نجیب کے بعد اب جے این یو سے ایک اور طالب علم مکل جین لاپتہ 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th January 2018, 12:53 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی،10؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) نجیب احمد کے بعد اب جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) سے ایک اور طالب علم لاپتہ ہو گیا ہے۔ لاپتہ طالب علم کی شناخت مکل جین کے نام سے کی گئی ہے۔ وہ گزشتہ دو دن سے لاپتہ ہے۔ پولیس کے مطابق غازی آباد کا رہنے والا مکل جین جے این یو میں اسکول آف لائف سائنس کا طالب علم تھا۔ وہ پیر کو جے این یو آنے کے بعد سے ہی غائب ہے۔ مکل کے اہل خانہ نے وسنت کنج تھانے میں گمشدگی کی شکایت درج کرائی ہے۔پولیس اور جے این یو انتظامیہ کی مدد سے یونیورسٹی کیمپس میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی انکوائری کرائی گئی جس میں مکل پیر کو کیمپس کے مشرقی دروازے سے دوپہر بعد ساڑھے بارہ بجے نکلتے دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے موبائل فون اور سامان کو برآمد کر لیا گیا ہے لیکن اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔اس سے پہلے 15 اکتوبر 2016 کو نجیب احمد لاپتہ ہو گیا تھا جسے لیکر جے این یو انتظامیہ اور حکومت اسٹوڈنٹس یونین کے نشانے پرہیں۔ نجیب کی گمشدگی اپوزیشن کے لیے ایک بڑا ایشو بن گیا ہے۔ سی بی آئی اسے اب تک تلاش نہیں کرپائی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

جے پی سی سے جانچ کرانے کا راستہ ا بھی کھلا ہے، عام آدمی پارٹی نے کہا،عوام کی عدالت اورپارلیمنٹ میں جواب دیناہوگا،بدعنوانی کے الزام پرقائم

آپ کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ رافیل معاملے میں جمعہ کو آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود متحدہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے اس معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کا اراستہ اب بھی کھلا ہے۔

رافیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ، راہل گاندھی معافی مانگیں: بی جے پی

فرانس سے 36 لڑاکا طیارے کی خریداری کے معاملے میں بدعنوانی کے الزامات پر سپریم کورٹ کی کلین چٹ ملنے کے بعد کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے بی جے پی نے جمعہ کو کہا کہ کانگریس پارٹی اور اس کے چیئرمین راہل گاندھی ملک کو گمراہ کرنے کیلئے معافی مانگیں۔

بے کار پڑا ہے بھٹکل بندر پر پینے کے صاف پانی کا مرکز۔ 12لاکھ روپے کا تخمینہ۔ ادھورا پڑا ہے منصوبہ

بھٹکل تعلقہ کے ماوین کوروے علاقے میں واقع بندرگاہ پر پینے کے صاف پانی کا ایک مرکز 12لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع ہوئے دو سال کا عرصہ گزرچکا ہے۔ ٹھیکے دار کی غفلت اور افسران کے کاہلی کی وجہ سے ابھی تک یہ منصوبہ پورا نہیں ہوا ہے اور عوامی استعمال کے لئے دستیاب ...