ترک بچوں اور خواتین کا جنسی استحصال کرنے والا خود ساختہ مذہبی رہنما گرفتار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 21st July 2018, 12:17 PM | عالمی خبریں |

انقرہ 21جولائی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )استنبول کی ایک عدالت نے بزعم خود ایک اسلامی فرقے کے رہنما اور ٹی وی پر تبلیغ کرنے والی شخصیت عدنان اوکتار کو 115 دیگر پیروکاروں سمیت مختلف الزامات کی مزید تفتیش کے لئے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ عدنان اوکتار پر جرائم پیشہ گینگ قائم کرنے، دھوکادہی اور جنسی استحصال کے الزامات ہیں۔

ترک خبر رساں ادارے "اناطولو" کے مطابق پولیس نے پانچ مختلف صوبوں میں کئی جائیدادوں پر کارروائی کی تاکہ مالی جرائم کے حوالے سے شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ عدنان اوکتار نے عدالت میں پیش کردہ چارج شیٹ کی صحت سے انکار کرتے ہوئے اپنی رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کے بیرون ملک روابط ترک مملکت کو کمزور کرنے کے بجائے اس کی قوت بڑھانے کا باعث ہیں۔ "مجھ پر عائد جنسی استحصال کے الزامات بے بنیاد ہیں۔"

عدنان اوکتار ۔۔۔ المعروف یحییٰ ہارون کون ہیں؟

تاہم انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے مطابق عدنان اوکتار نے 1982 میں استنبول میں اپنی اسلامی تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔ اس وقت سے عدنان اوکتار نے بہت دولت جمع کی اور اثرو رسوخ بڑھایا۔ اگرچہ ماہرین کے مطابق یہ جاننا یا معلوم کرنا مشکل ہے کہ ان کی آمدن کا ذریعہ کیا ہے۔

حال ہی میں عدنان نے ایک ٹی وی چینل شروع کیا ہے جس کو وہ اپنے عقائد کی تبلیغ جس میں بالخصوص اسلام کی تشریح کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ترکی کے صحافیوں کے مطابق عدنان کے کچھ پیروکار دن میں کام کرتے ہیں جب کہ دیگر ان کے فرقے کے حوالے سے کتابیں تحریر کرتے ہیں، میڈیا پر تشہیر کرتے ہیں یا تنظیم کے لیے کارکن بھرتی کرتے ہیں۔ہارون یحییٰ کے نام سے کتابوں میں ’نظریہ ارتقاء کے جھوٹ‘ کے بارے میں بتایا گیا ہے اور یہ کتابیں سرکاری حکام، غیر ملکی سفارت کاروں اور صحافیوں کو ارسال کی جاتی ہیں۔

مذہبی مبلغ عدنان اوکتار کا سب سے متنازع پہلو ان کی ’ خواتین پیروکاروں کی فوج‘ ہے جو بہت زیادہ ہار سنگار کرتی ہیں اور بہت کم کپڑوں میں ملبوس ہوتی ہیں اور ان خواتین کو اکثر عدنان کا چلبلی لڑکیوں کا حرم کہا جاتا ہے۔عدنان کی تنظیم کو ترک کرنے والے ارکان دعویٰ کرتے ہیں کہ عدنان اپنے پیروکاروں کی برین واشنگ کرتے ہیں، انھیں بلیک میل کیا جاتا ہے اور جنسی غلام بنایا جاتا ہے اور ان میں اکثریت خواتین کی ہے۔

یاد رہے عدنان اور ان کی تنظیم کے متعدد ارکان کئی بار مختلف مواقع پر اسرائیل جا چکے ہیں اور وہاں ان کی اعلیٰ مذہبی اور سیاسی شخصیات سے ملاقات ہو چکی ہیں جبکہ بعض سینیئر اسرائیلی حکام عدنان سے ملنے ترکی بھی آ چکے ہیں۔ ایک برس پہلے عدنان کی سربراہی میں ایک وفد نے اسرائیلی پارلیمان کا دورہ کیا تھا جہاں اعلیٰ حکام سے ملاقات کا موقع ملا اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے خصوصی طور پر تعارف کرایا گیا تھا۔

ماضی میں بھی عدنان ان الزامات کو مسترد کر چکے ہیں اور اپنی ذات پر ان حملوں کو برطانوی خفیہ سروسز کی نگرانی میں ہونے والی بین الاقوامی سازش قرار دے چکے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

شمالی کوریا جوہری ہتھیار تلف کرنے پر سنجیدہ لگتا ہے : امریکی خفیہ ادارہ

امریکی ذرائع ابلاغ سے موصولہ ا طلاع کے مطابق امریکہ کے خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے کہا ہے کہ اسے ایسے اشارے ملے ہیں جن سے لگتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار تلف کرنے پر واقعی آمادہ ہے

یہودی شرپسندوں کے طرف سے قبلہ اول پر مجرمانہ حملے جاری

فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ میں یہودی آبادکاروں کے دھاوے اور مقدس مقام کی مجرمانہ بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔ کل سوموار کو90 یہودی آباد کار اور اسرائیلی فوجی پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور قبلہ اول میں گھس کرنام نہاد مذہبی رسومات کی ...

چین پر امریکی محصولات کا سب سے بڑا پیکج نافذ العمل

امریکا میں چین سے درآمد کی جانے والی 200 ارب ڈالر کی اشیا پر 10% ٹیکس لاگو ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی نمو کے لیے خطرات میں اضافہ ہو گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس ٹیکس کو پیر کے روز عائد کیا۔ توقع ہے کہ چین فوری جواب کے طور پر امریکا سے ہر سال درآمد کی جانے والی 60 ...

ایران نواز ملیشیائیں اسرائیل کی سرحد سے محفوظ مسافت پر ہیں: روس

روس کی وزارت دفاع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی ہمنوا فورسز اپنے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ گولان کے پہاڑی علاقے سے اْتر کر شام کے اندر مشرق میں 140 کلومیٹر کی دْوری پر چلی گئی ہیں۔وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ تقریبا 1050 عسکری اہل کار مذکورہ علاقے سے انخلا کے بعد اتنی مسافت پر چلے گئے ہیں ...