اکھلیش یادو کا وہ قدم جو لوک سبھا انتخابات سے ٹھیک پہلے بن گیا ہے مایاوتی کے’گلے کی ہڈی‘

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th February 2019, 12:23 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،10 ؍فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات سر پر ہے۔سیاسی جماعتیں تیاریوں میں زور شور سے لگ گئی ہیں۔اتر پردیش میں ’بوا ۔بھتیجا‘ کی جوڑی آواز بلند کررہی ہے۔گزشتہ دنوں ہوئے اتر پردیش کے ضمنی انتخابات میں مرکز اور ریاست میں حکمراں بی جے پی کوشکست دینے والی ایس پی۔بی ایس پی میں اتحاد کے بعد سیٹوں کی تقسیم بھی ہو چکی ہے، لیکن اب انتخابات کی دہلیز پر کھڑی بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے لئے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کی طرف اٹھایا گیا ایک معاملہ ہی’گلے کی ہڈی‘ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔یہ معاملہ مایاوتی کے دور اقتدار میں بنے پارک اور موتیوں میں مبینہ بدعنوانی سے منسلک ہے اور ایک بار پھر بحث میں ہے۔حال ہی میں سپریم کورٹ نے ان پارکوں اور یادگاروں میں لگی مایاوتی اور بی ایس پی کے انتخابی نشان ہاتھی کے مجسموں کو لے کر کہا کہ ان مورتیوں پر خرچ ہوئی رقم کو مایاوتی کو سرکاری خزانے میں جمع کرنا چاہئے۔آپ کو بتا دیں کہ لوک سبھا انتخابات میں ایک ہی کشتی پر سوار ایس پی سربراہ اکھلیش یادو خود بی ایس پی کے دور اقتدار میں بنی ان مورتیوں کو لے کر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔اتر پردیش کی اقتدار کی کرسی سنبھالنے کے بعد اکھلیش یادو نے ہی مایاوتی کے دور میں بنے پارکوں اور مورتیوں کی لوک آیکت سے جانچ کا حکم دیا تھا۔لوک آیکت کی تحقیقات میں لکھنؤ اور نوئیڈا میں بنے پارکوں اور یادگاروں میں 1,400 کروڑ روپے سے زیادہ کے گھوٹالے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔یہی نہیں لوک آیکت کی سفارش پر اکھلیش یادو کی حکومت نے پچھلے مایاوتی حکومت کے دو وزراء نسیم الدین صدیقی اور بابوسنکھ کشواہا سمیت 19 لوگوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کروایا تھا۔اب سپریم کورٹ کے تبصرے کے بعد ایک بار پھر یہ معاملہ گرم ہو گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی