انیس عامری ایک ’دہشت گرد سیل‘ کا حصہ تھا: جرمن میڈیا

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 16th December 2018, 2:14 AM | عالمی خبریں |

برلن :15/دسمبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) برلن میں دو برس قبل ایک کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے حملہ کرنے والا انیس عامری’تنہا بھیڑیا‘ نہیں تھا بلکہ ممکنہ طور پر اس کا تعلق ایک سلفی سیل سے تھا، جس نے اسے اس حملے میں مدد دی تھی۔جرمن میڈیا پر ہفتے کے روز سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق برلن کرسمس مارکیٹ حملے کے فقط دو ہفتے بعد اطالوی پولیس نے اس سلسلے میں تفصیلات جاری کی تھیں، جن کے مطابق سخت گیر نظریات کے حامل سلفی مسلمانوں کے ایک سیل نے اس حملے کے لیے معاونت فراہم کی تھی۔جرمن میڈیا کا کہنا ہے کہ انیس عامری اس حملے میں ملوث ’تنہا بھیڑیا‘ نہیں تھا بلکہ وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ ہو سکتا ہے۔اطالوی پولیس نے 173 صفحاتی تفتیشی رپورٹ جرمن حکام کو دسمبر 2016 میں ہونے والے اس حملے کے دو ہفتے بعد ارسال کی تھی، جو اب متعدد جرمن میڈیا ہاؤسز کے سامنے آئی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق جنوبی اطالوی شہر بیرندیسی کی پولیس نے بتایا تھا کہ انیس عامری کو ممکنہ طور پر سلفیوں کے ایک دہشت گرد سیل کی جانب سے حملے کے لیے معاونت فراہم کی گئی اور اس سیل کا تعلق برلن کی ایک سلفی مسجد کے ساتھ بھی تھا۔ واضح رہے کہ یہ مسجد بعد میں بند کر دی گئی تھی۔یہ بات اہم ہے کہ جرمن حکام اصرار کرتے آئے ہیں کہ انیس عامری اس حملے میں ملوث تنہا شخص تھا۔ 19 دسمبر 2016 میں برلن کی برائٹ شائیڈ پلاٹز پر واقع ایک کرسمس مارکیٹ میں آمری ایک ٹرک کے ساتھ داخل ہو گیا تھا اور اس نے کئی افراد کو روند دیا تھا۔ اس واقعے میں 12 افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اطالوی تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ میں آمری کی ان کالز سے متعلق معلومات بھی فراہم کی ہیں، جو اس حملہ آور کی جانب سے مختلف افراد کو کی گئیں۔ اطالوی تفتیش کاروں کے مطابق ان کی جانب سے مہیا کردہ اطلاعات پر جرمن حکام نے توجہ نہیں دی۔جرمنی کی گرین پارٹی کی ترجمان ایرینے میہالِک نے ایک صحافتی ادارے آر این ڈی سے بات چیت میں کہا کہ شواہد واضح کرتے ہیں کہ انیس عامری تنہا حملہ آور نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ حملے کے واحد مجرم کا نظریہ یقیناًغیر درست ہے، تاہم بدقسمتی سے اس تصور کی مختلف جہتوں کو جرمن پولیس نے نظرانداز کیا۔

ایک نظر اس پر بھی

امریکی رپورٹ کا خلاصہ؛ ہندوستان کی حکومت مسلم مخالف ! مسلم اداروں کے خلاف اقدامات؛ بی جے پی قائدین کی اشتعال انگیز تقاریر کا سلسلہ جاری؛ شہروں کے مسلم نام بدلنے کا بھی حوالہ

مذہبی آزادی سے متعلق  امریکہ کے اسٹیٹ  ڈپارٹمنٹ کی تازہ رپورٹ میں ہندوستان میں ہجومی تشدد، تبدیلی مذہب کی صورتحال، اقلیتوں کے قانونی موقف اور سرکاری پالیسیوں کا احاطہ کیا گیا  ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ  ہندوستان میں سال 2018 کے دوران ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے ...

امریکہ اور ایران کے درمیان حالات انتہائی دھماکہ خیز ،خطے میں جنگ کا خطرہ،ہندوستان سمیت مختلف ممالک نے کیاہرمز سے پروازوں کا ر استہ تبدیل، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس

گزشتہ چنددنوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت مزید شدت آگئی جب ایران نے امریکہ کے ڈرون کو مارگرایا۔

امریکہ کی طرف سے ہندوستان کو دھمکی روس سے ڈیل کی صورت میں دفاعی امداد محدود ہوجائے گی

امریکہ کی وزارت خارجہ کی افسر ایلس جی ویلس نے جمعہ کو کہا کہ ان کا ملک ہندوستان کی دفاعی ضروریات پورا کرنے کے لئے تیار ہے، لیکن روسی ایس-400 نظام اس میں رکاوٹ بن رہا ہے- ہندوستان-روس ڈیل سے امریکہ کا تعاون محدود کردیا جائے گا -