نریش اگروال بیٹے سمیت بی جے پی میں شامل، لگایا اکھلیش پر الزام

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th March 2018, 8:58 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،12؍ مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر نہ ریش اگروال آج بی جے پی میں شامل ہو گئے۔نئی دہلی میں مرکزی وزیر پیوش گوئل نے انہیں بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں پارٹی کی رکنیت دلوائی۔نریش اپنے بیٹے نتن اور کچھ اور ایس پی رہنماؤں کے ساتھ بی جے پی میں شامل ہوئے۔انہوں نے کہا کہ جب امیدواربنانے کا موقع آیا تو فلموں میں ناچنے والوں سے میرا موازنہ کرکے مجھے سائڈ لائن کر دیا گیا۔اگروال نے کہا کہ میں بی جے پی میں بغیر کسی شرط کے شامل ہوا ہوں اور کسی عہدے کے لالچ میں نہیں آیا ہوں۔اگروال نے کہا کہ راجیہ سبھا انتخابات میں ان کے ممبر اسمبلی بیٹے بی جے پی کو ووٹ دیں گے۔انہوں نے اکھلیش یادو پر نشانہ لگاتے ہوئے کہاکہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل ایس پی قومی پارٹی تھی لیکن انتخابات کے بعد علاقائی پارٹی کا درجہ بھی نہیں رہ گیا ہے اور جب چاہے تب بغیر عوام کی مرضی کی پرواہ کئے کبھی کانگریس سے تو کبھی بی ایس پی سے اتحاد کر لیتی ہے۔اگروال نے کہا کہ وہ ملائم سنگھ یادو اور رام گوپال یادو کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ اگروال نے کہا کہ آج جس طرح وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ایک ایک کرکے تمام ریاست بی جے پی کی جھولی میں آتے جا رہے ہیں وہ ظاہر کرتا ہے کہ مودی حکومت کی پالیسیوں کو عوام پسند کر رہی ہے۔انہوں نے پارٹی میں شامل کرنے کے لیے بی جے پی صدر کا شکریہ ادا کیا۔اس سے پہلے اگروال نے بی جے پی صدر امت شاہ سے ملاقات کی۔اگروال کو اس بار ایس پی نے راجیہ سبھا انتخابات میں امیدوارنہیں بنایا تھا اسی کی وجہ سے وہ پارٹی سے ناراض ہوگئے تھے۔ایس پی میں غلبہ کی جنگ کے دوران اگروال نے ملائم کے بجائے اکھلیش یادو کا ساتھ دیا تھا لیکن جب ایک سیٹ پر راجیہ سبھا امیدوار کے انتخاب کی بات آئی تو اکھلیش نے نریش اگروال کے بجائے جیا بچن کو ایوان بالا بھیجنے کا فیصلہ کیا۔نریش آج صبح اپنے بیٹے کے ساتھ دہلی کے لئے روانہ ہوئے تھے جہاں 4 بجے انہوں نے پارٹی کی رکنیت لی۔نریش اگروال کے بیٹے نتن ابھی ہردوئی سے ایس پی کے رکن اسمبلی ہیں۔ وہ اسمبلی سے استعفی دے کر دوبارہ الیکشن لڑیں گے۔نتن اکھلیش حکومت میں کابینہ وزیر رہ چکے ہیں۔ اگروال ایس پی میں آنے سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں تھے اور پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری تھے۔بی ایس پی نے انہیں لوک سبھا کا الیکشن لڑایاتھا لیکن وہ ہار گئے تھے۔اگروال بنیادی طور پر کانگریس لیڈر تھے لیکن کلیان سنگھ کی حکومت کو بچانے کے لئے ان کی قیادت میں کانگریس اتر پردیش میں منقسم ہوگئی تھی اور جمہوری کانگریس پارٹی بنائی گئی تھی۔کلیان سنگھ کی حکومت کے دوران وہ ریاست کے نائب وزیر اعلی بھی رہے۔بعد میں وہ بی ایس پی کے ساتھ آ گئے تھے اور پھر ایس پی میں ہوتے ہوئے اب بی جے پی کے ساتھ آ رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کشمیر 2002 کا گجرات بن سکتا ہے

آخر کشمیر میں گونر راج نافذ ہو ہی گیا۔ کشمیر کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہاں اب ساتویں بار گونر راج نافذ ہوا ہے ، ویسے بھی کشمیر کے حالات نا گفتہ بہہ ہیں۔ وادی کشمیر پر جب سے بی جے پی کا سایہ پڑا ہے تب ہی سے وہاں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے ۔ پہلے تو مفتی سعید اور محبوبہ مفتی نے ...

راجستھان میں ’لو جہاد‘ کے نام پر ماحول خراب کرنے کی کوشش 

راجستھان کے ہنڈون میں لو جہاد کے نام پر بجرنگ دل پر ماحول بگاڑنے کا الزام لگا یا ہے، ہنڈون کے جس کانگریس کونسلر نفیس احمد پر بجرنگ دل نے لو جہاد کا الزام لگایا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ یہ مکمل طور پر ایک من گھڑت کہانی ہے۔

چھتیس گڑھ میں مضبوط طاقت ہے کانگریس، اتحاد کی ضرورت نہیں :پی ایل پنیا

آل انڈیا کانگریس کمیٹی جنرل سیکریٹری اور چھتیس گڑھ کے پارٹی معاملات کے انچارج پی ایل پنیا کا کہنا ہے کہ کانگریس ریاست میں مضبوط قوت ہے اور اس کے اندر کسی اتحاد کے بغیر اسمبلی انتخابات جیتنے کی طاقت ہے۔

ایمرجنسی نے جمہوریت کوقانونی تاناشاہی میں بدل دیا: ارون جیٹلی

مرکزی وزیر اور سینئر بی جے پی لیڈر ارون جیٹلی نے آج یاد کیا کہ کس طرح تقریبا چار دہائی قبل وزیر اعظم اندرا گاندھی کی زیر قیادت حکومت کی طرف سے ایمرجنسی لگائی گئی تھی اور جمہوریت کو آئینی آمریت میں تبدیل کر دیا گیا۔

گنگامیں جمع گندگی کولے کرنتیش کمارکا مرکزی حکومت پرسخت حملہ

بہار کے وزیر اعلی نتیش کماران دنوں ہر روز اپنی بات کوبے باکی سے رکھ رہے ہیں۔ گزشتہ اتوار کو ہوئی نیتی آیوگ کی میٹنگ میں انہوں نے پی ایم نریندر مودی کے سامنے ریاست کے مسائل رکھنے کے بعد انہوں نے مرکزی وزیر ماحولیات ہرش وردھن کو مشورہ دیا کہ دہلی واپس جاکر مرکزی سطح وزیر ...