ریاست کے 89 تعلقہ جات خشک سالی سے متاثر،8 ؍ ہزار کروڑ کا نقصان:  آر وی دیش پانڈے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th September 2018, 11:52 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو12؍ستمبر(ایس او نیوز) ریاستی وزیر برائے مالگزاری آر وی دیش پانڈے نے کہا ہے کہ ریاست کے 16؍اضلاع میں 89 تعلقہ جات بارش کی شدید قلت کے سبب سنگین خشک سالی کا شکار ہوچکے ہیں۔ مرکزی حکومت کی طرف سے خشک سالی کا شکار تعلقہ جات کی نشاندہی کے لئے طے شدہ معیار کے مطابق ان تعلقہ جات میں پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کے طے کردہ معیاروں کے مطابق ہی ان 89 تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیتے ہوئے ان کے لئے مرکز ی حکومت سے امداد طلب کرنے کی پہل کی ہے۔

آج اس سلسلے میں منعقدہ کابینہ ذیلی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 30 مئی کو ریاست میں مانسون کا داخلہ ہواتھا اور 8؍ جون تک مانسون کی بارشوں نے پوری ریاست کو اپنے گھیرے میں لے لیا ، بجز ملناڈ اور ساحلی علاقوں کے ریاست کے دیگر حصوں میں بارش کا اوسط معمول کے مقابل کم رہا۔ اس کی وجہ سے کاشتکاری کی سرگرمیاں ان علاقوں میں متاثر ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سیٹلائٹ کے ذریعے جو زرعی تجزیہ حاصل کیا گیا ہے اس کے مطابق کاشتکاری کے لئے ریت کی نمی میں 50فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ آبی ذخائر میں پانی کازیادہ ذخیرہ بھی اس نمی کی حد کو کم کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوسکے گا۔

وزیر موصوف نے بتایاکہ یکم جون سے 6؍ ستمبر تک ریاست میں 721 ایم ایم بارش ہوئی۔ جو معمول کے مقابل بھلے ہی دو فیصد زائد ہو اس کے باوجود بھی 89تعلقہ جات میں بارش معمول کے مقابل کم رہی ہے، رائچور ضلع کا سندھنور تعلق ریاست میں خشک سالی سے متاثرہ بدترین تعلقہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ بارش کی قلت کے سبب ریاست میں 15لاکھ ہیکٹر زمین کی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔اس سے آٹھ ہزار کروڑ روپیوں کے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

وزیر موصوف نے اس موقع پر خشک سالی سے متاثرہ تعلقہ جات کی فہرست بتائی جس میں بنگلور رورل ضلع کے ہوسکوٹہ، رام نگرم ضلع کے چن پٹن ، کنکاپورہ، کولار ضلع کے کولار ، بنگار پیٹ ، مالور ، ملباگل، سری نواس پور، چکبالاپور ضلع کے باگے پلی،چکبالا پور، چنتامنی ، گوری بدنور، گڑی بنڈے اور سدلگٹہ، ٹمکور ضلع کے چکنائکناہلی ، سرا ، گبی ،کورٹگیرے ، کنگل، مدھوگیری، پاؤگڑھ ، ٹپٹور اور ٹمکور شامل ہیں۔ چترادرگہ ضلع میں چلکیرے ، چترادرگہ، ہریور ، اور ملکالمرو ، داونگیرے ضلع میں ہرپن ہلی، ہری ہر، چامراج نگر ضلع میں کولیگال، یلندور ،منڈیا ضلع میں مدور ، ملوولی ، منڈیا ، ناگمنگل، اور سری رنگا پٹن، بلاری ضلع میں بلاری ، ہڑگلی ، ہوسپیٹ ، ہگری بمن ہلی ، کودلگی ، سنڈور ، سرگپہ، کوپل ضلع میں کوپل ، گنگا وتی، کشتگی ، یلبرگہ ، رائچور ضلع میں دیودرگ، لنگسگور ، مانوی ، رائچور، سندھنور، کلبرگی ضلع میں افضل پور، کلبرگی، چنچولی ، چیتا پور، جیورگی اور سڑم ، یادگیر ضلع میں شاہ پور ، شورا پور، اور یادگیر، بیدر ضلع میں بیدر اور ہمناباد ، بلگاوی ضلع میں رام درگ اور سودتی، باگلکوٹ ضلع میں باگلکوٹ ، بادامی ، ہندگند، جمکھنڈی، بیجاپور ضلع میں بیجاپور ، بسون باگے واڑی، انڈی، مدے بہال ، سندگی، گدگ ضلع میں گدگ ، مندرگی ، نرگند ، رون ، شرہٹی، ہاویری ضلع میں رانی بنور، دھارواڑ ضلع میں ہبلی ، نول گند، ہاسن ضلع میں ارسیکیرے ، بیلور، چنرائے پٹن، چکمگلور ضلع میں کڈور تعلقہ کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

روشن بیگ کے خلاف کانگریس کی کارروائی، پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزام میں معطل

کرناٹک کے سابق ریاستی وزیر آرروشن بیگ کے خلاف کانگریس نے کارروائی کی ہے۔ انہیں پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزام میں معطل کردیا گیا ہے۔ روشن بیگ نے کانگریس کے ریاستی لیڈروں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے تھے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی سے منظوری ملنے کے بعد کرناٹک پردیش کانگریس ...

رہائشی علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں پر روک لگانے میں بلدیہ ناکام

بنگلور شہر کے رہائشی علاقوں میں رہائشی عمارتوں کے اندر سے کاروباری سرگرمیوں پر قدغن لگانے کے سلسلہ میں بروہت بنگلورو مہا نگرا پالیکے (بی بی ایم پی) کی مہم مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور پچھلے دو سالوں کے عرصہ میں بلدیہ کی طرف سے صرف پانچ فیصدی ایسے اداروں کو بند کیا گیا ہے-

ٹریفک سے بد حال بنگلوروکو میٹرو سے بڑی راحت

شہر کے راستوں کی بدحالی اور ہر جگہ ٹریفک کے اژدھام نے شہریوں کو بے بس کر رکھا ہے اور عام عوام متبادل نظام نقل و حمل کی جستجومیں لگے ہوئے ہیں اسی لئے میٹرو ریل کی خدمات روز بروز عوام میں مقبولیت حاصل کرتی جا رہی ہے-

بنگلورو کے ایک ہی علاقہ میں ڈینگو کے 47 معاملات

پچھلے کچھ ہفتوں سے اییپا نگر علاقہ کے مکین بار بار اسپتالوں کے چکر لگاتے رہے ہیں، مقامی مکینوں کی فلاحی انجمن کے مطابق پچھلے کچھ ہی دنوں کے دوران اس علاقہ میں کم از کم 47 افراد کو ڈینگو کی وجہ سے اسپتال میں داخل کیا جا چکا ہے-