کل پیر کو ہوں گے صدارتی انتخابات ؛ تیاریاں مکمل؛ جانیں کیا ہے مکمل کارروائی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 16th July 2017, 8:30 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 16/ جولائی (ایس او نیوز). صدارتی انتخابات کا وقت ابھی قریب آ گیا ہے.کل  پیر 17 جولائی کو ملک کے اگلے صدر کے لیے پولنگ ہوگی اور 20 جولائی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی. اس کے لئے این ڈی اے کی جانب سے رام ناتھ كووند اور اپوزیشن کی جانب سے میرا کمار میدان میں ہیں. موجودہ صدر پرنب مکھرجی کی مدت آئندہ 25 جولائی کو مکمل ہو رہی ہے. خیال رہے  کہ ملک میں صدارتی انتخاب عام عمل کے تحت نہیں کیا جاتا، اس کے لئے ایک خاص عمل کو اپنایا جاتا ہے جسے الیکٹورل کالج کہتے ہیں.

اس عمل میں عوام براہ راست اپنے صدر کو نہیں چنتے، بلکہ اس کے منتخب کردہ ممبران اسمبلی اور ایم پی مل کر صدر کا انتخاب کرتے ہیں. آئیے آپ کو بتاتے ہیں کیا ہے صدارتی انتخابات کا یہ عمل اور کس طرح منتخب کیا جاتا ہے ملک کے صدر کو. یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ فی الحال لوک سبھا کے ایم پی ہیں. ان کے علاوہ کیشو پرساد موریا اور گوا کے وزیر اعلی بن چکے منوہر پاریکر بھی فی الحال ایم پی ہیں. لہذا ان کے ووٹ کی قیمت زیادہ ہے اور وہ ووٹ بھی وہیں ڈالیں گے.

یہ ہے الیکشن کی کارروائی: -

صدارتی انتخابات میں ملک کے تمام رکن اسمبلی اور ایم پی پولنگ کرتے ہیں. انتخابات میں جیت کے لئے کل 5.49 لاکھ مالیت کے ووٹ درکار  ہوتے  ہیں. انتخابات میں ہر ممبر اسمبلی اور رہنما کے ووٹ کی  اہمیت مقرر کی جاتی  ہے. اس کا حساب ہر ریاست کی آبادی اور اس کے کل ممبران اسمبلی کے تناسب سے نکالا جاتا ہے. اس کا حساب سال 1971 میں ہوئی مردم شماری سے لگایا جاتا ہے، جو سال 2026 تک چلے گا. مثلا 1971 کی مردم شماری کے مطابق مدھیہ پردیش کی آبادی 30،017،180 تھی، اور ریاست کے کل ممبران اسمبلی کی تعداد 230 ہے.

اب ان ممبران اسمبلی کے ووٹوں کا حساب  نکالنے کے لئے 30،017،180 کی تعداد کو 230 سے تقسیم کیا جاتا ہے. جو نتیجہ نکلتا ہے اسے پھر 1000 سے تقسیم  کیا جاتا ہے. اس سے جو تعداد نکل کر آتی ہے، اُسے  ریاست کے ممبران اسمبلی کے ووٹوں کی قیمت مانا جاتا ہے. اسی طرح تمام ریاستوں کی آبادی کے حساب سے ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ممبران اسمبلی کے  ووٹوں  کی قیمت طے کی جاتی ہے. ممبران پارلیمنٹ کے ووٹوں کی قیمت نکالنے کے لئے ملک کے تمام ممبران اسمبلی کی کل قیمت سے تقسیم  کر دیا جاتا ہے جو نتیجہ نکلتا ہے  وہ ممبر آف پارلیمنٹ کے ووٹ کی قیمت ہوتی ہے.

کس طرح ہوتی ہے ووٹنگ
 
ملک  کے الیکٹرل  کالج کے کل ارکان کی کل ووٹ قیمت 10،98،882 ہے. صدارتی انتخابات میں جیت کے لئے 5،49،442 ووٹ درکار ہوتے ہیں.

ووٹنگ  کے دوران ہر رکن کو بیلیٹ پیپر پر اپنی پہلی دوسری اور تیسری پسند کے امیدوار کی معلومات دینی ہوتی ہے.
اسكے بعد پہلی ترجیح کے ووٹ گنے جاتے ہیں، اس عمل سے ہی اگر مقرر 5،49،442 ووٹوں کی تعداد پوری ہو جاتی ہے تو انتخابات مکمل سمجھا جاتا ہے اور اگر پہلی ترجیح کے ووٹ پورے نہیں پڑتے ہیں تو دوسری ترجیحات کے ووٹوں کی گنتی ہوتی ہے.

کیا ہے موجودہ پارٹیوں کا حساب

-موجودا انتخابات میں کل 4120 ممبران اسمبلی اور لوک سبھا-راجیہ سبھا کے 776 رہنما ووٹ ڈالیں گے.
-فی الحال  مرکز میں حکمران این ڈی اے کے ممبر پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے حساب سے کل 532019 ووٹ ہیں.
-جيت کے لئے اسے  کل 549442 ووٹوں کی ضرورت ہے جس میں اس کے پاس 17423 ووٹ کم ہیں.

ہوائی جہاز سے جائیں گی بیلٹ باکس

صدارتی انتخابات کے لئے پیر کو سیکرٹریٹ  میں ہونے والے ووٹ کے بعد ووٹوں کے حساب کے لئے بیلٹ باکس  ہوائی جہاز سے مسافر کی طرح سفر کرتے ہوئے  دہلی پہنچے گی. اس کے لئے ہوائی جہاز میں بیلٹ باکس کے لئے سیٹ ریزرو کی جائے گی. صدارتی انتخابات کے لئے دہلی کے علاوہ ریاستوں کے دارالحکومت میں ووٹ ڈالے جائیں گے. صدارتی انتخابات کے لئے پیر کو سیکرٹریٹ کے تلک ہال میں صبح 10 سے شام پانچ بجے تک پولنگ ہوگی. ووٹوں کی گنتی دہلی میں ہو گی. ووٹ کے بعد ووٹوں سے بھرا بیلٹ باکس ہوائی جہاز سے دہلی لے جایا جائے گا. فرق یہ ہوگا کہ یہ بیلٹ باکس ہوائی جہاز کے مسافروں کے سامان کے ساتھ کارگو کنٹینرز میں نہیں رکھا جائے گا.

بیلٹ باکس کی سیٹ ہوں گی بُک 

بیلٹ باکس کو ہوائی جہاز سے دہلی جانے والے  الیکشن کمیشن کے نمائندے آپ کی بغلوں کی نشست پر رکھ کر لے جائیں گے. صدارتی انتخابات کے لئے ہفتہ کو سیکرٹریٹ میں ووٹنگ کی تیاریاں جاری ہیں. دارالحکومت میں انتخابات کے لئے ریٹرننگ افسر بنائے گئے چیف سکریٹری اسمبلی پردیپ دوبے نے ووٹ کی تیاریوں کا جائزہ لیا. ووٹنگ کے لئے آنے والے ممبران اسمبلی اور ممبران پارلیمنٹ کو ہال کے اندر قلم / پنسل اور موبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی. بیلٹ پیپر پر ووٹ دینے  کے لئے الیکشن کمیشن ممبران اسمبلی اور ممبران پارلیمنٹ کو پولنگ کے مقام پر خاص قسم کا قلم مہیا کرائے گا، جس کی سیاہی جامنی رنگ کی ہوگی. راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے اراکین کو لکھنؤ میں ووٹ ڈالنے کے لئے الیکشن کمیشن کی  وقت سے پہلے اجازت  لینی ہوگی.

ایک نظر اس پر بھی

مودی کے وارانسی پہنچنے سے پہلے بی ایچ یو کی طالبات کا مظاہرہ،مخالفت میں لڑکیوں نے سر کے بال بھی منڈوائے 

ایک طرف، حکومت بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ کی بات کرتی ہے؛ دوسری جانب، پی ایم کے پارلیمانی حلقے وارانسی میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات خود کو محفوظ نہیں محسوس کرتے ہیں۔

سونیا گاندھی کا وزیراعظم پر خواتین تحفظات بل کو لوک سبھا میں منظور کرانے پر زور

صدر کانگریس سونیا گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب لکھ کر ان پر زور دیا ہے کہ وہ لوک سبھا میں خواتین تحفظات بل کو منظور کروائیں اور ایوان میں بی جے پی کی اکثریت کا فائدہ لیتے ہوئے بل کو بہرحال منظور کردیا جاسکتا ہے۔