ہندی میں خطاب کرنے اب میدان میں اُترے گی ممتا بینرجی؛ کیا ان کا اُترنا وزیراعظم مودی کیلئے خطرے کی گھنٹی تو نہیں ؟

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 29th December 2016, 3:08 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

کولکاتا 28؍دسمبر(ایجنسی) نوٹ بندی کی وجہ سے پیدا شدہ کرنسی بحران کے بعد مرکزی حکومت کے خلاف مورچہ کھولنے والی ممتا بنرجی اب ہندی بیلٹوں میں وزیر اعظم مودی کا مقابلہ کرنے کیلئے کمرکستی ہوئی نظر آرہی ہیں اور اخباری رپورٹوں پر بھروسہ کریں تو ممتا بینرجی اب ہندی زبان پر عبور حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔

ذرائع سے ملی خبر کے مطابق دارجلنگ میں نیپالی اور مدنی پور میں سنتھالی زبان بول کرعوام کا دل جیتنے والی ممتا بنرجی ہندی بیلٹ میں وزیر اعظم مودی کے خلاف اپنی مہم کوپراثر بنانے کیلئے ہندی زبان پر مکمل عبور حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔اگلے عشرے میں ممتا بنرجی کرنسی بحران پر لکھنو اور پٹنہ میں عوامی ریلی سے خطاب کرنے والی ہیں ۔ ترنمول کانگریس کے ذرائع کے مطابق ممتا بنرجی اس کیلئے ایک ہندی ٹیچر کی مدد لے رہی ہیں اور اپنے ساتھ ہندی ۔بنگلہ ڈکشنری بھی ساتھ میں رکھ رہی ہیں ۔سمجھا جارہا ہے کہ اگر ممتا بنرجی ہندی میں عبور حاصل کرتے ہوئے عوامی خطاب کرنے میدان میں اُترئیں گی تو مودی کے لئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوں گی۔

حال ہی میں ممتا بنرجی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ 1984سے دہلی میں رہتے ہوئے آرہی ہیں ۔ممبر پارلیمنٹ ،مرکزی وزیر رہنے کی وجہ سے ہندی بولنا سیکھ لیا تھا مگر 2011میں بنگال کا وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ہندی بولنے کی پریکٹس میں کمی آگئی ۔اس کی وجہ سے اُن کی ہندی کمزور ہوگئی۔ ترنمول کانگریس کے ذرائع کے مطابق ممتا بنرجی اپنی شاعری کی کتاب ہندی میں لارہی ہیں ۔اس سے قبل ان کا مجموعہ کلام اردو زبان میں آچکا ہے ۔اس کے علاوہ 2013میں شایع ہونے والی ممتا بنرجی کی سوانح عمری میری سنگھرس پر یاترا کا ہندی ترجمہ بھی ہورہا ہے ۔

ہندی اخبار سن مارگ کے ایڈیٹر و ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر وویک گپتا ممتا بنرجی کی ہندی تقریر کی تیاری میں تعاون کرتے ہیں ۔16نومبر کو ممتا بنرجی نے ہندی میں ٹویٹ کیا تھا اور اس میں دہلی کے آزاد مارکیٹ میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کے ساتھ مشترکہ ریلی کا اعلان کیا گیا تھا ۔اس کے بعد انہوں نے اپنی کئی ٹویٹ ہندی میں کرکے وزیر اعظم مودی کی تنقید کی تھی۔ دیگر بنگالی لیڈروں کے مقابلے ممتا بنرجی کی ہندی زبان کی صلاحیت بہتر ہے اور وہ آسانی سے ہندی میں تقریر کرلیتی ہیں او ر وہ اپنی تقریروں میں علامہ اقبال کے اشعار کو بھی پڑھتی ہیں ۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل کی نوائط برادری کا جذبۂ اخلاص جس کی تشہیر ہونی چاہیے۔۔۔۔(محمد رضا مانوی کی کنڑا تحریر کا اُردو ترجمہ)

ساحل سمندر کے خوبصورت قدرتی نظارے سے گھِرا ہوا شہر بھٹکل اکثر وبیشتر اخبارات کی منفی سرخیوں میں رہا کرتا ہے۔لیکن اس بارایک مثبت خبر کے لئے اسے بین الاقوامی سطح پر اخباروں کی زینت بننا چاہیے تھا۔کیونکہ اپنے وطن سے ہزاروں کیلومیٹر دورگزشتہ نو مہینوں سے کوما کی حالت میں سعودی ...

اگر ایجنڈا ترقی کا ہے تو فرقہ پرستی کی باتیں کیوں؟ کیا اشتعال انگیزی پر گرفت نہ کرنے کا مطلب رضا مندی  نہیں ؟

یوں تو بی جے پی لیڈر سال بھر ملک کی ترقی، حالات بدلنے کی باتیں کرتے نہیں تھکتے لیکن جب الیکشن ہو وہ بھی ملک کی سب سے بڑی اور سبب سے حّساس ریاست اُتر پردیش میں بلی تھیلے سے باہر آ ہی جاتی ہے

یو پی اسمبلی انتخابات: سب کی نگاہیں دلت مسلم پر مرکوز ۔۔۔۔ از:عبد المعید ازہری

یہ موجودہ سیاست کی ناکامی ہے یا سیاست دانوں کی نا اہلی ہے کہ سیاست کا با ضابطہ تعمیر ترقی کا خاکہ تعصب اور بے ایمانی کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔ آج کے انتخابات کیلئے پیسہ، پاور اور ظلم و زیادتی لازم ہوتے جا رہے ہیں۔ دنگے اور فرقہ وارانہ فسادات کسی بھی انتخابی مہم کا اہم حصّہ ہوتے جا ...

نئی نسل کے لیے ایک بہترین دینی تحفہ مولانا الیاس ندوی کی مجالس نبوی ﷺ

حضورﷺ کی سیرتِ مقدسہ ایک بے مثال،ابدی عملی نمونہ ہے ، جو زندگی کےاعلیٰ وارفع مقصد کے حصول میں بہتر سے بہتررہنمائی کرتاہے تو  چھوٹے  چھوٹے ، معمولی مسائل کو بھی اپنے اندر سمیٹا ہواہے اور اس کی اہم اور خاص خصوصیت یہ ہےکہ یہ عملی نمونہ دنیا کے ساتھ اخروی زندگی کی کامیابی کی ضمانت ...

بہاری نوجوان کو ملی دوبارہ ہوش و حواس کی زندگی؛ گنگولی کے معروف سوشیل ورکر ابراہیم ایم ایچ کی کوششوں کا نتیجہ

گنگولی سے ساحل آن لائن کے نمائندے اور معروف سوشیل ورکر ابراہیم کی کوشش اور کیرالہ میں بے یار ومددگار افراد کے لئے سہارا بننے والے ادارے 'سنیہا لیہ'کے تعاون سے برسوں سے پاگل پن کا شکارہوکر در بدر بھٹکنے والے بہاری نوجوان کو دوبارہ ہوش و حواس کی زندگی ملی اور اپنے خاندان کے ساتھ ...

مسلمانوں کے داخلی انتشار کا سد باب کون کرے؟ از:عبدالمعیدازہری

جہاں اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اسلام، انسانیت کی بنیاد پر اتحاد واتفاق اور رواداری کا مذہب ہے، وہیں یہ بات بھی افسوس کے ساتھ قابل یقین اور سبق آموز ہے کہ پوری دنیا کو اتحاد کی دعوت دینے والے مسلمان خود کئی فرقوں اور جماعتوں میں بٹ گئے ہیں۔