ہاسن کے قریب کرےکیرے میں بھیانک حادثہ؛ بس تالاب میں جاگری۔ 8مسافر ہلاک ،15زخمی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 13th January 2018, 10:04 PM | ریاستی خبریں |

ہاسن13؍جنوری (ایس او نیوز) ضلع  ہاسن کے کرے کیرے میں رات 3.30بجے پیش آنے والے ایک بھیانک سڑک  حادثے میں 8مسافر ہلاک اور 15 سے زائد زخمی ہوگئے ۔ زخمیوں کو  ہاسن سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہےجس میں کچھ زخمیوں کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

اطلاع کے مطابق  حادثہ اُس وقت پیش آیا جب سرکاری والوئو بس بنگلور سے دھرمستھل  جانے کے دوران ضلع ہاسن کے کرے کیرے میں ایک بریج  کی حفاظتی دیوار سے ٹکرا کر سیدھے تالاب میں جاگری۔ پانچ لوگوں کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی، جبکہ   دیگر تین لوگوں نے اسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑ دیا۔ہلاک ہونے والوں میں ایک میڈیکل کالج کی طالبہ بھی شامل ہے ۔

ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق مرنے والوں میں بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر بھی شامل ہیں،  پانچ مرنے والوں کی شناخت کی گئی ہے اور دیگر تین  کی شناخت ہنوز باقی ہے۔ٹی ڈی ڈیانا (22)، گنگادھر این (58)، شیوپاّ چلواڈی (45)، بس کنڈیکٹر لکشمن  (50) اور بس ڈرائیور مرنے والوں میں شامل ہیں۔

حادثے میں مرنے والے گنگادھر کی اہلیہ سودھا کی حالت نازک بتائی گئی ہے اور اسے ہاسن انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں لے جایا گیا ہے، البتہ دیگر زخمیوں کو ہاسن کے سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بس پر جملہ 44 مسافر سوار تھے، غالباً تیز رفتاری کے باعث یا پھر نیند کے جھونکے سے حادثہ پیش آنے کی بات کہی جارہی ہے اور ابتدائی جانچ سے ڈرائیور کی لاپرواہی کو حادثے کا ذمہ دار ٹہرایا جارہا ہے۔مزید چھان بین جاری ہے۔

حادثے میں پوری بس کے پرخچے اُڑ گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مرنے والے تمام لوگ بس کی اگلی سیٹوں پر سوار تھے۔

بنگلور کے سافٹ وئیر انجینر ونئے بھٹ جو اپنے ایک کزن کے ساتھدھرمستھلا جارہا تھا، نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ وہ گہری نیند میں تھا کہ اچانک ایک بڑی آواز سن کر جاگ اُٹھا، اُس نے دیکھا کہ  بس کے اندر افراتفری مچ گئی ہے، کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے  کہ آخر ہوا کیا ہے، کچھ لوگ میرے اوپر آکر گرگئے، میں کسی نہ کسی طرح بس سے باہر آیا اور پولس کنٹرول روم کو فون کرکے مدد طلب کی۔  حادثے میں ونئے بھٹ کے بائیں ہاتھ کی ایک ہڈی ٹوٹ گئی ہے، اس نے اوپروالے کا شکر ادا کیا کہ  اُسے معمولی چوٹ آئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ جو لوگ بس سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے، انہوں نے پولس اور ایمبولنس کو فون کرکے حادثے کی اطلاع دی، البتہ اُن کی مدد پہنچنے سے پہلے پاس کے دیہات کے کچھ لوگ مدد کے لئے دوڑ پڑے اور زخمی مسافروں کو بس سے باہر نکالا۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی شانتی گراما پولس موقع واردات پر پہنچی اور زخمیوں کو اسپتال پہنچانے کے ساتھ ساتھ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے روانہ کیا۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولس آر کے شاہاپورواد سمیت دیگر سنئیر پولس آفسران بھی جلد ہی جائے حادثہ پر پہنچ کر زخمیوں کو اسپتال پہنچانے میں تیزی دکھائی۔

بتایا گیا ہے کہ بس جمعہ کی شب 11:45 بجے بنگلور سے نکلی تھی، حادثہ رات قریب 3:30 بجے پیش آیا۔ 

حادثہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ وزیر ایچ ایم ریونا نے مرنے والوں کے ورثاء کو فوری طور پر تین تین لاکھ روپیہ امداد دینے کا اعلان کیا اور زخمیوں کے لئے سرکاری خرچہ پر مکمل علاج کرنے کا اعلان کیا  ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

گرفتاری کے خوف سے رکن اسمبلی جے این گنیش روپوش

بڈدی کے ایگل ٹن ریسارٹ میں ہوسپیٹ کے رکن اسمبلی آنند سنگھ پر حملہ کرنے والے رکن اسمبلی جے این ۔ گنیش کے خلاف بڑدی پولیس تھانہ میں ایف آئی آر داخل کرنے کی خبر کے بعد سے گنیش لاپتہ ہیں ۔

وسویشوریا یونیورسٹی رجسٹرار پر200کروڑ کے گھپلے کا الزام گورنر نے چھان بین کے لئے وظیفہ یاب جج کو مقرر کیا ۔ تعاون کرنے ملزم کو ہدایت

وسویشوریا ٹکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے رجسٹرار اب مشکل میں پڑگئے ہیں۔ گورنر واجو بھائی روڈا بھائی والا نے جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں،200کروڑ روپئے تک کے گھوٹالے کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔

لنگایت طبقہ کے مذہبی رہنما شیوکمارسوامی کی آخری رسومات ادا، اسلامی تعلیمات اوراردو زبان سے بھی تھی واقفیت

یاست کرناٹک کی ایک عظیم شخصیت، لنگا یت طبقہ کے مذہبی رہنما، شیوکمارسوامی جی کی آج آخری رسومات انجام دی گئیں۔ بنگلورو کے قریب واقع ٹمکورشہرمیں شیوکمارسوامی جی کولنگایت رسومات کے مطابق دفنایا گیا۔ سدگنگا مٹھ میں آج اورکل لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے سوامی جی کا آخری ...

ملک کو ایک باضابطہ دانشمندانہ انتخابی نظام کی ضرورت ہے آئین جمہوریت کی حفاظتی حصار ہے۔ اقلیت واکثریت کے توازن کو برقرار رکھنے پر حامد انصاری کازور

سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامدانصاری نے کہا کہ ملک کو ایک باضابطہ سمجھدار انتخابی نظام کی ضرورت ہے ، شفاف انتخابی ماڈیول کو فروغ کی سمت بھی کوشش ہونی چاہئے ۔