کارکنوں کی گرفتاری ماؤنوازوں سے رابطہ کی بنیاد پرہوئی : مہاراشٹر پولیس

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th September 2018, 12:32 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی6ستمبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) مہاراشٹر پولیس نے بدھ کو سپریم کورٹ میں دعوی کیا کہ پانچ کارکنوں کو اختلاف کے ان کے نقطہ نظر کی وجہ سے نہیں بلکہ کالعدم بھاکپا سی پی آئی (ماؤنواز) سے ان کے تعلقات کے بارے میں ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والے بنچ نے 29 اگست کو ان کارکنوں کو چھ ستمبر کو گھروں میں ہی نظربند رکھنے کا حکم دیتے وقت واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اختلاف جمہوریت کا سیفٹی والو ہے۔ یہ بنچ جمعرات کو اس معاملے میں آگے کی شنوائی کرے گی۔کورٹ نے مؤرخ روملا تھاپر اور دیگر کی عرضی پر مہاراشٹر پولیس کو نوٹس جاری کیا تھا۔ اس درخواست میں بھیما۔کورے گاؤں تشدد کیس میں ان کارکنوں کی گرفتاری کو چیلنج کیا گیا تھا۔ریاستی پولیس نے اس نوٹس کے جواب میں ہی اپنا حلف نامہ عدالت میں داخل کیا ہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارکن ملک میں تشدد پھیلانے اور سیکورٹی فورسز پر گھات لگا کر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ریاستی پولیس کا کہنا ہے کہ اختلافی نقطہ نظر کی وجہ سے انہیں گرفتار کرنے کے شک کے ازالے کے لیے اس کے پاس کافی ثبوت ہیں۔مہاراشٹر پولیس نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ درخواست گزار روملا تھاپر، اور ماہر اقتصادیات پربھات پٹنائک اور دیویکا جین، سماجی علوم کے ماہر ستیش دیشپاڈے اورماہر قانون ماجہ دارووالا نے کس حیثیت سے درخواست دائر کی ہے اور کہا کہ وہ اس معاملے کی جانچ سے لاعلم ہیں۔مہاراشٹر پولیس نے 28 اگست کو کئی ریاستوں میں بائیں بازو کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے تھے اور ماؤنوازوں سے رابطہ ہونے کے شک میں کم از کم پانچ کارکنوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان گرفتاریوں کو لے کر انسانی حقوق کے کارکنوں نے زبردست مخالفت کی تھی۔پولیس نے اس چھاپے ماری کے دوران اہم تیلگو شاعر ورورا راؤ کو حیدرآباد اور ورنن گونسالوج اور ارون فریرا کو ممبئی سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ ٹریڈ یونین کارکن سدا بھاردواج کو فرید آباد اور شہری حقوق کے کارکن گوتم نولکھا کو دہلی سے گرفتار کیا گیا تھا۔پولیس نے گزشتہ سال 31 دسمبر کو پونے کے قریب منعقد ایلگار کونسل پروگرام کے بعد بھیما۔ کورے گاؤں میں بھڑکے تشدد کی تحقیقات کے سلسلے میں مذکورہ چھاپہ ماری کی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

ای وی ایم تنازعہ: کپل سبل نے کہا 'ذاتی حیثیت سے گیا تھا لندن، کانگریس کا کوئی لینا دینا نہیں'۔

  کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی)کےلیڈر اوروزیرقانون روی شنکر پرساد کےان الزامات کو منگل کو پوری طرح سے بے بنیاد بتاکہ لندن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم )سے متعلق پریس کانفرنس کا اہتمام کانگریس نے کیاتھا اورواضح کیاکہ وہ اس میں ذاتی حیثیت ...

مدارس کو اگربند نہیں کیا گیا توآئی ایس آئی ایس حامی ہوجائیں گے مسلم بچے، وسیم رضوی نے وزیراعظم کو خط لکھ کرکیا مطالبہ

اپنے متنازعہ بیانات  کے سبب اکثرسرخیوں میں رہنے والے اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے وزیراعظم نریندرمودی کوخط لکھ کربنیادی سطح تک کے سبھی مدارس کوبند کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اپنے کسی بھی ممبر اسمبلی کو لوک سبھا انتخابات میں نہیں اتارے گی عام آدمی پارٹی

عام آدمی پارٹی آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اپنے موجودہ  ممبراسمبلی اور وزرا کو ٹکٹ نہیں دے گی۔ عآپ کے سینئر لیڈر گوپال رائے نے منگل کو یہ جانکاری دی ہے۔ عام آدمی پارٹی کی دہلی یونٹ کے صدر رائے نے ساتھ ہی کہا کہ انتخابات کی اطلاع جاری ہونے سے کافی پہلےہی دہلی م پنجاب اور ہریانہ ...

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر چندرابابوکوشبہات

الکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایمس)کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اے پی کے وزیراعلی و تلگودیشم پارٹی کے قومی صدر این چندرابابونائیڈو نے کہا کہ ان مشینوں میں الٹ پھیر کے کئی ثبوت پائے گئے ہیں