اگر ایجنڈا ترقی کا ہے تو فرقہ پرستی کی باتیں کیوں؟ کیا اشتعال انگیزی پر گرفت نہ کرنے کا مطلب رضا مندی  نہیں ؟

Source: S.O. News Service | By Saif Akrami Bhatkal | Published on 13th February 2017, 11:57 AM | اسپیشل رپورٹس |

یوں تو بی جے پی لیڈران  سال بھر ملک کی ترقی اور حالات بدلنے کی باتیں کرتے نہیں تھکتے لیکن جب الیکشن ہواور وہ بھی ملک کی سب سے بڑی اور سب سے حّساس ریاست اُتر پردیش میں تو،  بلی تھیلے سے باہر آ ہی جاتی ہے اور گھوم پھر کر بات فرقہ پرستی کی ہی ہوتی ہے۔بڑے لیڈر بھلے ہی اپنی امیج کا خیال رکھتے ہوئے اپنے انتخا بی جلسوں میں جو اُنگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں،بڑھ چڑھ کر ترقی کی باتیں کرتے ہیں،عوام کو سبز باغ دکھا تے ہیں اور دوسری پارٹیوں کو کمزور بتانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں لیکن وہ لیڈر جو دن رات ریاست میں رہتے ہیں اور پارٹی کی ریاستی سیاست کا کام سنبھالتے ہیں،وہ علاقائی سطح پر فرقہ پرستی کا اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔وہ کوئی بھی بیان دیں وہ کسی کے خلاف کچھ بھی  کہیں اور کسی کو دھمکی دیں پارٹی اُنہیں کچھ نہیں کرتی ہے دیگر پارٹیاں ان بیانات کا نوٹس لیتی رہتی ہیں۔میڈیا بھی ان کو دکھاتا اور ان پر بحث کراتا رہتا ہے لیکن پارٹی کی قیادت ایسے لیڈروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتی۔زیادہ سے زیادہ ان کے بیانات کی یا تو تاویل کردی جاتی ہے یاذ اتی رائے بتا کر پارٹی اپنا دامن جھا ڑلیتیہے اور مستقبل کے لئے بھی کوئی رہنما ہدایت جاری نہیں کی جاتی۔

حسب سابق اس بار اُتر پردیش کے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کے وہ ریاستی لیڈر جو اشتعال انگیزی کے لئے مشہور ہیں،وہی کر رہے ہیں۔اور سماج میں پھوٹ ڈال کرپارٹی کو کامیابی سے ہمکنار کرنا چاہتے ہیں۔اُن کے نزدیک ترقی کوئی معٰنی نہیں رکھتی بلکہ پھوٹ ڈالنا اُن کا مطلب ہے۔اس کے لئے وہ خود کو خبروں میں لاتے ہیں تو فرقہ پرستی کی سیاست کرتے نظر نہیں آتے اُتر پردیش میں جیسے جیسے ووٹنگ کا وقت قریب آرہا ہے تو وکاس کا خواب دکھا رہے ہیں لیکن چھوٹے لیڈر صرف فرقہ پرستی کی باتیں کر رہے ہیں ۔اب پارٹی کے لیڈر سریش رانا جو ریاستی اکائی کے نائب صدر اور تھانہ بھوں اسمبلی حلقے سے پارٹی کے اُمیدوار ہیں اور اُن کا نام 2013 کے مسلم مخالف فسادات میں بھی آچکا ہے،ان کے اس بیان کا کیا مطلب نکالا جائے جو اُنہوں نے ایک ریلی میں کہا کہ اگر وہ جیت گئے تو کیرانہ ،دیو بند اور مراد آباد میں کرفیو نافذ کردیں گے۔کیاکرینگے کہ کرفیونافذ ہوجائیگا یہ تونہیں بتایا لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔بعد میں جب میڈیا نے ان کے بیان پر بحث کرانی شروع کی تو تاویل کر کے معاملے کو رفع دفع کرنے لگے۔سوال یہ ہے کہ کیا تاویل سے مسئلہ حل ہو جائیگا ؟ایسا کہنے کی ضرورت ہی کیوں جو کسی کو پسند نہیں؟اسی طرح مظفر نگر سے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ سنجیو بالیاں کا یہ بیان  شایدہی کسی کے حلق سے اُترے جو اُنہوں نے سماج وادی پارٹی کے لیڈر ملائم سنگھ یادو کے بارے میں کہا میں اُن سے کہنا چاہتاہوں کہ اب مرنے کا وقت آگیا ہے ۔جینے کا وقت نہیں رہا۔اس طرح کے بیان سے یہ لیڈر خبروں میں رہتے ہیں لیکن پارٹی اُن کے بارے میں کیا رائے قائم کرتی ہے۔اس بابت پارٹی کا خاموشی اختیار کرنے سے صاف صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب پارٹی کی منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے تحت ہی ہوتا ہے۔جس طرح دیگر لیڈروں کو دوسرے ایشوز اُٹھانے کی ذمّہ داری دی جاتی ہے اور اُن کا داائرہ کار ا س کام تک محدرد دہوتاہے ۔اُن کے منہ سے کبھی ترقی یا عوام کی بہبودی کی باتیں نہیں نکلتی ہیں۔ایک دو بیانات ہو تو نظر انداز کیاجاسکتا ہے مگر ہر الیکشن میں ایسا دیکھنے کو ملتا ہے اور کچھ مخصوص لیڈر ہی یہ کام اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ کام کے لئے رکھے گئے ہوں  اسی لئے کسی بیان یا اشتعال انگیزی پر ان کو طلب نہیں کیا جاتا ہے نہ سرزنش کی جاتی ہے نہ آگے باز رہنے کی ہدایت جاری کی جاتی ہے۔

لوک سبھا الیکشن سے پہلے مظفر نگر فسادات کے ذریعے سماج میں پھوٹ ڈالنے کا کام کیا گیا تھا،بعد میں انتخابی مہم کے دوران فرقہ پرستی کی خوب سیاست کی گئی تھی اور یہ حربہ کامیاب بھی رہا۔ اب اسمبلی انتخابات  میں بھی وہی اشتعال انگیزی کی جارہی ہے اور تقریریں کی جارہی ہیں ایسے ایسے بیانات دئے جارہے ہیں جن کا ایک مہذب سماج میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ان سے نہ ملک کو فائدہ پہونچ سکتا ہے اور نہ عوام کو، لیکن ان کے نام پر ووٹ مانگنے اور حکومت بنانے کا کام کیا جاسکتا ہے۔بپھر وہ حکومت کیسی ہوگی جس کی بنیاد فرقہ پرستی اور اشتعال پرستی پر ڈالی جائے۔سنگیت سوم یا سریش رانا ہو،سنجیو بالیاں ہوں یا ونئے کیٹیار و آدیتہ ناتھ یوگی وغیرہ ایسے لیڈروں کی بی جے پی میں کوئی کمی نہیں ہے اور ان کا صرف ایک ہی ایجنڈا فرقہ پرستی کی سیاست کرنا ہوتا ہے۔عام حالات میں تو وہ یہ  کا م کر تے ہیں الیکشن کے دوران خاص طور پرکرتے  ہیں
اشتعال انگیز بیانات یا دھمکی کی نہ تاویل کی جاسکتی ہے اور نہ پارٹی کی خاموشی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اس کی پالیسی نہیں ہے۔ اگر لیڈر اس طرح کا کام کر رہے ہیں تو یہ پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اُن کی سرزنش کرے۔ اگر وہ نہیں کرتی ہے تو یہی سمجھا جائے کہ اس میں اس کی خاموش حمایت شامل ہے۔اس سوال کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتاہے کہ اگر یہ ترقی کا ایجنڈا ہے تو فرقہ پرستی کی باتیں کیوں؟

(بشکریہ دعوت)
 

ایک نظر اس پر بھی

اپریل فول منانا مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا! ۔۔۔۔۔ از: ندیم احمد انصاری

مزاح کرنا انسان کے لیے ضروری ہے، یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کے ذریعے انسان بہت سے غموں کو بھلا کر تروتازہ محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے مزاح کرنا اسلام اور انسانی فطرت میں معیوب نہیں سمجھا گیا، البتہ مزاح کے طریقوں پر ضرور غور کرلینا چاہیے۔

ہندوستانی فوجی جنرل نے جمہوری لائن آف کنٹرول کو پھلانگ دیا .... تحریر: مولانا محمد برہان الدین قاسمی

ہندوستانی افواج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے سیاسی جماعتوں پر تبصرہ کر کے ۲۱ فروری، بروز بدھ ملک میں ایک غیر ضروری طوفان برپا کر دیا۔ مولانا بدرالدین اجمل کی نگرانی میں چلنے والی آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ آسام کی ایک مقبول سیاسی جماعت ہے۔ جنرل بپن راوت نے دعوی کیاہے کہ ...

اسلام میں عورت کے حقوق ...............آز: گل افشاں تحسین

صدیوں سے انسانی سماج اور معاشرہ میں عورت کے مقام ومرتبہ کو لیکر گفتگو ہوتی آئی ہے ان کے حقوق کے نام پر بحثیں ہوتی آئی ہیں لیکن گذشتہ چند دہائیوں سے عورت کے حقوق کے نام پرمختلف تحریکیں اور تنظیمیں وجود میں آئی ہیں اور صنف نازک کے مقام ومرتبہ کی بحثوں نے سنجیدہ رخ اختیار کیا ...

بابری مسجد، مسلم پرسنل لابورڈ اور مولانا سید سلمان ندوی : سوشل میڈیا پر وائر ل سید سعادت اللہ حسینی کی ایک تحریر

بابری مسجد ،پرسنل لابورڈ اور مولانا سلمان ندوی صاحب وغیرہ سے متعلق جو واقعات گذشتہ چند دنوں میں پیش آئے ان کے بارے میں ہرطرف سے سوالات کی بوچھار ہے۔ ان مسائل پر اپنی گذارشات اختصار کے ساتھ درج کررہاہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی صحیح اور مبنی برعدل و اعتدال ، سوچ کی طرف رہنمائی ...

آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ ماضی اور حال کے آئینے میں ..... آز: محمد عمرین محفوظ رحمانی (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) ۔

آج جمعہ بعد نماز مغرب سے حیدرآباد میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا تین روزہ اجلاس شروع ہورہا ہے، جس میں مسلمانوں کے شرعی مسائل پر کھل کر گفتگو ہوگی۔ اسی پس منظر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ایک تعارف بورڈ کے سکریٹری کے ذریعے ہی یہاں قارئین کے لئے پیش خدمت ہے