اداکار ارجن رامپال بی جے پی کے دفتر پہنچے، یوپی انتخابات میں کر سکتے ہیں پارٹی کی تشہیر

Source: S.O. News Service | Published on 10th January 2017, 10:30 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 10/جنوری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بالی ووڈ ہستیوں کا سیاست میں آنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔اس کی تازہ کڑی میں آج ارجن رامپال نئی دہلی میں بی جے پی کے ہیڈ کوارٹر پہنچے۔وہاں پہنچتے ہی ان کے بی جے پی میں شامل ہونے کے سلسلے میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔ اس مسئلہ  پر ارجن رامپال نے بی جے پی آفس میں کہاکہ میں سیاستدان نہیں ہوں اور یہاں سیاست کے لیے نہیں آیا ہوں،میں یہاں یہ دیکھنے آیا ہوں کہ میں کس طرح بی جے پی کو اپنی حمایت دے سکتا ہوں۔ہیڈ کوارٹر میں بی جے پی کے سینئر لیڈر کیلاش وجے ورگیی سمیت دیگر پارٹی عہدیداروں کے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی۔ارجن رامپال کے ساتھ ساتھ جیکی شراف کے بھی بی جے پی میں شامل ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں لگائی جا رہی ہیں۔حالانکہ ذرائع کی مانیں، تو ارجن رامپال اور جیکی شراف یوپی سمیت آئندہ پانچ ریاستوں میں ہونے جا رہے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی جانب سے اسٹار پرچارک ہو سکتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اگلے ماہ سے پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں، یوپی، پنجاب، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا میں ہونے جا رہے ان اسمبلی انتخابات کو 2019کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے اقتدار کا سیمی فائنل مانا جا رہا ہے۔یوپی میں سب سے زیادہ سات مراحل میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔یوپی اس لیے بھی بی جے پی کے لیے اہم ہے کیونکہ پارٹی نے 2014کے لوک سبھا انتخابات میں 80میں سے 71سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔
 

ایک نظر اس پر بھی

اگرپاکستانی الیکشن میں مداخلت کررہاہے تواین آئی اے کیاکررہی ہے، اسدالدین اویسی کاسوال ،بنکاک میں پاکستان کے ساتھ مجوزہ میٹنگ کی تفصیلات بتائیں مودی

حیدرآبادکے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسڑاسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ گجرات کے انتخابی جلسوں میں جس طرح کی زبان وزیراعظم نریندر مودی استعمال کر رہے ہیں، اس پر ان کو کوئی تعجب نہیں ہوا ہے۔

خبطی ’ وکاس‘ کا تازہ ترین سروے ، مہنگائی آسمان پر ،اشیاء خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ ، نومبر میں شرح 15 ماہ بلند سطح پر

سبزیاں، پھل او ر انڈوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کی بری خبر ہے ۔ دن رات ٹی وی ڈیبیٹ نے عوام کو اس قدر غافل اور نکما کر دیا ہے کہ آج ہونے والے ہندو۔ مسلم موضوع پر پارٹی کے بکواس ترجمان کی ہنگامہ آرائی کو تو یاد رکھتے ہیں ؛