عدالت عالیہ کے فیصلہ پرال انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی پریس ریلیز

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 27th September 2018, 8:39 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی: ۲۷؍ستمبر ۲۰۱۸ء (پریس ریلیز؍ ایس او نیوز) بابری مسجد کے سلسلہ میں سپریم کورٹ میں جو مقدمہ چل رہا تھا اس کا فیصلہ آگیا مگر یہ فیصلہ بابری مسجد کی حقیت کے معاملہ پر نہیں ہے۔ حقیت کا مقدمہ جو سپریم کورٹ میں چل رہا ہے اس پرسماعت کی تاریخ ۲۹؍اکتوبر ۲۰۱۸ء متعین کی گئی ہے، ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے اپنے اخباری بیان میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ چند دنوں میں نئے چیف جسٹس آجائیں گے اور وہ سپریم کورٹ کی بنچ کو متعین کریں گے اور اس بنچ کے سامنے پورے مقدمہ کی سماعت ہوگی۔ جہاں تک سپریم کورٹ کے آج کے فیصلہ کا تعلق ہے وہ پرپیچ ہے اور اس کی تفصیلات پر قانون دانوں سے مشورہ کیا جارہا ہے اس موضوع پر قانونی جائزہ کمیٹی کی میٹنگ بھی ہوگی اور فیصلہ کے مندرجات پر تفصیلی غور و فکر کیا جائیگا اور پھر کوئی فیصلہ کیا جائیگا۔

ایک نظر اس پر بھی

جے پی سی سے جانچ کرانے کا راستہ ا بھی کھلا ہے، عام آدمی پارٹی نے کہا،عوام کی عدالت اورپارلیمنٹ میں جواب دیناہوگا،بدعنوانی کے الزام پرقائم

آپ کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ رافیل معاملے میں جمعہ کو آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود متحدہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے اس معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کا اراستہ اب بھی کھلا ہے۔

رافیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ، راہل گاندھی معافی مانگیں: بی جے پی

فرانس سے 36 لڑاکا طیارے کی خریداری کے معاملے میں بدعنوانی کے الزامات پر سپریم کورٹ کی کلین چٹ ملنے کے بعد کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے بی جے پی نے جمعہ کو کہا کہ کانگریس پارٹی اور اس کے چیئرمین راہل گاندھی ملک کو گمراہ کرنے کیلئے معافی مانگیں۔

بھٹکل کے مرڈیشور میں دو لوگوں پر حملے کی پولس تھانہ میں دو الگ الگ شکایتیں

تعلقہ کے مرڈیشور میں کل جمعرات کو  دو لوگوں پر حملہ اور پھر جوابی حملہ کے تعلق سے آج مرڈیشور تھانہ میں دو الگ الگ شکایتیں درج کی گئی ہیں اور پولس نے دونوں پارٹیوں کی شکایت درج کرتے ہوئے چھان بین شروع کردی ہے۔