القدس میں امریکی سفارت خانہ فلسطین میں غیرقانونی امریکی کالونی کی مانند ہے: عباس

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th May 2018, 12:44 PM | عالمی خبریں |

غزہ،15 مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے امریکا کی جانب سے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہناہے کہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ غیرقانونی یہودی بستیوں کی طرح امریکا کی ایک غیرقانونی بستی ہے۔ادھر فلسطینی اتھارٹی نے کل سوموار کوغزہ میں پرتشدد حملوں میں 55 فلسطینی مظاہرین کی ہلاکتوں کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔رام اللہ میں ایک اجلاس سے خطاب میں صدر محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی قوم اپنی آزادی اور سلب کیے گئے دیگر حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کی پرامن جدو جہد فتح کے حصول، آزاد فلسطینی مملکت کے قیام اور القدس کو اس کا دارالحکومت بنائیجانے تک جاری رہے گی۔انہوں نے امریکی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کا اب کوئی کردار نہیں رہا ہے۔ ہم امریکا کی سیاسی ثالثی کو تسلیم نہیں کرتے۔صدر عباس نے کہا کہ فلسطینی قوم مشرق وسطیٰ کے لیے ایسی کوئی ڈیل قبول نہیں کرے گی جس میں بیت المقدس کو فلسطینیوں سے چھین لیا گیا ہو یا پناہ گزینوں کی واپسی کو مذاکرات سے خارج کیا گیا۔ یہ ہمارا اصولی موقف ہے اور اس پر قائم رہیں گے۔خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکا نے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کردیا ہے۔ امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی پر پوری دنیا کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

افغانی اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو پاکستان کی شہریت دیں گےعمران خان

پاکستان میں جو بچے پیدا ہوئے ہیں، ان کو شہریت دی جائے گی۔پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت پاکستان میں پیدا ہوئے تمام افغانی اوربنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو شہریت فراہم کرے گی۔ ایکسپریس ٹریبیونل کی خبر کے مطابق حکومت بنانے کے بعد اتوار کو اپنے پہلے دورے ...

امریکا 2019 میں 30 ہزار پناہ گزین قبول کرے گا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پیر کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ آئندہ برس کے لیے پناہ گزین پروگرام کے سلسلے میں پناہ گزینوں کی حد 30 ہزار مقرر کی گئی ہے۔