آئندہ 72 گھنٹوں میں شام کے خلاف ممکنہ کارروائی، فضائی کمپنیوں کے لیے انتباہ جاری

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th April 2018, 3:58 PM | عالمی خبریں |

و اشنگٹن 11اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) فضائی سلامتی کی یورپی تنظیم (یورو کنٹرول) نے فضائی کمپنیوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ 72 گھنٹوں کے دوران شام پر فضائی حملوں کے امکان کے سبب مشرق وسطی میں خبردار رہیں۔منگل کے روز جاری بیان میں یورو کنٹرول کا کہنا ہے کہ مذکورہ عرصے کے دوران فضا سے زمین میں مار کرنے والے میزائل یا کروز میزائل اور یا پھر ایک ساتھ دونوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وائرلیس نیوی گیشن سسٹم کے عمل میں وقفے وقفے سے خلل پڑنے کا بھی امکان ہے۔منگل کے روز شام کے سلسلے میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا اور روس کے بیچ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے جھڑپ ہو گئی۔ امریکا اور اس کے حلیف رواں ہفتے کے آغاز پر مبینہ طور پر زہریلی گیس کے حملے کے حوالے سے شامی حکومت کی فوج کو نشانہ بنانے پر غور کر رہے ہیں۔یورو کنٹرول تنظیم نے اپنے انتباہی بیان میں European Aviation Safety Agency کی دستاویز کا حوالہ دیا ہے تاہم اس کی کاپی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ادھر روسی نیوز ایجنسی انٹرفیکس نے منگل کے روز باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ جن فضائی کمپنیوں کی پروازیں بحیرہ روم پر سے گزرتی ہیں ان کمپنیوں کو برسلز میں آپریشنز مینجمنٹ سینٹر کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ شام پر ممکنہ میزائل حملوں کے سبب مذکورہ علاقے میں طیاروں کے رْوٹس پر نظر ثانی کیے جانے کا امکان ہے۔ ذریعے کے مطابق یہ اطلاع فضائی کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد کو دی گئی جن میں یورپ اور روس کے علاوہ آزاد ممالک کی دولت مشترکہ کے ریجن سے تعلق رکھنے والے ممالک کی کمپنیاں شامل ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

انڈونیشیا میں سیلاب اور تودے سے مرنے والوں کی تعداد 89 ہوئی

  انڈونیشیا کے مشرقی علاقے پاپوا میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 89 ہو گئی ہے اور لاپتہ 74 لوگوں کی تلاش کے لئے ریسکیو آپریشن چلایا جا رہا ہے۔ راحت رسانی مہم میں مصروف حکام نے منگل کو یہاں یہ اطلاع دی۔

پاکستان جیسے دوست ملک سے امریکہ کو ’خارش ‘ ہونے لگی : پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکہ کے لیے بڑا خطرہ ہے: مائیک پومپیو

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کو ایک انٹرویو میں امریکی سلامتی کو درپیش پانچ بڑے مسائل بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے غلط ہاتھوں میں لگ جانے کا خدشہ ان میں سے ایک ہے۔