قومی اردوکونسل اورگاندھی بھون کے دو روزہ قومی سمینار کے اختتامی اجلاس میں مقررین کا خطاب

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 25th October 2018, 7:06 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی25اکتوبر(آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز)قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی اور گاندھی بھون کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ سمینار بعنوان’’مہاتما گاندھی اورنظریہ قومی زبان‘‘کے دوسرے دن ملک کی مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں سے آئے ہوئے ماہرین، پروفیسران اوردانشوران نے اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کی ترقی و بہبود اور عوام کو جوڑنے کے لیے رابطے کی ایک زبان پر زور دیا۔

اختتامی اجلاس میں پروفیسر گریشور مشر نے کہا کہ زبان ملک کی پہچان اور وجود کا اٹوٹ حصہ ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ہندی عوامی زبان ہے اسی لیے گاندھی جی نے سوچا کہ ہندی کے ذریعے ہم پورے ملک سے جڑسکتے ہیں اور جوڑ بھی سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہندوستان کی تمام زبانیں قومی زبان کا درجہ رکھتی ہیں۔پروفیسر گنگا پرساد ومل نے گاندھیائی نظریے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی زبانو ں کو جانے بغیر ہندی بھی ادھوری ہے۔ گاندھی جی نے ہندوستانی زبان کی بھرپور وکالت کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پورے ملک کو لسانی سطح پر جوڑنا چاہتے تھے۔اس موقعے پر قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے تمام مہمانان اور گاندھی بھون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دو دنوں کے اس سمینار میں گاندھی جی کے نظریات اور قومی زبان کے حوالے سے بہت ساری اہم باتیں اور اہم نکات سامنے آئے اور یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ ہمیں اردو کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی تمام علاقائی زبانوں کے فروغ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اختتامی اجلاس سے قبل کے سیشن میں بھی مختلف دانشوروں نے مہاتما گاندھی اور نظریہ قومی زبان کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس موضوع کے حوالے سے اہم جہتوں پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر چاند کرن سلوجہ نے کہا کہ ہمارے یہاں علاقائی زبانوں میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جنھیں پڑھ کر آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ ہم تلسی داس، رابندرناتھ ٹیگور جیسے لوگوں کو پیدا نہیں کرسکتے مگر آنے والی نسلوں میں ایسی صلاحیتیں ضرور پیدا کرسکتے ہیں کہ وہ تلسی داس اور ٹیگو ربن سکیں۔ ڈاکٹر ظہیر حسن نے کہا کہ گاندھی جی کے لیے انگریزی ابتدائی دور میں ضروری تھی۔ اس لیے کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انگریزی میں ہر قسم کا مواد موجود ہے لیکن گاندھی جی اس سچائی کو سمجھتے تھے کہ ہندوستان کی تمام زبانوں کے فروغ کے بعد ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ پروفیسر اختر حسنین نے کہا کہ آج کے ہندوستان میں گاندھی جی خیالات پر عملقومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی اور گاندھی بھون کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ سمینار بعنوان’’مہاتما گاندھی اورنظریہ قومی زبان‘‘کے دوسرے دن ملک کی مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں سے آئے ہوئے ماہرین، پروفیسران اوردانشوران نے اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کی ترقی و بہبود اور عوام کو جوڑنے کے لیے رابطے کی ایک زبان پر زور دیا۔ اختتامی اجلاس میں پروفیسر گریشور مشر نے کہا کہ زبان ملک کی پہچان اور وجود کا اٹوٹ حصہ ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ہندی عوامی زبان ہے اسی لیے گاندھی جی نے سوچا کہ ہندی کے ذریعے ہم پورے ملک سے جڑسکتے ہیں اور جوڑ بھی سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہندوستان کی تمام زبانیں قومی زبان کا درجہ رکھتی ہیں۔پروفیسر گنگا پرساد ومل نے گاندھیائی نظریے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی زبانو ں کو جانے بغیر ہندی بھی ادھوری ہے۔ گاندھی جی نے ہندوستانی زبان کی بھرپور وکالت کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پورے ملک کو لسانی سطح پر جوڑنا چاہتے تھے۔اس موقعے پر قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے تمام مہمانان اور گاندھی بھون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دو دنوں کے اس سمینار میں گاندھی جی کے نظریات اور قومی زبان کے حوالے سے بہت ساری اہم باتیں اور اہم نکات سامنے آئے اور یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ ہمیں اردو کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی تمام علاقائی زبانوں کے فروغ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اختتامی اجلاس سے قبل کے سیشن میں بھی مختلف دانشوروں نے مہاتما گاندھی اور نظریہ قومی زبان کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس موضوع کے حوالے سے اہم جہتوں پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر چاند کرن سلوجہ نے کہا کہ ہمارے یہاں علاقائی زبانوں میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جنھیں پڑھ کر آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ ہم تلسی داس، رابندرناتھ ٹیگور جیسے لوگوں کو پیدا نہیں کرسکتے مگر آنے والی نسلوں میں ایسی صلاحیتیں ضرور پیدا کرسکتے ہیں کہ وہ تلسی داس اور ٹیگو ربن سکیں۔ ڈاکٹر ظہیر حسن نے کہا کہ گاندھی جی کے لیے انگریزی ابتدائی دور میں ضروری تھی۔ اس لیے کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انگریزی میں ہر قسم کا مواد موجود ہے لیکن گاندھی جی اس سچائی کو سمجھتے تھے کہ ہندوستان کی تمام زبانوں کے فروغ کے بعد ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ پروفیسر اختر حسنین نے کہا کہ آج کے ہندوستان میں گاندھی جی خیالات پر عمل کرنا ناگزیر ہے تاکہ تمام ہندوستانی متحد رہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ قوموں کو جوڑنے کے لیے گاندھی جی نے عوامی زبان کی وکالت کی اور یہ عوامی زبان کوئی اور نہیں ہندوستانی زبان ہی تھی۔ شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ابن کنول نے پہلے سیشن کے صدارتی خطاب میں زبان کو سہل بنانے پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ رابطے کے لیے مشکل الفاظ سے گریز کرنا چاہیے اور اپنی مادری زبان کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس سیشن میں ڈاکٹر مظفر حسین سید، پروفیسر گوپیشور سنگھ، ڈاکٹر مکیش اور پرمود سینی وغیرہ نے اظہارِ خیال کیا۔دوسرے سیشن میں سندھی کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر روی ٹیک چندانی نے کہا کہ ہندوستان کی زبانو ں کے ذریعے بھی روزگار حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندی اردو اور سندھی سرحدوں سے آزاد ہیں توپنجابی، ملیالم اور دوسری زبانیں بھی سرحدوں سے آزاد ہوسکتی ہیں۔ سینئر صحافی زین شمسی نے کہا کہ کوئی بھی ملک اپنی مادری زبان میں ہی ترقی کرسکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اردو سے اس کا رسم الخط چھین لیا جائے تو اردو زبان ختم ہوجائے گی۔ محترمہ اسمتا جھا نے کہا کہ گاندھی جی کا خواب تھا کہ ہندی کو قومی زبان بنانا۔ لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام زبانوں کا احترام کیا جائے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تشریف لائے پروفیسر عبدالعلیم نے کہا کہ جو خواب گاندھی جی نے قومی زبان کے حوالے سے اس وقت دیکھا تھا وہ موجودہ دور حکومت میں شرمندہ تعبیر ہوتا نظر آتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام زبانوں کے لیے ایک رسم الخط طے کرناہوگا۔ا س کے علاوہ دیگر شرکا نے بھی اس موقعے پر اظہارِخیال کیاہے۔دو دن کے تمام اجلاسوں کی نظامت کے فرائض گاندھی بھون دہلی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پروفیسر رمیش بھاردواج نے بحسن وخوبی انجام دیے۔

ایک نظر اس پر بھی

این ڈی اے سے الگ ہونے کا فیصلہ کرسکتے ہیں اوپیندرکشواہا

لوک سبھا الیکشن کے پیش نظرسیٹوں کی تقسیم کو لے کراین ڈی اے میں جاری رسہ کشی کے درمیان مرکزی وزیراورراشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آرایل ایس پی) کے سربراہ اوپیندر کشواہا نے کہا کہ انہوں نے اپنا من بنالیا ہے۔ نیوز18 سے خاص بات چیت میں انہوں نے کہا کہ "میں ہفتہ کو پٹنہ میں نیشنل ...

ہندو قوم پرست حامیوں کو خوش کرنے کے لئے نریندر مودی کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی نئی لہر بی جے پی حکومت میں ’’اسلامی‘‘ ناموں کے خلاف جنگ

نام میں کیا رکھا ہے؟بی جے پی کے دور حکومت میں ہند وستانی شہروں اور دیہاتوں میں بظاہر، بہت کچھ رکھا ہے۔اسی لئے اسلامی ناموں کی تبدیل کرنے کی ہوڑ چل رہی ہے۔

لکھنو میں ریلوے وزیر پیوش گوئل کے تبصرے پرناراض ریلوے ملازمین نے کیا ہنگامہ، ہاتھا پائی کے دوران پھینکا گملا

لکھنو میں ایک پروگرام میں آئے وزیرریلوے پیوش گوئل کے ایک تبصرے پرریلوے ملازمین مشتعل ہوگئے اور انہوں نے گوئل پر  گملا پھینک دیا۔ اس دوران دھکا مکی اور ہاتھا پائی سے پروگرام میں افراتفری مچ گئی۔ ہنگامے کی شروعات وزیرریلوے کے اس بیان سے ہوئی جس میں وزیرریلوے  نےکہا کہ یونین، ...

آندھرا پردیش کے بعد ممتابنرجی نے بھی مغربی بنگال میں سی بی آئی کے داخلے پرعائد کردی پابندی

مغربی بنگال حکومت نے سی بی آئی کو ریاست میں چھاپہ مارنے یا جانچ کرنے کے لئے دی گئی "عام رضامندی" جمعہ کو واپس لے لیا۔ ریاستی سکریٹریٹ کے ایک سینئرافسرنے یہ اطلاع دی۔ مغربی بنگال حکومت کے فیصلے سے ٹھیک قبل آندھرا پردیش حکومت نے بھی یہی قدم اٹھایا۔

بھٹکل: نیو انگلش پی یو کالج کے بچوں کا تعلقہ لیول ثقافتی مقابلوں میں بہترین مظاہرہ؛ شہاب الدین انگریز ی مذاکرے میں اول

تعلیمات عامہ اترکنڑا ضلع کی طرف سے پی یوطلبا کے لئے منعقدہ تعلقہ سطح کے ثقافتی مقابلہ جات میں دی نیو انگلش پی یو کالج کے طلبا نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ پیش کرتےہوئے ضلع لیول کے لئے منتخب ہوئے ہیں۔

دمام میں کاسرگوڈ کے ایک شخص کی لاش کی تین سال بعد تدفین

دمام سعودی عربیہ میں تین سال قبل انتقال کرگئے پڑوسی تعلقہ  کاسرگوڈ کیرالہ کے حسینار کنہی (۵۷سال) نامی ایک شخص کی لاش کو تین سال بعد دفنایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مرحوم حسینار کنہی کے پاسپورٹ پر درج اس کے  ہندوستانی پتے میں کچھ خامیاں تھیں اور پتہ نامکمل تھا اس لئے سعودی پولیس ...

کمٹہ سب رجسٹراردفتر میں انٹی کرپشن بیورو کا چھاپہ؛ رشوت لینے کے الزام میں آفسر گرفتار

کمٹہ میں واقع سب رجسٹرار اور میریج رجسٹرار کے دفتر میں چل رہی بھاری رشوت خوری کی باتیں تو عام ہیں، لیکن ا س کا ثبوت اس واقعے سے مل جاتا ہے کہ اینٹی کرپشن بیورو کے افسران نے کارروائی کرتے ہوئے سب رجسٹرارشیوانند ایس پاٹل کورشوت خوری کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

سی آئی اے کا دعویٰ ، سعودی عرب کے شہزادے نے دیا تھا جمال خشوگی کے قتل کاحکم

امریکی اخبار وشنگتن پوسٹ کے صحافی جمال خشوگی کی موت کو لیکر امریکی کی خفیہ ایجنسی نے بڑا دعوی کیا ہے۔ امریکہ کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی ( سی آئی اے ) نے کہا ہے کہ نے صحافی جمال خشوگی کے قتل کے احکام دئے تھے۔