زہریلی شراب سے موتیں: اکھلیش کا طنز، شراب پینے سے ہو گی گؤسیوا، پی کر مر رہے ہیں لوگ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 9th February 2019, 12:36 PM | ملکی خبریں |

لکھنؤ،9؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)زہریلی شراب سے اتر پردیش میں ہو رہی اموات پر سماج وادی پارٹی کے صدر اور یوپی کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے یوگی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ اکھلیش نے کہا ہے کہ زہریلی شراب سے اموات کی ذمہ دار یوگی حکومت ہے۔

یوگی حکومت نے شراب پر گو بہبود ٹیکس لگایا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ شراب زیادہ پئیں گے تو گایوں کی سیوا اچھی ہوگی، انہیں یہ نہیں معلوم کہ شراب کون سی پینی ہے۔راجدھانی لکھنؤ کے سماجوادی پارٹی کے دفتر میں اکھلیش نے کہاکہ شراب پینے سے ہو سکتا ہے کہ لوگوں کی جان سے زیادہ جائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو حکومت نے لالچ دیا ہے کہ گائے کی سیوا اچھی تبھی ہوگی، جب آپ شراب سے زیادہ پئیں گے لیکن ہمارے غریب لوگوں کو یہ نہیں پتہ، انہیں پینی کون (شراب) سی ہے۔ حکومت کو یہ سب پتہ ہے اور وہ شراب پینے والوں کو بڑھانا چاہتی ہے۔ حکومت کو یہ بھی پتہ ہے کہ کون ایسی شراب (زہریلی) بنا رہا ہے۔

بتا دیں کہ کچھ دنوں پہلے اترپردیش حکومت نے پوری ریاست میں گوشالائیں بنانے کے لئے گؤ بہبود ٹیکس (سیس) لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے تحت 0.5 فیصد سیس شراب کے علاوہ ان تمام اشیاء پر ہے، جس کی مصنوعات ٹیکس کے دائرے میں آتی ہیں۔یوپی میں گزشتہ دو دنوں میں زہریلی شراب پینے سے 18 افراد کی موت ہو چکی ہے۔کشی نگر میں 10 اور سہارنپور میں 8 لوگوں کی جان زہریلی شراب نے لے لی، مسلسل موت ہونے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گئی ہے، انتظامیہ میں بھی ہلچل مچی ہوئی ہے، کشی نگر میں ایس ایچ او اور آبکاری انسپکٹر سمیت 9 افراد کو معطل کر دیا گیا ہے۔اکھلیش نے کہا کہ اس حکومت میں جرائم کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ پچھلی حکومتوں کے اعداد و دیکھیں تو اس حکومت میں جرائم کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں، جیلوں سے وصولی ہو رہی ہے، جیل کے اندر قتل ہو رہا ہے،خواتین جرائم میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

ایس پی صدر نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت انگریزوں کے بنائے قوانین پر چل رہی ہے، کسان تباہ ہیں، جب کسانوں نے سڑک پر آلو پھینکے تو حکومت نے ان کے خلاف کارروائی کی، ان کے اوپر جو دفعات لگائی گئیں، وہ ایسی تھیں کہ کسی کو سمجھ نہیں آئیں۔ جب وکلاء نے بہت تلاش کیا تو پتہ چلا کہ وہ دفعات انگریزوں کی بنائی ہوئی تھیں اور انگریزوں کے بعد اگر کسی نے ان اسٹریمز استعمال کیا تو وہ بی جے پی کی حکومت ہے۔اکھلیش یادو نے اپوزیشن اتحاد کو ’مہاملاوٹ‘ قرار دینے والے وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسی ملاوٹ ہے کہ کون کہاں مٹ جائے گا، کسی کو نہیں پتہ۔

مرکز اور اتر پردیش کی بی جے پی حکومت عوام سے کئے گئے وعدے نبھانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ اس بار لوک سبھا انتخابات میں عوام بی جے پی کے خلاف بغاوت کرے گی۔اتر پردیش کے مجرموں کی طرف سے اپنے گلے میں گرفتاری کی خواہش میں تختی لٹکائے جانے کے بی جے پی صدر امت شاہ کے دعوے کا جواب دیتے ہوئے اکھلیش نے کہا کہ اگر یوگی حکومت کی کابینہ کے ہر وزیر کے گلے پر تختی لٹکا کر اس پر دفعات لکھی جائیں تو کیسی تصویر سامنے آئے گی۔سابق وزیر اعلی نے کہا کہ یہ حکومت کام کے نام پر کچھ نہیں کر رہی ہے، ہمارے منصوبوں کو ہی کاٹ پیٹ کر اور رنگ اورپوت لا رہی ہے۔ کانپور، وارانسی اور آگرہ سمیت شہروں میں میٹرو چلانے کے پروجیکٹ ہماری حکومت کے تھے، اس حکومت نے کیا کیا؟ اگر ایسا ہی ہے تو گورکھپور میں میٹرو چلا کر دکھائیں۔ سابق وزیر اعلی نے کہا کہ حکومت نے انویسٹرس سمٹ کرانے میں ہزاروں روپے بہا دیے، 4.7 لاکھ کروڑ کے ایم او یو دستخط ہوئے تھے، وہ کہاں گئے؟ نصف ہی سرمایہ کاری ریاست میں آ جاتی، اگر وہ بھی نہیں تو کم از کم ایک لاکھ کروڑ آ جاتا، کوئی ایک پیسے کی سرمایہ کاری یوپی میں نہیں ہوئی،اویسٹرس سمٹ ناکام ہو گئی، اگر سرمایہ کاری آتی تو بجٹ میں لگتی۔

ایک نظر اس پر بھی

کورٹ نے راجیو سکسینہ کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے والے عدالت کے فیصلے پر روک لگائی

سپریم کورٹ نے آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے سے منسلک منی لانڈرنگ معاملے میں سرکاری گواہ راجیو سکسینہ کو دیگر بیماریوں کا علاج کرانے کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر بدھ کو روک لگا دی