الٰہ آباد میں لاء کے طالب علم کا پیٹ پیٹ کر قتل ، احتجاجاً مسافر بس نذرِ آتش

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th February 2018, 8:21 PM | ملکی خبریں |

الہ آباد12 فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) الہ آباد میں لاء اسٹوڈنٹ کے پیٹ پیٹ کر قتل کے معاملہ کے بعد سنگم نگری کا ماحول مکمل طور پر گرما گیا ہے۔ 26 سال کے دلیپ سروج کی موت اتوار کو ہو گئی تھی۔ دلیپ کے قتل کے خلاف الہ آباد میں احتجاج میں اشتعال پیدا ہوگیا ۔ طالب علم کے قتل کی مخالفت میں ایک بس کو آگ کی نذر کردی گئی ۔ پیر کو طالب علموں نے قتل کی مخالفت میں نعرے لگائے اور پر اشتعال احتجاج بھی کئے ۔ اس کے بعد تشدد کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کو بھی بلایا گیا ہے۔پولیس نے اس درمیان قتل کے اہم ملزم وجے شنکر سنگھ کے ڈرائیور کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ اس معاملہ میں اب تک دوکی گرفتاری بھی ہو چکی ہے۔ واضح ہوکہ اس معاملہ میں پہلی گرفتاری اس ریستوران کے ویٹر منا چوہان کی ہوئی ہے، جس نے دلیپ کے سر پر ہاکی ا سٹیک سے حملہ کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق اہم ملزم وجے شنکر سنگھ کے ڈرائیور کو بھی حراست میں لیا جا چکا ہے، الہ آباد کے اسسٹنٹ ایس پی سکرتی مادھو نے کہا کہ ہم لوگ خصوصی ملزم وجے شنکر کی گرفتاری کے لئے مہم چلا رہے ہیں اور امید ہے کہ اسے بہت جلد حراست میں لے لیا جائے گا ۔غور طلب ہے کہ 9 فروری کی شام دلیپ (26) اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ کرنل گنج واقع ایک ہوٹل میں کھانا کھانے گیا تھا اور وہاں لگژری کار سے آئے کچھ لوگوں سے اس کی نوک جھونک ہو گئی تھی۔ اس کے بعد ان لوگوں نے دلیپ کو لاٹھی ڈنڈوں سے پیٹ کر بری طرح زخمی کر دیا تھا۔ ضلع کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ آکاش کلہری نے بتایا کہ دلیپ کے بھائی کی تحریر پر تین نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا تھا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور اس واقعہ کے وائرل ہوئے ویڈیو کی بنیاد پر اہم ملزم کے طور پر وجے شنکر سنگھ کی شناخت کی گئی تھی جو ہندوستانی ریلوے میں ٹی ٹی کے عہدے پر ملازم ہے، وہ ابھی فرار ہے ۔ پولس اس کی گرفتاری کے لیے ممکنہ مکانات پر چھاپہ ماری کررہی ہے ۔ طالب علم کے قتل پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ استحصال شدہ دلت سماج کے ایک ذہین ایل ایل بی کے طالب علم کا قتل پورے سماج کے لئے بڑے دکھ اور تشویش کی بات ہے۔ اس واقعہ سے سماجی تانے بانے مجروح ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ الہ آباد میں دلت طالب علم کا اس طرح ظالمانہ قتل واقعی اتر پردیش کے بی جے پی حکومت میں کوئی شرم اور کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، بلکہ ایسے دردناک واقعات مسلسل واقع ہورہے ہیں ۔ اس قتل کا مجرم کوئی اور نہیں ہے ؛ بلکہ بی جے پی کی تنگ نظری، نسل پرستی اور نفرت کی سیاست ذمہ دار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وجہ سے ہی صرف یوپی ہی نہیں ؛ بلکہ پورے ملک میں ماحول کافی زیادہ ہی زہر رآلود ہو گیا ہے۔علاوہ ازیں مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کی اترپردیش اکائی نے الہ آباد میں دلت طالب علم کی بے رحمانہ قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے طالب علم کے خاندان کیلئے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ ریاست میں یوگی حکومت آنے کے بعد جاگیردارانہ عناصر کا حوصلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ آئے دن دلتوں پر سفاکانہ حملے ہو رہے ہیں، یقینی طور پر دبنگوں کو کہیں نہ کہیں سیاسی تحفظ حاصل ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

سونیا، راہل، مکھرجی، منموہن نے راجیو گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا

سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی 27 ویں برسی پر سابق صدر پرنب مکھرجی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، کانگریس کی سینئر لیڈر سونیا گاندھی، پارٹی صدر راہل گاندھی اور ان کی بہن پرینکا گاندھی نے آج انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔