بہاری نوجوان کو ملی دوبارہ ہوش و حواس کی زندگی؛ گنگولی کے معروف سوشیل ورکر ابراہیم ایم ایچ کی کوششوں کا نتیجہ

Source: S.O. News Service | By Safwan Motiya | Published on 29th January 2017, 12:54 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

کنداپور 29؍جنوری (ایس او نیوز)گنگولی سے ساحل آن لائن کے نمائندے اور معروف سوشیل ورکر ابراہیم کی کوشش اور کیرالہ میں بے یار ومددگار افراد کے لئے سہارا بننے والے ادارے 'سنیہا لیہ'کے تعاون سے برسوں سے پاگل پن کا شکارہوکر در بدر بھٹکنے والے بہاری نوجوان کو دوبارہ ہوش و حواس کی زندگی ملی اور اپنے خاندان کے ساتھ اس کا ملاپ ہوگیا۔

محمد اختر انصاری(۳۲سال) نامی بہار کا یہ نوجوان کسی پیچیدہ مسئلے کی وجہ سے ذہنی توازن کھو بیٹھا اور چار سال قبل اپنا گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑا ہوا۔ نہ کسی شہر یا منزل کا پتہ اور نہ ہی کوئی مقصد، بس یونہی شہر در شہر بھٹکتا ہوا کنداپور تک پہنچ گیا۔نومبر کے مہینے میں ایک دن تراسی کے پاس 24x7ایمبولینس کے ذریعے مصیبت زدہ افراد کی دن رات خدمت میں لگے ہوئے سوشیل ورکر ابراہیم اور ان کے ساتھی محمد عادل، محمد سلطان اور محمد سعید کی نظر بدحال اور ذہنی طور پر غیر متوازن شخص پر پڑی  تو انہوں نے اس سے پوچھ تاچھ کی تو اس نے صرف اپنا نام اختر انصاری اور پتہ گنیش پور بتایا۔پھر ابراہیم کی ٹیم نے اختر کو اپنے دفتر لے جاکرکھلانے، نہلانے اور کپڑے وغیرہ بدلوانے کے بعد اپنی ایمبولینس میں اسے کیرالہ میں واقع سنیہالیہ میں داخل کروایا۔

سنیہالیہ میں 3مہینوں تک اس کا دماغی علاج ہوا اور مسلسل دیکھ ریکھ کے نتیجے میں اختر انصاری بالکل صحتیاب ہوگیا۔تب اس نے اپنا مکمل پتہ سنیہالیہ کے برادر جوزیف کراستا کو بتایا۔ جوزیف نے بہار کے چرچ کے چیف فادر ڈیوڈسے فو ن پر رابطہ کرتے ہوئے اختر انصاری کے گھر والوں اور ان کی رہائش کا پتہ لگانے کی درخواست کی۔ فادر ڈیوڈکے ذریعے اختر کے گھر والوں کو کیرالہ سنیہالیہ کا پتہ دیا گیا تو اختر کے والد، بھائی اور رشتے دار کیرالہ پہنچ گئے اور وہاں سے اختر کو اپنے ساتھ گھر لے گئے۔

بتایا گیا  ہے کہ اختر اپنے شہر میں ٹیلرنگ کا پیشہ کرتا تھا۔ وہ اپنی بیوی تین بیٹے اورایک بیٹی کے ساتھ زندگی بسر کررہا تھا۔گھر والوں کو پتہ نہیں کہ کس پریشانی میں الجھ کر اختر نے گھر بار چھوڑ دیا تھا، مگر ان لوگوں نے مسلسل اختر کو تلاش کیاتھا مگر اس کا کوئی پتہ نہیں چل پایا تھا۔گھر والے گزشتہ چار سال سے اس کی زندگی اور گھر واپسی کی دعائیں کیا کرتے تھے ۔کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ اختر انصاری کے لئے اتنے دنوں سے پریشان اس کے بیوی بچوں اور ماں باپ پر کیا کچھ گزری ہوگی۔ ان کی دعاؤں نے اب ان کے لئے اپنے گھر کے چراغ سے ملاپ کا موقع فراہم کیا ہے تو ان کی خوشیوں کا ٹھکانہ نہیں ہے۔ انہوں نے ابراہیم اور اس کے ساتھیوں کی کوشش اور سنیہالیہ کی انسانیت نوازی کی ستائش کی ہے اور ان سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

جنوبی کینرا ایم پی نلین کمار کٹیل نے کی مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی حمایت

بھوپال سے بی جے پی کی پارلیمانی امیدوار پرگیہ سنگھ ٹھاکور نے مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی ستائش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک اصلی دیش بھکت تھا۔ اس متنازعہ بیان کی ہرطرف سے مذمت ہورہی تھی مگراس کی حمایت میں اب ضلع جنوبی کینرا کے ایم پی نلین کمار کٹیل اور ضلع شمالی ...

سی پی آئی ایم کارکن قتل معاملے میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے 7کارکنان کوسزائے عمر قیداورفی کس 1لاکھ روپے جرمانہ

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماکسسٹ) کے پی پویتھرن نامی کارکن کوقتل کیے جانے کے 12سال بعد اس جرم کا ارتکاب ثابت ہونے پر آر ایس ایس اور بی جے پی سے تعلق رکھنے والے 7کارکنان کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

بھٹکل میونسپالٹی انتخابات کے لئے51 اُمیدواروں نے داخل کیا پرچہ نامزدگی؛ 9 اُمیدوار بلامقابلہ منتخب ہونا طئے؛ 29 مئی کو ہوں گے انتخابات

بھٹکل میونسپالٹی کے لئے 29 مئی کو ہونے والے انتخابات میں جملہ 23 سیٹوں کے لئے 51 اُمیدواروں نے  53 پرچہ نامزدگیاں داخل کی ہیں۔ جمعرات کو پرچہ داخل کرنے کی آخری تاریخ تھی جس کے ساتھ ہی  یہ صاف ہوگیا ہے کہ جملہ 23 سیٹوں میں  سے 9 سیٹوں پر کوئی مقابلہ نہیں ہوگا کیونکہ ان سیٹوں  پر صرف ...

منکی میں عورت اور اُس کی دو بیٹیوں کی نعشیں ملنے کا معاملہ؛ ہوگئی شناخت ؛ کیا اُس کے شوہر نے ہی ان تینوں کا قتل کرایا ؟

قریبی علاقہ منکی میں گذشتہ روز ایک خاتون اور دو لڑکیوں کی نعشیں  سمندر کنارے برآمد ہوئی تھیں، جس کے تعلق سے شبہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ انہوں نے خودکشی کی ہوگی، مگر اس معاملے میں ایک نیا موڑ آگیا ہے جس کے مطابق  گمان کیا جارہا ہے کہ اُسی کے شوہر نے  اُس کا قتل کیا ہے۔

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...

بلقیس بانو کیس۔ انصاف کی جدوجہد کا ایک سنگ میل ......... آز: ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

سترہ سال کی ایک لمبی اور طویل عدالتی جدوجہد کے بعد بلقیس بانو کو ہمارے ملک کی عدالت عالیہ سے انصاف حاصل کرنے میں فتح حاصل ہوئی جس فتح کا اعلان کرتے ہوئے عدالت عالیہ (سپریم کورٹ آف انڈیا) نے گجرات سرکار کو حکم دیا کہ وہ بلقیس بانو کو پچاس لاکھ روپے معاوضہ کے ساتھ ساتھ سرکاری نوکری ...

بھٹکل کے نشیبی علاقوں میں کنووں کے ساتھ شرابی ندی بھی سوکھ گئی؛ کیا ذمہ داران شرابی ندی کو گٹر میں تبدیل ہونے سے روک پائیں گے ؟

ایک طرف شدت کی گرمی سے بھٹکل کے عوام پریشان ہیں تو وہیں پانی کی قلت سے  عوام دوہری پریشانی میں مبتلا ہیں، بلندی والے بعض علاقوں میں گرمی کے موسم میں کنووں میں پانی  کی قلت  یا کنووں کا سوکھ جانا   عام بات تھی، مگر اس بار غالباً پہلی بار نشیبی علاقوں میں  بھی پانی کی شدید قلت ...

مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی 2008کے بعد ہونے والے بم دھماکوں اور قتل کااصل سرغنہ۔ مہاراشٹرا اے ٹی ایس کا خلاصہ

مہاراشٹرا اینٹی ٹیرورازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کا کہنا ہے کہ سن  2008 کے بعد ہونے والے بہت سارے بم دھماکوں اور پنسارے، دابولکر، کلبرگی اور گوری لنکیش جیسے ادیبوں اور دانشوروں کے قتل کا سرغنہ اورنگ آباد کا رہنے والا مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی ہے۔

اب انگلش میڈیم کے سرکاری اسکول ؛ انگریزی میڈیم پڑھانے والے والدین کے لئے خوشخبری۔ ضلع شمالی کینرا میں ہوگا 26سرکاری انگلش میڈیم اسکولوں کا آغاز

سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے داخلے میں کمی اور والدین کی طرف سے انگلش میڈیم اسکولوں میں اپنے بچوں کے داخلے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اب سرکاری اسکولوں میں بھی انگلش میڈیم کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ بنایاگیا ہے۔

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...