اُترکنڑا میں گزشتہ 6مہینوں میں چھاپہ ماری کے دوران 8.95کوئنٹل پلاسٹک ضبط۔ مگر استعمال پر نہیں لگی روک !

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 23rd July 2018, 1:14 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل 23؍جولائی (ایس او نیوز)ماحولیاتی تحفظ کے لئے پلاسٹک تھیلیوں اور دیگر اشیاء کے استعمال پر پابندی لگانے کی کوششیں کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں، کیونکہ یہ عام زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ بن چکی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق ضلع شمالی کینرا میں گزشتہ چھ مہینوں میں افسران نے دکانوں پر چھاپے مار کر 8.95کوئنٹل پلاسٹک ضبط کیا ہے ۔ لیکن بازار اور مچھلی مارکیٹوں میں پلاسٹک تھیلیوں کا استعمال ذرا بھی رکا نہیں ہے۔ حالانکہ ضلع شمالی کینرا میں پلاسٹک تھیلیاں اور دیگر چیزیں تیار کرنے کے کارخانے موجود نہیں ہیں مگر پلاسٹک کا استعمال زوروں پر ہے۔ اس وجہ سے پلاسٹک کے استعمال پر پابندی کو لاگو کرنا افسران کے لئے دردِ سر بن گیا ہے۔

گزشتہ چھ مہینوں کے دوران ضلع کے مختلف شہروں میں152مقامات پربلدیاتی اداروں کے افسران نے پلاسٹک کی فروخت اور استعمال کے خلاف چھاپے مارے تھے۔ اور 67,600روپے جرمانہ بھی وصول کیا تھا۔ تعلقہ وار سطح پر افسران پوسٹرس، پمفلیٹس وغیرہ تقسیم کرنے کے علاوہ عوامی پروگرام کے ذریعے پلاسٹک کے استعمال سے پرہیز کرنے کے سلسلے میں بیداری لانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور ا س پر لاکھوں روپے خرچ بھی کیے جارہے ہیں۔ مگر اس کا اثرعملی طور پر ہوتا نظر نہیں آتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر قسم کے پلاسٹک پر پابندی لگانے کی بات کرنے والے سرکاری افسران اپنے پروگراموں اورجلسوں میں پلاسٹک بینرس اور پینے کے لئے پانی کی پلاسٹک بوتلیں استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ دنوں کاروار میں محکمہ صحت عامہ کے ایک پروگرام میں ضلع ڈپٹی کمشنرایس ایس نکول کو پلاسٹک کی بوتل والا پانی پینے سے انکار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ عام جلسوں میں پانی کی پلاسٹک بوتلوں سے کیسے بچا جاسکتا ہے، جو زندگی کا لامی حصہ بن کر رہ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مچھلی مارکیٹ ، گوشت وغیرہ کے لئے بھی پلاسٹک کی تھیلیاں لازمی سی ہوکر رہ گئی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سرکاری افسران کی لاکھ کوشش کے باوجود پلاسٹک کا استعمال عام زندگی میں روکنا ممکن ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میونسپل پارک کی تجدیدکاری میں بدعنوانی کا الزام۔ ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم

بھٹکل بلدیہ کے حدود میں بندر روڈ پر واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل پارک کی تجدید کاری میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے  آسارکیری کے عوام  نے بلدیہ انجینئر کو پارک میں طلب کرکے ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم دیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہاں ہورہی بدعنوانی کی تحقیقات کروائی جائے۔

کاروار کے ہوم گارڈس دفتر اورکیگا شہری تحفظ مرکز میں یوم ِآزادی کی خصوصی تقریب

شہر میں ہوم گارڈس دفتر میں 72واں یوم ِ آزادی کا جشن پرچم کشائی کے ساتھ منایاگیا ۔ ضلعی آفیسر دیپک گوکرن  نے جھنڈا لہرانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یہ آزادی کئی ایک مہان ہستیوں کی قربانی کے بعد ملی ہے۔ یہ ملک تکثریت میں وحدت پیش کرنے والا ایک انوکھا ملک ہے۔انہوں نے کہاکہ ...

کاروار : ضلع پنچایت اورمیڈیکل کالج میں یوم ِ آزادی کا جشن :ایمانداری سے اپنے فرائض کو انجام دینا  سچی دیش بھگتی  

اترکنڑا ضلع کے مرکزی مقام کاروار میں اترکنڑا ضلع پنچایت اور میڈیکل سائنس سنٹر میں  جوش و خروش کے ساتھ یوم آزادی کا جشن منایا ۔ جس کی مختصر تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے۔ ...

بھٹکل میں یوم آزادی کا جشن پورے جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا؛ تعلقہ انتظامیہ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر نے لہرایا جھنڈا

ہر سال کی طرح امسال بھی بھٹکل میں پورے جوش و خروش کے ساتھ  یوم آزادی کی تقریب منائی گئی اور تعلقہ انتظامیہ سمیت مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سمیت تعلیمی اداروں میں بھی  ترنگا جھنڈا لہرایا گیا۔

کورگ میں بارش کی بھاری تباہی ، تین اموات،زمین کھسکنے کے متعدد واقعات 

جنوبی ہند کا کشمیر کہلانے والے ریاست کے کورگ ضلع میں بارش نے زبردست تباہی مچادی ہے۔ ایک طرف بارش کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے تو دوسری طرف پڑوسی ریاست کیرلا میں طوفانی بارش کے سبب وہاں کی ندیوں کا پانی بھی کرناٹک کی طرف بہادیا گیا ہے،

مہادائی ٹریبونل کے فیصلے کا چیلنج کرنے ریاستی حکومت تیار

ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ شمالی کرناٹک کے بعض اضلاع کو پینے کے پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ مہادائی کے پانی کی تقسیم کے سلسلے میں حال ہی میں ٹریبونل نے جو فیصلہ صادر کیا ہے ریاستی حکومت اس کا سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

بھٹکل میونسپل پارک کی تجدیدکاری میں بدعنوانی کا الزام۔ ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم

بھٹکل بلدیہ کے حدود میں بندر روڈ پر واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل پارک کی تجدید کاری میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے  آسارکیری کے عوام  نے بلدیہ انجینئر کو پارک میں طلب کرکے ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم دیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہاں ہورہی بدعنوانی کی تحقیقات کروائی جائے۔