آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ ماضی اور حال کے آئینے میں ..... آز: محمد عمرین محفوظ رحمانی (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) ۔

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 9th February 2018, 2:01 AM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

ملت پر کوئی آنچ آئے یا ملک کسی خطرے سے دوچارہواس کے تدارک کے لئے سب سے پہلے علمائے کرام آواز بلند کرتے ہیں۔ ملک و ملت کی آبرو بچانے اور مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوششیں عام طور پر اسی طبقہ کی مرہونِ منت ہیں، ان کوششوں کی اس ملک میں لانبی تاریخ ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اسی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے ۔ مسلمانوں کا یہ مشترکہ و متحدہ پلیٹ فارم ملک وملت کی خدمت اور تحفظ دین و شریعت کا جلی عنوان اور ۲۰؍کروڑ سے زائد مسلمانوں کی آبادی والے اس ملک میں تمام مسالک ، مکاتب فکر اور مختلف طبقات کے مسلمانوں کے دل کی آواز ہے، جو آج سے ۴۴؍سال پہلے اپریل ۱۹۷۳ء میں اسی تاریخی شہرحیدرآباد میں قائم ہوا ،اس وقت کے تمام قابلِ ذکر علمائے کرام اور ملت کے قائدین اس کی تعمیر و تشکیل میں شریک ہوئے اور پھر تحفظِ شریعت اور مسلم پرسنل لاء کی بقاء کے لئے سرگرم عمل رہے۔

۱۹۷۳ء ؁ میں بڑے سنگین حالات میں بورڈ کا قیام عمل میں آیا تھااور یہ طے کیا گیا تھا کہ قانونی راستوں سے مسلمانوں کے شرعی قوانین میں کسی بھی طرح کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی اور مسلمانوں کا یہ متحدہ پلیٹ فارم ایمانی غیرت اور اتحاد کی طاقت کے ساتھ اس طرح کی کوششوں کو ناکامیاب بنانے کی بھرپور کوشش کرے گا،اللہ کا کرم ہے کہ پچھلے ۴۴؍ برسوں سے مسلمانوں کا یہ باوقار بورڈ اپنے بانیوں کے رہنما خطوط کے مطابق مسلسل خدمت انجام دے رہا ہے اور مختلف معاملات میں غیر معمولی کامیابی اسے حاصل ہوئی ہے ۔

چونکہ بورڈ کی تعمیر و تشکیل ایک ایسی عظیم شخصیت کے ذریعے ہورہی تھی جواعتدال و توازن کے عظیم جوہر سے مالا مال تھی اوراس وقت کے سنگین حالات کا بھی یہ تقاضا تھا کہ اس بورڈ کو کسی ایک جماعت کے دائرے میں محدود نہ رکھا جائے بلکہ مسلمانوں کے مختلف مسالک و مکاتبِ فکر کے علماء ، قائدین اور نمائندہ شخصیات کو اس میں شریک کیاجائے۔چنانچہ بورڈ کے قیام سے پہلے اس کے بانی امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی ؒ نے مختلف مسالک و مکاتبِ فکر کے منتخب اشخاص کو جوڑنے کی بھرپور کوشش کی اور بورڈ کے باضابطہ قیام سے پہلے ۲۷،۲۸؍دسمبر ۱۹۷۲ء میں بمبئی کے آزاد میدان میں منعقدہونے والے مسلم پرسنل لاء کنونشن میں مسلمانوں کے مختلف مسلک و مشرب کے قائدین کا جو اتحاد اور ایک دوسرے سے محبت کا اظہار اور مل جل کر قانونِ شریعت کی حفاظت کا عزم دیکھنے کو ملا اس سے ملک کے مسلمانوں کو کافی اطمینان حاصل ہوا ،مختلف مسالک و مکاتبِ فکر کے افراد کو یکجا کرنے اور ان کو مشترکہ طور پر بلند مقاصد کے لئے جدو جہد اور کوشش و کاوش کی راہ پر لانے کا معاملہ کہنے اور لکھنے کے لئے جتنا آسان ہے عملی لحاظ سے اتنا ہی دشوار گزار ہے ۔ اللہ تعالیٰ حضرت امیر شریعت کی تربت کو ٹھنڈا رکھے کہ انہوں نے اس مشکل کو آسان کرنے کے لئے بے پناہ جدو جہد کی ،وہ نہ تھکے نہ ہارے ، نہ شکست حوصلہ ہوئے اور نہ ہی کسی مرحلے میں اپنے مشن سے بددل ہوئے ، وہ مخلصانہ جدو جہد کی کامیابی پر یقین رکھتے تھے اور انہیں اس بات کا احساس تھا کہ منزل چاہے کتنی ہی دور ہو اور ہدف چاہے کتنا ہی بلند، مسلسل چلنے اور چلتے رہنے والا انسان ایک دن منزل پر پہنچ ہی جاتا ہے اورہدف کا طلبگار ایک نہ ایک دن اپنے ہدف کو پالیتا ہے۔

مل ہی جائے گا ہدف خواہ ہو کتنا ہی بلند
شرط یہ ہے کہ کوشش اسی معیار کی ہو

حضرت امیر شریعت ؒ کا اخلاص کہہ لیجئے یا ان کی دعائے نیم شبی کا اثر ،کہ بورڈ کا کارواں اپنے بانی کے تشکیل کردہ رہنما خطوط پر آگے بڑھتا جارہاہے اور جن مقاصد کے تحت اس کا قیام عمل میں آیا تھا ان میں اسے بھرپور کامیابی ملتی رہی ہے۔

بورڈ کے قیام کے وقت متبنّٰی بل کا مرحلہ درپیش تھاجس میں اسلامی قانون کے برخلاف لے پالک بیٹے کو حقیقی اولاد کا درجہ دیا گیا تھا۔علمائے کرام اور قائدین ملت بالخصوص امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی ؒ نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اورمتبنّیٰ بل واپس لیا گیا۔اس کے بعدایمرجنسی کے تاریک دور میں جبری نس بندی کے قانون کے خلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ نے جرأت مندانہ اقدامات کئے اور ان سنگین حالات میں جب کہ بولنے والی زبانیں خاموش تھیں اور لکھنے والوں کے قلم ٹوٹ چکے تھے ،آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی آواز گونجی اور گونجتی چلی گئی۔بورڈ کے بانی اور جنرل سکریٹری مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ نے فیمیلی پلاننگ کے نام سے ایک رسالہ لکھ کر جہاد بالقلم کا فریضہ انجام دیا اور اسے پورے ملک میں تقسیم کروا کر مسلمانوں کو شرعی حکم سے واقف کرایا ،بورڈ کے مخلص کارکنوں کی جدو جہد نے حالات کی سنگینی کا رخ موڑ دیا اور وہ دشوار گزار مرحلہ- جس میں اچھے اچھوں نے ہمت ہار دی تھی-گزر گیا،بورڈ کا یہ ایسا کارنامہ اورجرأت و عزیمت سے لبریز ایسا اقدام ہے جس نے ملک کے ہر ایک مسلمان کو بورڈ کا احسان مندبنادیا۔پھر ۱۹۷۸ء میں دو مساجد اور ایک قبرستان کی جگہ کا معاملہ سامنے آیا جسے الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ نے میونسپل کارپوریشن کی جگہ قرار دے دیا تھا۔ بورڈ کے ذمہ داران نے بڑی حکمتِ عملی کے ساتھ اس فیصلے کی غلطیوں کوواضح کیا اور بالآخر یہ فیصلہ واپس لیاگیا۔۱۹۸۶ء میں اندور کی شاہ بانو نامی خاتون کے مقدمے کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے تاحیات نفقۂ مطلقہ کا فیصلہ کیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس کے خلاف شدید احتجاج کیااوراس فیصلے کیخامیاں پورے ملک کے مسلمانوں کے سامنے واضح کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کے گوشے گوشے میں مسلمانوں نے اس فیصلے کو شریعت اسلامی میں مداخلت قرار دیا اور اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف احتجاج کو منظم کیا ۔ اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے مسلمانوں کے تیور دیکھتے ہوئے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون میں مناسب ترمیم کروائی۔یہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی بڑی جیت تھی ،جس نے اس ملک میں مسلمانوں کے وقار و اعتبار میں اضافہ کیا،ادھر حال کے چند برسوں میں بھی بورڈ کو مختلف مسائل کی نمائندگی اوراس نمائندگی کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے اثرات کی بناء پر بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔۲۰۰۲ء میں وزارتی گروپ کی رپورٹ سامنے آئی جس میں مدارس اسلامیہ کو دہشت گردی کا اڈہ قرار دیا گیا۔ بورڈ نے اس کا سخت نوٹس لیا اور ملک کے عظیم قائدحضرت مولانا محمد ولی رحمانی نے اس رپورٹ کا مفصل تجزیہ رسالے کی شکل میں کیا اورمختلف جلسے ، کنونشن اورسیمینار منعقد کرکے، اسی کے ساتھ ساتھ اربابِ اقتدار کومتوجہ فرماکر مدارس پر منڈلاتے ہوئے خطرات کے بادلوں کو دور کیا۔۲۰۱۰ء میں مدارس اسلامیہ کو ختم کرنے کی ایک دوسری سازش بڑے خوبصورت عنوان ’’مفت اور لازمی حق تعلیم قانون‘‘کے نام سے سامنے آئی تو بورڈ نے پہلے مرحلے میں افہام و تفہیم کے ذریعے اسے حل کرنے کی کوشش کی، لیکن جب ارباب اقتدار کے کانوں پر جوں نہ رینگی تو ۲۶؍نومبر ۲۰۱۱ء کو دہلی کے اجلاسِ عاملہ میں اس قانون اور مزید ۳؍قوانین (وقف بل ،ڈائریکٹ ٹیکسیز کوڈ ، زرعی جائداد میں عورت کے حصے سے متعلق قانون)کے سلسلے میں آئینی حقوق بچاؤ تحریک چلانے کا فیصلہ کیااورپورے ملک میں اس زورو شور کے ساتھ تحریک آگے بڑھی اور مسلمانوں میں ان مسائل کے تئیں ایسی بیداری پیدا ہوئی کہ حکومت کو’’مفت اور لازمی حق تعلیم قانون‘‘ سے مدارس کو مستثنی قرار دینا پڑا۔
پچھلے چندسالوں میں بورڈ نے کچھ ایسی تحریکیں بھی شروع کیں،جونہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے ملک کے باشندوں کے حق میں باعثِ رحمت ثابت ہوئیں،مثلاً دختر کُشی کی لعنت کے خلاف جاری کی گئی تحریک ، تلک جہیز مٹاؤ تحریک ، اسی طرح بورڈ کے ۲۳؍ویں اجلاسِ عام میں جو قراردادیں باتفاقِ رائے منظور کی گئیں ان میں ایک قرارداد عورتوں کی عصمت و عفت کی حفاظت کے سلسلے میں تھی، جس میں دہلی میں ہوئے اجتماعی آبروریزی کے بھیانک واقعے کے پس منظر میں یہ بات کہی گئی تھی کہ عورتوں کی عصمت و عفت کی حفاظت ضروری ہے اوراس کے لئے ملک میں ایسے مؤثر قوانین بنائے جانے چاہئیں اور ایسی کوششیں کی جانی چا ہئیں ،جن کے ذریعے خواتین کی عزت وناموس کی حفاظت کی جاسکے۔کاش کہ حکومت نے بورڈ کے اس مطالبے پر توجہ دی ہوتی اور خواتین کی عصمت و عفت کی حفاظت کے سلسلے میں مؤثر کوششیں کی جاتیں تو مظلوم نربھیاکے بعد سے اب تک عصمت دری کے ہزاروں درد ناک واقعات پیش نہ آتے،خصوصاً گذشتہ دنوں یوپی کے پرتاپ گڑھ ضلع میں مسلم ٹیچررابعہ نامی خاتون کے ساتھ انسانیت کو شرمسار کرنے والا وحشت ناک واقعہ بھی رونما نہ ہوتا،جس میں نصف درجن وحشیوں نے اولاًرابعہ کی عصمت دری کی کوشش کی اور جب اس۴۴؍سالہ باغیرت اور باحوصلہ خاتون نے مخالفت کی تو انتہائی سفاکی کامظاہرہ کرتے ہوئے اس کے ہاتھ پیر توڑ ڈالے اور پورے جسم کو چاقوؤں سے گود دیا،آخر کار اسپتال میں رابعہ نے دم توڑ دیا۔ 
قانونی لڑائی کے علاوہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مسلمانوں کو احکامِ شریعت اور اسلامی قوانین پر قائم کرنے اور ان میں شرعی قوانین کی عظمت پیدا کرنے کے لئے ’’اصلاح معاشرہ‘‘اور ’’دارالقضاء‘‘کے ذریعے عظیم خدمت انجام دی،مرکز میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سے مسلمانان ہند کے اسلامی تشخص اورایمانی وجود پر ہرروز ایک نئی جہت سے حملہ کیاجارہاہے،خصوصاً طلاق ثلاثہ کو عنوان بنا کر خواتین کی ہمدردی کے نام پر موجودہ حکومت نے طلاق ثلاثہ کے خلاف اپنا مجوزہ قانون لوک سبھا میں پاس کروا لیا ہے،جو آئین ہند اور شریعت کی روح کے خلاف ہے،اس قانون کے ذریعے حکومت کا مقصد جہاں شریعت میں مداخلت ہے وہیں ملک میں یکساں سول کوڈ کی راہ ہموار کرنے کی کوشش بھی ہے،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے حکومت کی ان مذموم کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جانب سپریم کورٹ میں قانونی لڑائی لڑی تودوسری جانب پورے ملک میں تحفظ شریعت اور اصلاح معاشرہ کے عنوان سے سینکڑوں مقامات پر دینی جلسوں کا انعقاد کر کے مسلمانوں میں نکاح اور طلاق سے متعلق بیداری پیدا کی، مجموعی لحاظ سے ان تمام جلسوں میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان مرد وخواتین شریک ہوئے اور شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کاعہد کیا،اسی کے ساتھ حکومت کی جانب سے شریعت میں مداخلت کی جو کوششیں کی جارہی ہیں ،ان پر اپنی سخت ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کوششوں سے باز رہے اور دستور ہند نے اپنے مذہب پرعمل کرنے کی جو آزادی مسلمانوں کو دی ہے اس کو ختم کرنے کی کوشش نہ کرے۔

بورڈ کا یہ قافلہ صدر محترم مرشدالامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم کی سرپرستی اورجنرل سکریٹری مفکراسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی قیادت پورے جوش و خروش کے ساتھ رواں دواں ہے،ملک کے موجودہ نازک حالات میں ملک کے مسلمانوں کی بورڈ سے بڑی امیدیں بندھی ہیں اور بورڈ پر ان کا اعتماد بھی بڑھا ہے۔الحمد ﷲ!ملک کا ہر مسلک و مشرب کامسلمان بورڈ کے ساتھ ہے اور ساتھ رہے گا۔ ان شاء اللہ!

اس مضمون کوامیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی کے اس فکر انگیز پیغام پر ختم کرتا ہوں۔
’’ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا کارواں میری نظر میں بڑا محترم ہے ، اور اس کی خدمت دین و دنیا میں کامیابی و کامرانی اور اجرو ثواب کا ذریعہ ہیں ۔ اور ہمارا یہ بورڈ مسلمانانِ ہند کا متحدہ ادارہ ہے ، مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تاریخ ایمان و یقین کے متوالوں کی تاریخ ہے ، بصارت و بصیرت ، جرأت و عزیمت کی تاریخ ہے ، صبرو برداشت، احتیاط و پرہیز کے ساتھ سوز دروں اور جذب وجنوں کی تاریخ ہے ، بر وقت فیصلے اور فیصلوں پر مسلسل عمل کی تاریخ ہے، وہ احتیاط جو بزدلی کا تحفہ دے ، وہ پرہیز جو حالات سے گریز سکھائے، وہ صبر جو ظلم مسلسل کی حسین تعبیر تلاش کرے اور وہ برداشت جو بے عملی تک پہونچا دے، زندہ افراد اور زندہ اداروں کے لئے نہ قابل قبول ہے اور نہ گوارہ! اس بورڈ پر الحمدللہ نہ صرف ملت اسلامیہ کو اعتماد ہے بلکہ پورا ملک اس کے فیصلوں کو سننے کا منتظر رہا ہے، بزرگوں کی یہ امانت قابل قدر بھی ہے لائق شکر بھی، اور ہر لحاظ سے اس کی مستحق ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے، اسے ترقی دی جائے ، اور ہم سبھوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنی انفرادیت ، مسلک و مشرب کے فاصلوں اور جماعتی حلقہ بندیوں سے بلند ہوکر صرف دین کی سربلندی اور ملت اسلامیہ کی بہی خواہی کی خاطر ا س سمندر میں ضم ہوجائیں اور ہم میں سے ہر ایک کی انفرادیت موتی کی طرح سمندر کی تہ میں رہے جس سے سمندر کا وقارووزن تو بڑھے ، مگر اس کی روانی میں کوئی فرق نہ آئے ۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...

لوک سبھا انتخابات؛ آخری مراحل کے انتخابات جاری؛ 918 اُمیدواروں کی قسمت داو پر؛ ای وی ایم میں خرابی کی شکایتیں؛ بنگال میں دو کاروں پر حملہ

لوک سبھا انتخابات کے ساتویں  اور آخری مرحلہ کے لئے اتوار کی صبح 7 بجے سے ووٹنگ جاری ہے۔جس میں  918 امیدواروں کی قسمت دائو پر لگی ہوئی ہے۔آج جاری انتخابات میں  وزیر اعظم نریندر مودی کا حلقہ انتخاب وارانسی بھی شامل ہے۔ 

دہشت گرد ہر مذہب میں ہیں: کمل ہاسن

تنازعات میں گھرے اداکار لیڈر کمل ہاسن نے جمعہ کو کہا کہ ہر مذہب میں دہشت گرد ہوتے ہیں اور کوئی بھی اپنے مذہب کوبہترین ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

بی جے پی کو280 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی، این ڈی اے کی سیٹیں 300 سے متجاوز ہوں گی: پی مرلیدھر راؤ

بی جے پی لیڈر رام مادھو کے تخمینے کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر لیڈر پی مرلیدھر راؤ نے کہا کہ بھگوا پارٹی کو 280 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی جبکہ این ڈی اے کے سیٹوں کی تعداد 300 کے پار ہوں گی۔

مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملہ: اے ٹی ایس کی عدالت سے غیر حاضری کے معاملے میں عدالت کا دخل دینے سے انکار

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ متاثرین جانب سے خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل عرضداشت جس میں اس معاملے کی سب سے پہلے تفتیش کرنے والی تفتیشی ایجنسی ATSکی عدالت سے غیرحاضری پر سوال اٹھایا گیا تھا کو عدالت نے یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ اے ٹی ایس کو پابند کرنا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے ...

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...

بلقیس بانو کیس۔ انصاف کی جدوجہد کا ایک سنگ میل ......... آز: ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

سترہ سال کی ایک لمبی اور طویل عدالتی جدوجہد کے بعد بلقیس بانو کو ہمارے ملک کی عدالت عالیہ سے انصاف حاصل کرنے میں فتح حاصل ہوئی جس فتح کا اعلان کرتے ہوئے عدالت عالیہ (سپریم کورٹ آف انڈیا) نے گجرات سرکار کو حکم دیا کہ وہ بلقیس بانو کو پچاس لاکھ روپے معاوضہ کے ساتھ ساتھ سرکاری نوکری ...

بھٹکل کے نشیبی علاقوں میں کنووں کے ساتھ شرابی ندی بھی سوکھ گئی؛ کیا ذمہ داران شرابی ندی کو گٹر میں تبدیل ہونے سے روک پائیں گے ؟

ایک طرف شدت کی گرمی سے بھٹکل کے عوام پریشان ہیں تو وہیں پانی کی قلت سے  عوام دوہری پریشانی میں مبتلا ہیں، بلندی والے بعض علاقوں میں گرمی کے موسم میں کنووں میں پانی  کی قلت  یا کنووں کا سوکھ جانا   عام بات تھی، مگر اس بار غالباً پہلی بار نشیبی علاقوں میں  بھی پانی کی شدید قلت ...

مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی 2008کے بعد ہونے والے بم دھماکوں اور قتل کااصل سرغنہ۔ مہاراشٹرا اے ٹی ایس کا خلاصہ

مہاراشٹرا اینٹی ٹیرورازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کا کہنا ہے کہ سن  2008 کے بعد ہونے والے بہت سارے بم دھماکوں اور پنسارے، دابولکر، کلبرگی اور گوری لنکیش جیسے ادیبوں اور دانشوروں کے قتل کا سرغنہ اورنگ آباد کا رہنے والا مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی ہے۔

اب انگلش میڈیم کے سرکاری اسکول ؛ انگریزی میڈیم پڑھانے والے والدین کے لئے خوشخبری۔ ضلع شمالی کینرا میں ہوگا 26سرکاری انگلش میڈیم اسکولوں کا آغاز

سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے داخلے میں کمی اور والدین کی طرف سے انگلش میڈیم اسکولوں میں اپنے بچوں کے داخلے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اب سرکاری اسکولوں میں بھی انگلش میڈیم کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ بنایاگیا ہے۔

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...