لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 13th December 2016, 9:18 PM | اسپیشل رپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

 نوٹ بندی کے بعدسے پوراملک لائنوں میں کھڑاہے اور عام انسانوں کی زندگیاں دوبھرہوگئی ہیں،جبکہ کچھ لوگ اور طبقات ایسے بھی ہیں،جن کے لیے سرکارکایہ فیصلہ گویا”نعمتِ غیر مترقبہ“ثابت ہورہاہے،ہمارے وزیر اعظم مسٹرمودی کو بھرم ہے کہ ہزاراورپانچ سوکے نوٹ بندکردینے سے ملک میں بدعنوانی اور کالے دھن کی ذخیرہ اندوزی پر لگام لگے گی،مگر حقیقت توایسی سامنے آرہی ہے،جوسرکارکے لیے شرم ناک بھی ہے اور ذلت و رسوائی کاباعث بھی۔نوٹ بندی پراب تک ایک ماہ سے زائد کاعرصہ بیت گیا،مگرنہ بینکوں کی لائنیں ختم ہوئیں،نہ اے ٹی ایم میں ضرورت کے بقدرکیش ڈالے گئے اور نہ عوامی مشکلات پرقابوپانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش دیکھنے میں آئی،حیرت ہے کہ پوراملک اور ملک کی سرکاران130/ لوگوں کے بارے میں سوچناتودور،سننے کے لیے بھی تیارنہیں ہے،جواپنے پیسے بدلوانے،بنکوں میں جمع کرانے یانکالنے کے لیے گھنٹوں لائنوں میں لگنے کی وجہ سے جاں ہارہوگئے؛حالاں کہ اکیلے یہی واقعات ایسے ہیں کہ ان پر مودی اینڈکمپنی کوشرم سے ڈوب مرنا چاہیے تھا؛کیوں کہ دنیامیں ایساکوئی بھی سیاسی یااخلاقی قانون نہیں ہوگا،جوبدعنوانی کے خاتمے کے نام پر ہی سہی، غیر متعلقہ اور بے قصور لوگوں کی جان لینے کی اجازت دیتا ہو۔روزانہ حکومت کی جانب سے بھانت بھانت کے اعلانات کیے جاتے ہیں،ہمارے ”عجوبہئ روزگار“وزیر اعظم پارلیمنٹ میں یاتوجاتے نہیں یاجاتے ہیں تو ”ٹک ٹک دیدم،دم نہ کشیدم“کی تصویر بنے رہتے ہیں،مگر عوامی سبھاؤں میں ان کی زبان قینچی کی طرح چلتی ہے اوروہاں لوگوں کواُلوبناتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ مجھے لوک سبھا میں نہیں بولنے دیاجاتا؛اس لیے جن سبھامیں بول رہاہوں،یہ کس طرح کی حکومت ہورہی ہے؟اورملک کوکیساوزیر اعظم ملاہے؟!ملک کاسربراہِ اعلیٰ ہونے کے باوجودکبھی یہ کہناکہ میں جھولااٹھاکر چل دوں گااور کبھی یہ کہناکہ مجھے بولنے نہیں دیاجاتا،یہ اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ یاتومودی جی کے اندر سیاسی قیادت کے لیے مطلوبہ خصائص کا فقدان ہے یاوہ ملک کودامِ فریب میں مبتلارکھناچاہتے ہیں۔ 
     دوسری طرف نوٹ بندی کے فیصلے کے بعدکالادھن کوفروغ دینے والاایک تازہ گروہ”دریافت“ہوچکاہے،جوپوری چابک دستی اور تند ہی کے ساتھ مودی کے خواب کی ایسی تیسی کررہاہے، ملک کے بھولے عوام رات دن لائنوں میں کھڑے ہیں اور کبھی پیسے جمع کرانے تو کبھی نکالنے کے لیے دھکے،پولیس کی لاٹھیاں اورگالیاں کھارہے ہیں،تودوسری طرف بینک ملازمین کی ملی بھگت سے گھاگ انسانوں کی ایک جماعت کروڑوں روپوں کے نئے نوٹ نکال کرپیسے بدلنے کادھندہ فروغ دے رہی ہے،حیرت تواس پر ہے کہ اس قسم کے پیسے اب تک کئی بی جے پی کے نیتاؤں کے پاس سے بھی برآمدہوئے ہیں،روزانہ اور مسلسل ایسی خبریں آرہی ہیں،جن میں کئی کئی لاکھ؛بلکہ کروڑوں کے نئے نوٹ پکڑے جارہے ہیں،13/دسمبرکوصبح صبح کرناٹک سے ایک خبرآئی کہ ای ڈی (Enforcement Directorate) اہل کاروں نے سات لوگوں کے پاس سے دودوہزارکے نوٹوں پر مشتمل93/لاکھ کی رقم ضبط کی، یہ لوگ پندرہ سے پینتیس فیصدتک کمیشن لے کر پرانے نوٹوں کو بدلا کرتے تھے اوراس دھندے میں ایک سرکاری افسر بھی باقاعدہ ملوث تھا،اس سے قبل ایک معاملے کی تفتیش کرتے ہوئے ای ڈی کوکل5.7کروڑروپے کے نئے نوٹ حاصل ہوئے،کسی کے باتھ روم سے توکسی کی گاڑی سے نوٹوں کے بنڈل برآمدہورہے ہیں،رپورٹوں کے مطابق گزشتہ پندرہ دنوں میں ایسے227/کروڑروپے ضبط کیے جاچکے ہیں۔اس حوالے سے بینکوں کاکردارنہایت مشکوک ہے(الاماشاء اللہ)صورتِ حال یہ ہے کہ اِن دنوں بینکوں کے منیجرسے لے کر چپراسی اور گارڈ تک کما کماکر نہال ہورہے ہیں،پیسے بدلوانے کا معاملہ ہویاڈپوزٹ کرنے کا؛ہرطرح کاکام یہ لوگ کرکے دے رہے ہیں،اب جن لوگوں کے پاس کروڑوں روپے ہیں،ان کے لیے کیامشکل ہے اگروہ تیس فیصدکے عوض اپنے کالے دھن کو سفید کروا لیں،پریشانی تواُن کے لیے ہے،جولاکھ دس لاکھ والے ہیں،انھیں پتاہے کہ ان کے پاس وہ پیسے کیسے آئے ہیں؛اس لے وہ بے چارے دن دن بھرلائنوں میں لگ کر، قانون اور ضابطے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے پیسے جمع کرواناچاہتے ہیں یانکلواناچاہتے ہیں،مگر جوگھس پیٹھیے اوربینک ملازمین سے سازبازکیے ہوئے بڑے بڑے صنعت کار،لیڈران،سیاست داں،مہاجن اورگرولوگ ہیں،وہ توپہلے ہی بینکوں میں پہنچائے گئے کیش کاصفایاکیے دے رہے ہیں؛اس لیے عام لوگوں کوانجام کارخالی ہاتھ ہی لوٹناپڑرہاہے۔5/دسمبرکوکشمیری گیٹ کے ”ایکسس بینک“کے دومنیجراسی ہیراپھیری میں ملوث پائے گئے،اسی بینک کے کم و بیش بیس افراد کو مالی بدعنوانی میں ملوث ہونے کے جرم میں معطل کیاگیا،اسی بینک کی چاندنی چوک علاقے کی شاخ میں 10/دسمبرکو44/فرضی اکاؤنٹس میں 100/کروڑروپے جمع کرانے کامعاملہ سامنے آیا؛یہ توچندواقعات ہیں جوپکڑمیں آرہے ہیں یاآچکے ہیں، جو پکڑ میں نہیں آرہے ہیں،ان کی تعداد نہ معلوم کتنی ہوگی،13/دسمبرکی صبح ہی ایک خبریہ آئی کہ وزیر اعظم مسٹرمودی نے اس قسم کے واقعات پر روک لگانے کے لیے قدم اٹھاتے ہوئے ملک بھر کے پانچ سوبینک برانچزمیں اسٹنگ آپریشن کروایاہے،ان میں سرکاری بینک بھی شامل ہیں اورپرائیویٹ سیکٹرکے بینک بھی،اسٹنگ آپریشن کی سی ڈیزحکومت کومل چکی ہے اورعن قریب انھیں دیکھنے کے بعدعملی کارروائی کی جائے گی۔
     حکومت نے کئی دنوں پہلے یہ دعویٰ کیاتھاکہ جلدہی پورے ملک کے دولاکھ سے زائد اے ٹی ایم کونئے نوٹ ڈالنے کے قابل بنادیاجائے گااور سبھی مشینوں میں پابندی سے کیش ڈالے جائیں گے،جبکہ دوسری جانب صورتِ حال اتنی ناگفتہ بہ ہے کہ لاکھوں کی آبادی والے رہایشی علاقے میں ایک دواے ٹی ایم میں پیسے ڈالے جارہے ہیں اوریہ تودہلی جیسے شہرمیں ہورہاہے،جوقصبہ یادیہات کاخطہ ہے،وہاں توکئی کئی کلومیٹرتک اولاً تواے ٹی ایم کانام ونشان نہیں اوراگر کہیں ہے بھی،توحکومت کی ”کیش لیس“پالیسی پرعمل پیراہے۔بازاروں میں خریدارنہیں ہے،دکان داروں کے پاس سامان نہیں ہے،قیمتیں آسمان کوچھورہی ہیں،چھوٹے موٹے کاروباری حیران و سرگرداں پھررہے ہیں،دس بیس ہزارماہانہ کمانے والے لوگ.                                 نایاب حسن         [email protected]

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں آدھا تعلیمی سال گزرنے پر بھی ہائی اسکولوں کے طلبا میں نہیں ہوئی شو ز کی تقسیم  : رقم کا کیا ہوا ؟

آخر اس  نظام ،انتظام کو کیا کہیں ،سمجھ سے باہر ہے! تعلیمی سال 2018-2019نصف گزر کر دو تین مہینے میں سالانہ امتحان ہونے ہیں۔ اب تک بھٹکل کے سرکاری ہائی اسکولوں کو سرکاری شو بھاگیہ میسر نہیں ، نہ کوئی پوچھنے والا ہے نہ  سننے والا۔شاید یہی وجہ ہے کہ محکمہ تعلیم شو، ساکس کی تقسیم کا ...

سوشیل میڈیا اور ہماراسماج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (از: سید سالک برماور ندوی)

اکیسویں صدی کے ٹکنالوجی انقلاب نے دنیا کو گلوبل ویلیج بنادیا ہے۔ جدید دنیا کی حیرت انگیزترقیات کا کرشمہ ہے کہ مہینوں کا فاصلہ میلوں میں اورمیلوں کا،منٹوں میں جبکہ منٹ کامعاملہ اب سیکنڈ میں طےپاتا ہے۔

جیل میں بندہیرا گروپ کی ڈائریکٹر نوہیرانے فوٹو شاپ جعلسازی سے عوام کو دیا دھوکہ۔ گلف نیوز کا انکشاف

دبئی سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت انگریزی اخبار گلف نیوز نے ہیرا گولڈ کی ڈائرکٹر نوہیرا شیخ کی جعلسازی کا بھانڈہ پھوڑتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ    کس طرح اس نے فوٹو شاپ کا استعمال کرتے ہوئے بڑے بڑے ایوارڈ حاصل کرنے اور مشہور ومعروف شخصیات کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز ...

کہ اکبر نام لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔!ایم ودود ساجد

میری ایم جے اکبر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔میں جس وقت ویوز ٹائمز کا چیف ایڈیٹر تھا تو ان کے روزنامہ Asian Age کا دفتر جنوبی دہلی میں‘ہمارے دفتر کے قریب تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ 2003/04 میں شاہی مہمان کے طورپرحج بیت اللہ سے واپس آئے تو انہوں نے مکہ کانفرنس کے تعلق سے ایک طویل مضمون تحریر ...

بھٹکل کے ہیبلے میں ناراض عوام نے لیا رکن اسمبلی کو آڑے ہاتھ؛ احتجاج کے باوجود رکھا گیا دو اسکولوں اور دو کالجوں کا سنگ بنیاد

بھٹکل رکن اسمبلی سُنیل نائک کو آج اتوار کو ہیبلے کے لوگوں نے اُس وقت آڑے ہاتھ لیتے ہوئے احتجاج کیا جب وہ وہاں سرکاری ہاڈی زمین پر دو اسکولوں اور دو کالجوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے پہنچے تھے۔ 

بنگلورومیٹرو برڈج میں خرابی کا نائب وزیراعلیٰ پرمیشور نے معائنہ کیا

شہر کے ایم جی روڈ پر ٹرینٹی سرکل کے قریب ایم جی روڈ بیپنا ہلی میٹرو روٹ کے پلر نمبر 155کے قریب ایک بیم میں دراڑ کا آج نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے معائنہ کیا اور کہاکہ اس سلسلے میں مرمت کا کام جاری ہے۔

ریاست کرناٹک کابینہ کی توسیع میں تاخیر کا امکان

نائب وزیر اعلیٰ ٖ ڈاکٹر جی پرمیشور نے آج کہا کہ کانگریس صدر راہل گاندھی کی مصروفیات اور پارٹی اعلیٰ کمان کی طرف سے ہری جھنڈی نہ ملنے کے سبب 22 دسمبر کو ریاست میں کابینہ کی مجوزہ توسیع ملتوی ہو سکتی ہے ۔

رافیل ڈیل پر فیصلے میں مبنی بر حقائق ’ اصلاح ‘کی مانگ کو لے عدلیہ پہنچی مرکزی حکومت

رافیل ڈیل پر سپریم کورٹ کے فیصلہ اور اس پر مچے سیاسی گھمسان کے درمیان مرکزی حکومت ایک بار پھر عدالت عظمی پہنچی ہے۔حکومت نے عرضی داخل کرکے رافیل ڈیل پر دیئے گئے فیصلے میں مبنی بر حقائق اصلاح کا مطالبہ کیا ہے۔ مرکز نے سپریم کورٹ سے فیصلے کے اس پیراگراف میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے، ...

دبئی: پکڑا گیا چھوٹا شکیل کا بھائی،ہندوستان حراست کی کوشش میں 

انڈر ورلڈ ڈان چھوٹا شکیل کے بھائی انور کو ابو ظہبی کے ایئر پورٹ پر کسٹم پولیس نے جمعہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ انور کے پاس پاکستان کا پاسپورٹ ہے۔گرفتاری کے بعد بھارتی سفارت خانہ چھوٹا شکیل کے بھائی انور کو اپنے گرفت میں لینے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ پاکستانی سفارت خانہ بھی اسے ...