بھٹکل انجمن ڈگری کالج کے زیر اہتمام سرسید احمد خاں پر آل انڈیا سمینار کاکامیاب انعقاد: عصری تقاضوں کے تحت اپنا رخِ عمل طئے کرنا ہی سرسید کی معنویت ہے:ماہرین کا اظہارِ خیال

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 12th February 2018, 9:04 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل:12/ فروری (ایس اؤنیوز)ملت اسلامیہ مغلیہ حکومت کے بعداحساسِ کمتری میں مبتلا ہوکر زوال کا شکار ہوتی ہےتو 1857ء میں وہ شکست خوردگی کو پہنچتی ہے۔ ان حالات میں مسلمانوں کی تعلیمی کسمپرسی اور پسماندگی کو دیکھتے ہوئے سرسید احمد خاں نے حکومت اور عوام کی دوری کو پاٹنے کی کوشش کی ،اسبابِ بغاوت ہند کو شائع کرکے سرسید نے 1857ء کی جنگ کو غدر یا بغاوت نہیں بلکہ وہ ایک ردعمل اور اپنے حقوق کی بازیافت ہے،اورعصری تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنا رخِ عمل طئے کرنا سرسید احمد خاں کی معنویت ہے۔ ان خیالات کااظہار ریاست بہار کے پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر سید جاوید حیات نےکیا۔

وہ یہاں انجمن آرٹس، سائنس اور کامرس کالج اینڈ پی جی سنٹر بھٹکل کے زیر اہتمام اورکرناٹک اردو اکیڈمی بنگلورو کے اشتراک سے 11فروری کو انجمن کالج فنکشن ہال میں شعبہ اردو کی طرف سےانجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے نائب صدر سید عبدالرحمن باطنؔ کی صدارت میں ’’سرسید کی ادبی وتعلیمی خدمات اور اس کی عصری معنویت ‘‘کے عنوان پر منعقدہ آل انڈیا سمینار کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ پیش کررہے تھے۔ ڈاکٹر جاوید حیات نے سرسید کی ادبی وتعلیمی خدمات کا اجمالی جائزہ لیتے ہوئے کہاکہ جو قوم تاریخ کو زندہ رکھنا چاہتی ہے اس قوم کو تاریخ سے واقفیت رکھنا ضروری ہے، سرسید نئی نسل کی ادبی و تعلیمی تحقیق کے لئے ایک مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سرسید احمد خاں نے ادب، تعلیم، مذہب ، تہذیب اور ثقافت کے حوالے سے بہت کام کیا ہے، سرسید کی حیات سے یہ سبق ملتاہے کہ تعلیم اور صرف تعلیم ہی ترقی کا ذریعہ ہے ، یہ ضروری ہے کہ تعلیم ،عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔

ڈاکٹر جاوید حیات نے سرسید کے تعلیمی اثرات پر بات کرتے ہوئے کہاکہ شمالی ہند کے مقابلے جنوبی کا خطہ سرسید کی تحریک کو آگے بڑھایا، عملی میدان میں کام کیا، انہوں نے کہاکہ انجمن حامئی مسلمین بھٹکل نے سرسید کی شمع کو روشن رکھتے ہوئے مثالی کام انجام دے رہاہے۔ موصوف نے سرسید کے رفقاءکار اور تنقید نگاروں کے حوالے سے بات کرتےہوئے کہاکہ جس طرح مالی باغ کی تہذیب بنائے رکھنے کے لئے کانٹ چھانٹ کرتاہے اکبر ؔالہ آبادی نے بھی سرسید کی مخالفت نہیں کی بلکہ سرسید کے کاموں میں جو اضافت تھی اس کو کانٹ چھانٹ کر تہذیب کے تشکیل کا کام کررہے تھے۔ اسی طرح ان کے رفیق کار مولانا الطاف حسین حالی ؔ نے ادب کی بہترین تشریح کی اور کہاکہ شعر و شاعری پڑھنے سے پہلے مقدمہ شعر و شاعری پڑھو،جس کے مطالعہ سے یہ باور ہوتاہے کہ ادب زندگی آموز اور زندگی آمیز ہونا چاہئے۔ مولانا حالی ؔنے ادب کو مطالعہ کائنات کہتے ہوئے بتایا کہ دنیاو آخرت دونوں بھی شامل ہیں، کیونکہ کائنات کے مفہوم میں صرف دنیا نہیں بلکہ آخرت بھی شامل ہے۔

گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ، موظف صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عبدالحمید اکبر نے سمینار کا افتتاح کرتے ہوئے انجمن حامئی مسلمین بھٹکل اور انجمن ڈگری کالج کے عہدیداران اور ذمہ داران کو سرسید کی خدمات پر سمینارکے انعقاد پر مبارکبادی دیتے ہوئے کہاکہ بھٹکل اردو کی زرخیز زمین ہے ۔ جس طرح سرسید نے اردو تہذیب کو فروغ دینے اور اس کی تشکیل کا کارنامہ انجام دیا ہے انجمن اسی تہذیب اور ثقافت کو فروغ دے رہی ہے یہی وقت کا تقاضا بھی  ہے۔ کرناٹکا اردو اکیڈمی بنگلورو کے ممبر جناب سعید احمد رضوان نے اپنے تاثرات کااظہار کرتے ہوئے آئندہ بھی اکیڈمی کی طرف سے ہر ممکن تعاون دینے کی بات کہی۔

سمینار کا افتتاح بی کام کے متعلم عزیزی حسن ابن مولانا عبدالعظیم قاضیا ندوی کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ بی کام فائنل کے متعلم عبدالمہیمن سعدا نے نعت پیش کی۔ صدر شعبہ اردو ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے مہمانوں اور انجمن کا تعارف پیش کیا۔ صدر شعبہ فزکس کے پروفیسر ایس اے عطار نے کلماتِ تشکر پیش کیا تو سمینار کو آرڈینیٹر پروفیسر عبدالرؤوف سونور نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ۔

چائے کے وقفہ کے بعد مقالہ جات کی نشست کا آغاز ہوا۔ جس میں کیرلا ، کالی کٹ سنسکرت یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو کرشنا کے نکولن نے ’’سرسید کا نظریہ تعلیم ‘‘کے عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیاتو ممبئی سے تشریف فرما ڈاکٹر محمد کلیم ضیاء نے ’’سرسید بحیثیت ِ مصلحِ قوم ‘‘کے موضوع پر سرسید کے مصلحانہ کاوشوں کا تذکرہ کیا۔ گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ کے موظف صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عبدالحمید اکبر نے بعنوان ’’سرسید کا منفرد اسلوب اور عصرِ حاضر میں اس کی معنویت‘‘پر نثر اور شعر کے متعلق سرسید کے نظریا ت پیش کرتے ہوئے کہاکہ اچھی اور سادہ نثر لکھنا اچھے شعر کہنے سے زیادہ دشوار ہے۔ سرکاری ڈگری کالج بھدرواتی کے ڈاکٹرمسرت پاشا راہیؔ نے ’’مضامین سرسید کا تہذیبی مطالعہ ‘‘کے عنوا ن پر اور گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ کے لکچرر ڈاکٹر منظور احمد دکنی نے ’’سرسید کے افکار و نظریات کے زاویے ‘‘ کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقالہ جات نشست کی صدارت کرتے ہوئے پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر جاوید حیات نےکہاکہ علم کا مقصد انسانی تہذیب کی تشکیل ہے تو تعلیم کا مقصد روزگار ہے۔ سرسید احمد خاں نے علم و فکر، ادب کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیاہے۔ انجمن کالج کے عربی لکچرر مولانا محمد جعفر ندوی نے بہترین انداز میں نظامت کے فرائض انجام دئیے۔سمینار کوآرڈینیٹر پروفیسر عبدالرؤوف سونور نےآخر میں انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کی کی طرف سے اردو کے فروغ کے لئے انجام دی جارہی  خدمات کا تذکرہ اداکرتے ہوئے کلماتِ تشکر اداکئے۔

ڈائس پر انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے جنرل سکریٹری اسماعیل صدیق، کالج بورڈ سکریٹری جاوید حسین آرمار، کالج پرنسپال پروفیسر مشتاق احمد شیخ، نیاک کوآرڈینیٹر بی ایچ نداف موجود تھے۔ سمینار میں انجمن کے عہدیداران، اساتذہ ، طلبا ، شہر کی معزز شخصیات،انجمن سے منسلک کالجوں کی لکچرر حضرات صاحبہ، طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔ سمینار کے دوران تمام کے لئے تواضع اور ظہرانہ کا انتطام کیا گیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل : کتابوں کا مطالعہ انسان کو اعلیٰ مقام پر لے جاتاہے: بیلکے ہائی اسکول میں شیوانی شانتا رام کا خطاب

کتابیں طلبا کی عقل و شعور کی قوت میں اضافہ کرتی ہیں ، عقل کا بہترین استعمال کرنے میں معاون وممد ہوتی ہیں، کتابوں کے مطالعہ سے انسان اعلیٰ مقام تک پہنچ سکتاہے۔ ان خیالات کااظہار بھٹکل کی صنعت کار شیوانی شانتارام نے کیا۔

منگلورومیسکام مزدوروں کو لگا ہائی ٹینشن وائر کا جھٹکا۔ ایک ہلاک 8شدید زخمی

مارائوور بس اسٹائنڈ  کے قریب  الیکٹرک کا نیا کھمبا نصب کرنے میں مصروف منگلورو الیکٹرک سپلائی کمپنی (میسکام) کے مزدور ہائی ٹینشن وائر کی زد میں آنے سے ایک کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جبکہ بجلی کے جھٹکے لگنے سے دیگر 8مزدور شدید زخمی ہوگئے ،جنہیں علاج کے لئے نجی اسپتال لے جایا ...

بھٹکل بس اسٹائنڈ کی عمارت گرنے کے بعد متبادل انتظام نہ ہونے سے مسافر پریشان؛ قومی شاہراہ کا کنارہ ہی عوام کے لئے بس اسٹائنڈ

بھٹکل بس اسٹانڈ کی عمارت منہدم ہوکر دو دن  گزرنے کے بعد بھی بسوں کے ٹھہرنے اور مسافروں کے لئے متبادل انتظام نہ ہونے کی وجہ سے قومی شاہراہ کا کنارہ ہی مسافروں کے لئے بس اسٹانڈ بن گیا ہے۔

مدینہ کالونی اور حنیف آباد میں بنیادی سہولتوں کا فقدان۔ مدینہ ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے پھردیاگیا اے سی کو میمورنڈم

مدینہ ویلفئیر سوسائٹی ، مدینہ کالونی بھٹکل کی طرف سے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کو یادداشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیاگیا کہ وہ از خود تعلقہ پنچایت اور گرام پنچایت افسران کے ساتھ مدینہ کالونی اور حنیف آباد علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے بنیادی سہولیات کا جائزہ لے کر ضروری اقدامات کریں۔

مرڈیشورکی بینا وئیدیا اسکول میں طلبا کے لئے تحریری صلاحیت پر تربیتی کیمپ  

بینا وئیدیا انٹر نیشنل پبلک اسکول مرڈیشور میں  14جولائی 2018کو طلبا میں تحریری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور انہیں لکھنےکی ترغیب دلانے کےمتعلق جماعت نہم ، دہم اور پی یو سکینڈ کے لئے ایک روزہ تربیتی کیمپ منعقد کیاگیا۔

منگلورومیسکام مزدوروں کو لگا ہائی ٹینشن وائر کا جھٹکا۔ ایک ہلاک 8شدید زخمی

مارائوور بس اسٹائنڈ  کے قریب  الیکٹرک کا نیا کھمبا نصب کرنے میں مصروف منگلورو الیکٹرک سپلائی کمپنی (میسکام) کے مزدور ہائی ٹینشن وائر کی زد میں آنے سے ایک کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جبکہ بجلی کے جھٹکے لگنے سے دیگر 8مزدور شدید زخمی ہوگئے ،جنہیں علاج کے لئے نجی اسپتال لے جایا ...

یلاپور میں برقی تار چھونے سے دو کسانوں کی موت

ضلع اُترکنڑا کے یلاپور تعلقہ کے  ڈونڈیان کوپّا میں  دوکسان اُس وقت ہلاک ہوگئے جب وہ  منگل شام کو کھیتوں میں کام کاج نپٹا کر واپس گھر جارہے تھے کہ اچانک راستے پر پڑی برقی تار  پر ان کے قدم پڑ گئے۔

فطری اعتبار سے میں جذباتی ہوں : کمار سوامی

وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے کہا ہے کہ سرکاری فیصلے لینے میں وہ جتنے سخت ہیں کسی کا دکھ دیکھنے پر وہ اتنے ہی جذباتی ہوجاتے ہیں۔ آج دہلی میں اخبار ی نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کمار سوامی نے کہاکہ ان کی فطرت جذباتی ہے اس کے لئے وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ ریاستی عوام کی مشکلات ان سے ...