی سلسلے میں انکولہ آیا تھا اور پھر یہاں شادی رچانے کے بعد اس نے یہیں رہائش اختیار کی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میونسپل پارک کی تجدیدکاری میں بدعنوانی کا الزام۔ ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم

بھٹکل بلدیہ کے حدود میں بندر روڈ پر واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل پارک کی تجدید کاری میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے  آسارکیری کے عوام  نے بلدیہ انجینئر کو پارک میں طلب کرکے ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم دیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہاں ہورہی بدعنوانی کی تحقیقات کروائی جائے۔

کاروار کے ہوم گارڈس دفتر اورکیگا شہری تحفظ مرکز میں یوم ِآزادی کی خصوصی تقریب

شہر میں ہوم گارڈس دفتر میں 72واں یوم ِ آزادی کا جشن پرچم کشائی کے ساتھ منایاگیا ۔ ضلعی آفیسر دیپک گوکرن  نے جھنڈا لہرانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یہ آزادی کئی ایک مہان ہستیوں کی قربانی کے بعد ملی ہے۔ یہ ملک تکثریت میں وحدت پیش کرنے والا ایک انوکھا ملک ہے۔انہوں نے کہاکہ ...

کاروار : ضلع پنچایت اورمیڈیکل کالج میں یوم ِ آزادی کا جشن :ایمانداری سے اپنے فرائض کو انجام دینا  سچی دیش بھگتی  

اترکنڑا ضلع کے مرکزی مقام کاروار میں اترکنڑا ضلع پنچایت اور میڈیکل سائنس سنٹر میں  جوش و خروش کے ساتھ یوم آزادی کا جشن منایا ۔ جس کی مختصر تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے۔ ...

بھٹکل میں یوم آزادی کا جشن پورے جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا؛ تعلقہ انتظامیہ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر نے لہرایا جھنڈا

ہر سال کی طرح امسال بھی بھٹکل میں پورے جوش و خروش کے ساتھ  یوم آزادی کی تقریب منائی گئی اور تعلقہ انتظامیہ سمیت مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سمیت تعلیمی اداروں میں بھی  ترنگا جھنڈا لہرایا گیا۔

کورگ میں بارش کی بھاری تباہی ، تین اموات،زمین کھسکنے کے متعدد واقعات 

جنوبی ہند کا کشمیر کہلانے والے ریاست کے کورگ ضلع میں بارش نے زبردست تباہی مچادی ہے۔ ایک طرف بارش کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے تو دوسری طرف پڑوسی ریاست کیرلا میں طوفانی بارش کے سبب وہاں کی ندیوں کا پانی بھی کرناٹک کی طرف بہادیا گیا ہے،

مہادائی ٹریبونل کے فیصلے کا چیلنج کرنے ریاستی حکومت تیار

ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ شمالی کرناٹک کے بعض اضلاع کو پینے کے پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ مہادائی کے پانی کی تقسیم کے سلسلے میں حال ہی میں ٹریبونل نے جو فیصلہ صادر کیا ہے ریاستی حکومت اس کا سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

بھٹکل میونسپل پارک کی تجدیدکاری میں بدعنوانی کا الزام۔ ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم

بھٹکل بلدیہ کے حدود میں بندر روڈ پر واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل پارک کی تجدید کاری میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے  آسارکیری کے عوام  نے بلدیہ انجینئر کو پارک میں طلب کرکے ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم دیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہاں ہورہی بدعنوانی کی تحقیقات کروائی جائے۔