زانیوں کے لیے میں جلاد بننے کے لیے تیار ہوں:صنعت کارآنند مہیندرا کی ناراضگی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th April 2018, 12:26 AM | ملکی خبریں |

ممبئی16؍اپریل ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) معروف صنعت کار آنند مہیندر ا نے جموں میں کٹھوعہ اور اناؤآبروریزی معاملات سے دل برداشتہ ہوکر سوشل میڈیا پر زانیوں کے لیے جلادبننے کی پیش کش کی ہے کہ میں ملک میں کمسن لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے والے زانیوں کوپھانسی دینے کے کی غرض سے جلاد بننے کے لیے تیار ہوں۔اس طرح انہوں نے ملک بھر میں جاری ناراضگی اور احتجاج میں خودکو رضاکارانہ طورپرشامل کرلیا ہے۔گزشتہ روز گجرات کے سورت شہر میں ایک 8سالہ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کی خبر کے بعد صنعت مشتعل ہوگئے اورمہیندرا گروپ کے 62سالہ چیئرمین آنند مہیندرا نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ جلاد کا پیشہ قابل قبول اور خواہش کے مطابق نہیں ہے ،لیکن نوجوان اور کمسن لڑکیوں کے زانیوں اور قاتلوں کو پھانسی پرچڑھانے کے لیے میں رضاکارانہ طورپر یہ پیشہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہوں۔آنند مہیندر ا نے جموں میں کٹھوعہ اور اناؤآبروریزی معاملات سے دل برداشتہ ہوکر سوشل میڈیا پر زانیوں کے لیے جلادبننے کی پیش کش کی ہے۔انہوں نے اپنے ٹویٹ میں اس بات کا اظہار کیاہے کہ میں پُرسکون رہنے کے لیے کافی محنت کرتا ہوں ،لیکن ہمارے وطن عزیز میں جوکچھ ہورہا ہے ،ان واقعات کی وجہ سے میرا خون کھول رہا ہے۔ان کے ٹویٹ کے بعد فوٹوگرافر اتل کاسبیکر نے کہا کہ اس معاملہ میں آپ کو قطار میں لگنا ہوگا ،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی اس کے لیے تیار ہیں۔واضح رہے کہ کٹھوعہ اور اناؤ کے بعد سورت میں 8سالہ لڑکی کی آبروریزی کی خبر آنے کے بعد پولیس اس کی تردید کررہی ہے ،جس سے بھی عوام میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اے ایم یوریزرویشن: مولانا ولی رحمانی نے پیش کیا 50-50 کا فارمولہ، اولڈ بوائزنے ٹھکرائی تجویز

مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے متعلق  بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اے ایم یوکو لے کرپولرائزیشن کی سیاست کی جارہی ہے۔ اس پرپرسنل لا بورڈ نے 50 فیصد مسلم اور 50 فیصد دلت ریزرویشن  کی تجویز پیش کردی۔

چنئی میں 12سالہ بچی کی 7 مہینوں تک عصمت دری ؛ 17 گرفتار؛ عدالت میں وکیلوں نے کیا ملزموں پر حملہ؛ کوئی نہیں لڑے گا کیس

چنئی میں 11سال کی بچی کی مبینہ طور سے عصمت دری کرنے کے الزام میں پولیس نے18  لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان لوگوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک اپارٹمنٹ میں سات مہینوں تک بچی کا جنسی استحصال کیا۔ گرفتار ملزموں کو منگل کو کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں مشتعل ہجوم نے ملزموں کی پٹائی کردی۔