ملک پھرانسانیت شرمسار،ایٹہ میں آبروریزی کے بعد 8 سالہ معصوم بچی کا قتل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th April 2018, 2:42 PM | ملکی خبریں |

ایٹہ،17؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی) ملک میں معصوم بچیوں کی آبروریزی ،درندگی اوروحشیانہ قتل کے واقعات تھمنے اوررکنے کے بجائے لگاتارجاری ہے۔جموں وکشمیرکے کٹھوعہ میں 8سالہ معصوم بچی کی آبروریزی اوراس کاقتل کے بعد ایک اورمعاملہ سامنے آیاہے۔اترپردیش کے ایٹہ میں بھی 8سال کی معصوم بچی کے ساتھ عصمت دری اورقتل کا معاملہ سامنے آیاہے۔بتایاجارہاہے کہ اس معاملے کے ملزم کوگرفتار کرلیاگیاہے اورپولس آگے کی جانچ کررہی ہے۔واضح ہوکہ گذشتہ چنددنوں کے اندر معصوم بچیوں کے ساتھ عصمت دری کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔

پولس کے مطابق، ہفتہ کوکھیراناگاؤں میں بچی ایک کمیونٹی تقریب سے لوٹ رہی تھی، تبھی 48سالہ شخص نے اسے ایک سنسان جگہ پرلے گیااورریپ کیااوراس کے بعدقتل کردیا۔انہو ں نے بتایاکہ بچی کے اہل خانہ کی جانب سے کل ایف آئی آردرج کرائی گئی ۔ابتدائی جانچ کی بنیادپرملزم کوگرفتارکرلیاگیاہے اورمعاملے کی مزیدجانچ کی جارہی ہے۔
عیاں رہے کہ اس سے قبل سورت میں بھی 11سال کی بچی کاریپ کرنے کے بعدقتل کردیاتھا اوران کے جسم سے درجنوں چوٹ کے نشان ملے تھے۔خبروں کے مطابق ، کانپوردیہات کے رسول آبادتھانہ علاقہ میں ایک نوجوان نے گاؤں کی ہی نابالغ لڑکی کواغواکرنے کے بعد اس کے ساتھ ریپ کیاتھا۔گذشتہ دس دنوں کے اندردہلی ، بہار، مدھیہ پردیش کے علاوہ دیگرشہروں میں ایسے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔

حالانکہ ملک میں کہیں نہ کہیں بچیوں اورخواتین کے ساتھ عصمت دری اورقتل کے واقعات سامنے آنے کے بعد عصمت دری اورقتل کے خلاف مسلسل لوگ احتجاج ومظاہرہ کررہے ہیں اورقصورواروں کوسخت سے سخت سزدلانے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔اتناہی نہیں دہلی خواتین کمیشن کی صدرسواتی مالیوال توبھوک ہڑتال پربیٹھ گئی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بھیما کورے گاؤں تشدد:کنوئیں میں ملی 19سال کے چشم دید کی لاش

ایک جنوری کو پونے کے بھیما کوریگاؤں میں دو فرقوں کے درمیان فساد بھڑک گیا تھا۔اس تشدد میں ایک نوجوان کی موت ہوگئی تھی۔وہیں اس تشدد کی گواہ ایک 19سال کی چشم دید کی لاش فسادات متاثرین کے لئے لگائے گئے ریلیف کیمپ کے پاس ہی ایک کنوئیں میں ملی ہے۔