اردو میڈیم اسکولوں میں نصابی  کتب فراہم نہ ہونے  سے طلبا تعلیم سے محروم ؛ کیا یہ اُردو کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؟

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 28th July 2018, 9:55 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بھٹکل  :28/جولائی (ایس اؤ نیوز)اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی شروعات ہوکر دو مہینے بیت رہے ہیں، مگر یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ریاست کرناٹک کے 559سرکاری ، امدادی اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے لئے ابھی تک کتابیں فراہم نہیں کی گئی ہیں، جس سے بچوں کی  پڑھائی نہیں ہوپارہی ہے۔ طلبا ، اساتذہ اور والدین و سرپرستان اُردو میڈیم اسکولوں کی اس تعلیمی  صورت حال سے پریشان ہیں اور سوال کررہے ہیں کہ کیا  اُردو کو ختم کرنے کی سازش تو نہیں ہے ؟

اترکنڑا ضلع کی بات  کریں تو 6اردومیڈیم سرکاری ہائی اسکول، 8امدادی اور 3غیر امدادی سمیت کل 17اردو میڈیم کے اسکول ہیں، جہاں کل 2371طلبا زیر تعلیم ہیں۔ کنڑا اور انگریزی میڈیم کے تمام مضامین کی  کتابیں ہر اسکول میں پہنچ چکی ہیں اور وہاں باقاعدہ تدریس شروع ہوچکی ہے، مگر اردو میڈیم کے طلبا نصابی کتابوں کے بغیر  پڑھائی سے محروم ہیں۔ اساتذہ کی طرف سے کہا جارہا ہے  کہ نصابی کتابوں کے بغیر دسویں جماعت کے لئے ایف اے 1کی امتحان کیسے کریں سمجھ سے باہر ہے۔

اردو سے بے توجہی سے ریاست میں کئی اردو میڈیم اسکول بند ہوگئے ہیں، اگر حالات یوں ہی جاری رہے تو بقیہ اسکول کے دروازے بھی بند ہونے دیر نہیں لگے گی۔ سرکاری سطح پر بیان جاری کیا جاتاہے کہ مئی کے مہینے تک تمام نصابی کتابیں مہیا کی جائیں گی ، مگر اس کا نفاذ کہاں تک ہوا ہے اس کی کوئی نگرانی نہیں ہورہی ہے۔ جس کی وجہ سے طلبا سمیت اساتذہ اور والدین کو   گومگوں کی حالات  کا سامنا ہے۔

اس سلسلے میں بھٹکل اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول کے صدر مدرس شبیر دفعدار نے پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے 2مہینوں سے کتابوں کے بغیر طلبا کی تدریس مشکل ہورہی ہے۔ ریاضی، سائنس اور سماجی سائنس کے مضامین کی کتابیں نہ ہونے سےاساتذہ بھی  طلبا کو  کیا پڑھائیں اور کیا نہیں، ہم تذبذب کا شکار ہیں۔ نصاب تبدیل ہونے سے پرانی کتابیں بھی بیکار ہوگئی ہیں۔ جہاں زبانی مضامین کا تعلق ہے پرانے طلباکی کتابوں کی زیراکس کرکے چند  طلبا کو دئیے ہیں، کیونکہ سبھی طلبا کو مہیا کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایسے  حالات میں  طلبا میں اُردو میڈیم سے  تعلیمی شوق کم ہونا لازمی امر ہے۔

جب اس سلسلے میں ساحل آن لائن نے اترکنڑا ضلع ڈپٹی ڈائرکٹر این جی نایک سے رابطہ کیا تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ’’ اردو میڈیم کی چند مضامین کی کتابیں اسکولوں کو ارسال کی گئی ہیں، بقیہ مضامین کی کتابیں جلد بھیجنے کے لئے انتظام کیا جائے گا‘‘۔

محکمہ کے ایک افسر نے بتایا کہ چونکہ مئی میں انتخابات منعقد ہوئے تھے جس کی وجہ سے اردو کتابوں کی پرنٹ میں تاخیر ہوئی ہے۔ ٹکنکل سطح پر رکاوٹ ہونے کی وجہ سے ابھی تک کتابوں کی پرنٹ مکمل نہیں ہوپائی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ دیگر زبانوں کی کتابوں کے پرنٹ میں جب کوئی دشواری نہیں ہوئی تو صرف اردو کی کتابوں کی پرنٹ میں کونسی رکاوٹ تھی سرکار ہی بتائے تو بہتر ہوگا۔

اُردو اسکولوں کے طلبا کے والدین سوالات اُٹھار ہے ہیں کہ اردو کے نام پر ووٹ بٹورنے والے سیاست دان ، اپنے مفاد کی خاطر اردو کی ٹوپی پہننے والے لیڈران و ذمہ داران، اردو کے نام پر قائم تحریکیں، تنظیمیں ، اسوسی ایشنس،سوسائٹی سب اپنی جگہ خاموش کیوں ہیں۔  دو دو مہینے گزرنے پر بھی سب کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے۔ والدین اور سرپرست پوچھ رہے ہیں کہ  لیڈران  اپنی سیاست اور تنظیمی نیندوں میں خراٹے مارہے ہیں کسی کو خبر ہی نہیں کہ اردو اسکولس اگر موت کی نیند سونےو الے ہیں تو اس کے اسباب کیا ہیں ؟ سرپرستوں کے مطابق  یہ تو جگ ظاہر ہے کہ سرکاریں  اُردو کے ساتھ  سوتیلی ماں جیسا  سلوک کرتی ہیں، وہ پوچھے رہے ہیں کہ مگر اردو کے نام پر اپنی لیڈری، سیاست اور تنظیمی دکان چمکانے والے کیا کررہے ہیں ؟۔

ریاست کے اردو اور اقلیتی محکمہ کے ویب سائٹ کے مطابق ریاست میں 270سرکاری اردو میڈیم ہائی اسکولوں میں 22269طلبا زیر تعلیم ہیں تو 2401اساتذہ تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح 135امدادی اردو میڈیم ہائی اسکولوں میں 21036طلبا اور 1162اساتذہ اور 154غیر امدادی اردو میڈیم ہائی اسکولوں میں 5753طلبا اور 739اساتذہ اردو کے لئے کام کررہے ہیں۔ طلبا کی تعداد پر غور کریں تو 50ہزار سے زائد طلبا اردو میڈیم میں زیر تعلیم ہیں ، کوئی کم تعداد نہیں ہے ، لیکن اس طرح کے سنگین حالات ہونے کی وجہ سے طلبا کے ساتھ والدین کا پریشان ہونا ظاہر بات ہے۔ 

اُردو داں طبقہ سوال کررہا ہے کہ کون ایسے والدین ہونگے جو اپنے طلبا کے مستقبل کو لےکر فکر مند نہیں ہیں۔ایسے میں  والدین کے لئے ضروری ہوجائے گاکہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم اسکولوں میں داخل کرائیں ۔ عوام سوال کررہے ہیں کہ   کیا ہمارے دانشور ، مفکر ، لیڈران  اور عہدیداران بیدار ہونگے ؟

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں قربانی کے جانوروں کی ہڈیوں اور اوجھڑی کو لے جانے کی تنظیم نے پھر سونپی الہلال اسوسی ایشن کو ذمہ داری؛ فیڈریشن نے بھی کی عوام سے تعائون کی اپیل

قربانی کے جانوروں کی  ہڈیاں، اوجھڑی وغیرہ  کو گھر گھر جاکر لے جانے کی ذمہ داری مجلس اصلاح و تنظیم نے پھر ایک بار الہلال اسوسی ایشن کو سونپی ہے۔ جس کے نوجوان فون موصول ہوتے ہی متعلقہ مقام پر پہنچ کر ہڈیاں اور اوجھڑی وغیرہ  اپنے آٹو پر لاد  کر لے جائیں گے۔

منگلورو:ریلوے اوور برڈج سے چلتی کار پرگری وزنی لوہے کی سلاخ

منگلورو کے ماراوور علاقے میں انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے پاس موجود ریلوے اوور برڈج سے ٹوٹی ہوئی ایک بہت ہی وزنی لوہے کی سلاخ اچانک نیچے سے گزرتی ہوئی کار پر گر گئی۔ خوش قسمتی سے کار میں موجود مسافروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

منگلورو:بچہ چور سمجھ کر پٹائی کرنے کے معاملے میں 6 ملزمین گرفتار

دو روز قبل بچہ چور ہونے کا شک کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے گرو کمبلامیں کنکن ناڈی کے رہنے والے حمزہ نامی شخص کی پٹائی کی تھی۔حملے کے شکار حمزہ کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے بچپے پولیس نے 6ملزمین کو گرفتار کرلیا ہے۔

یلاپور: شارٹ سرکٹ سے اسپتال کے دستاویزات سمیت کئی اشیاء جل کر خاک

تعلقہ کے وجرلی پرائمری صحت عامہ مرکز ( اسپتال) میں پیر کی شام شارٹ سرکٹ  سے آگ لگی تو  اسپتال کے اہم دستاویزات،سامان  آگ کی نذر ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ حادثے کے وقت اسپتال میں کوئی بھی موجود نہیں ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہواہے۔

انکولہ میونسپالٹی کا صحن گندگی کا مرکز : سارے جہاں کاجائزہ،اپنے جہاں سے  بے خبر

شہر کے بلدیہ کا صحن اور ترکاری مارکیٹ گندگی کا گھر ہوگئے ہیں۔ سارے شہر کو پاکیزہ اور صاف ستھرارکھنے  کےلئے ہر طرف سوچھ بھارت منصوبے کا اعلان کرنے والی بلدیہ کا صحن بھی سب سے زیادہ گندگی  اور بدبو کا مرکز  بن گیا ہے۔

مرحوم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے کمالات و اوصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ ...

بھٹکل کڑوین کٹّا ڈیم کی تہہ میں کیچڑ اور کچرے کا ڈھیر۔گھٹتی جارہی ہے پانی ذخیرہ کی گنجائش

امسال ریاست میں کسی بھی مقام پر برسات کم ہونے کی خبرسنائی نہیں دے رہی ہے۔ عوام کے دلوں کو خوش کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت برسوں کے بعد ہر جگی ڈیم پانی سے لبالب ہوگئے ہیں۔لیکن اکثریہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسات کم ہوتی ہے اور پانی کا قحط پڑ جاتا ہے تو حیران اور پریشان ہونے والے لوگ ...

سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا ...

کرناٹک میں آج عید قرباں! سیلاب کی تباہی کے متاثرین کو امداد فراہم کرنےعید کی نماز کے موقع پر بیشتر جمعہ مساجد سے چندہ اکٹھا کرنے کی توقع

ریاست بھر میں آج سے  انتہائی تزک واحتشام سے عید قرباں منائی جارہی ہے۔ عید قرباں کے لئے جہاں تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں وہیں پر ریاست کے کورگ ، ساحلی علاقوں اور ملناڈ میں تباہ کن سیلاب اور طوفانی بارش سے مچی تباہی کے متاثرین سے ہمدردی بھی شامل ہے۔ ریاست بھر کے مخیر اداروں ، ...

جانوروں کی نقل وحمل روکنے اقدامات جاری، ہائی کورٹ میں ریاستی حکومت کی طرف سے حلف نامہ

ریاستی حکومت کی طرف سے ہائی کورٹ میں حلف نامہ دائر کرکے یہ اقرار کیاگیا ہے کہ ریاست بھر میں مویشیوں کی غیر قانونی تجارت اور نقل وحمل کے علاوہ ذبیحہ پر پابندی کے لئے تمام قدم اٹھائے گئے ہیں۔

زرعی قرضوں کی معافی کے ضوابط میں ترمیم جلد: بینڈپا قاسم پور

ریاستی وزیر کوآپریشن بینڈپا قاسم پور نے کہا ہے کہ ریاست میں کسانوں کے قرضوں کی معافی کے متعلق طے کردہ ضوابط میں ترمیم لائی جائے گی اور ایک لاکھ روپیوں تک کا قرضہ ایک خاندان کے ایک ہی فرد کو معاف کرنے کی پابندی ہٹادی جائے گی۔

کرناٹکا میں سیلاب اور بارش سے مچی تباہ کاریوں کی رپورٹ پیش کرنے وزیراعظم مودی نے دی ہدایت؛ سیلاب متاثرین سے کی اظہار ہمدردی

ریاست میں سیلاب اور بارش کی صورتحال سے متاثر کورگ ، ہاسن ، چکمگلور اور ساحلی کرناٹک کے مختلف علاقوں میں مچی تباہی جانی ومالی نقصان اور دیگر تمام تفصیلات یکجا کرکے رپورٹ پیش کرنے وزیراعظم نریندر مودی نے کرناٹک کے اراکین پارلیمان کو ہدایت دی ہے۔

کیرالا سیلاب متاثرین کے لئے جمعیۃعلماء مہاراشٹر کی پانچ لاکھ کی فوری امداد

بی ھند کی ریاست کیرالا میں سیلاب کی تباہ کاری حد درجہ تشویش ناک ہے،اخباری اطلاعات کے مطابق سینکڑوں جانیں تلف ہو چکی ہیں اور آبادی کی آبادی صفحہ ہستی سے معدوم ہوچکی ہے،لاکھوں افراد بے گھر ہو کر کھانے ،پینے کے محتاج ہو چکے ہیں ۔

قتل کے شک میں بھیڑ نے خاتون کو برہنہ گھمایا، آر جے ڈی لیڈر سمیت چھ گرفتار

بہار کے بھوجپور ضلع میں نوجوان کے قتل کے بعد خاتون کو برہنہ کرنے کے معاملہ میں پولیس نے بڑی کاروائی کی ہے۔ پولیس نے اس معاملہ میں راشٹریہ جنتا دل لیڈر کوشل کشور یادو سمیت چھ لوگوں کو گرفتاری کر لیا ہے۔ تمام ملزمین کی گرفتاریاں بہیاں کے جموعا گاوں سے ہوئی ہے۔