ضلع شمالی کینرا کی 6نشستوں کا انتخابی انجام بالیگا کالج کے اسٹرانگ روم میں مقید !

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th May 2018, 8:11 PM | ساحلی خبریں |

کمٹہ 13؍مئی (ایس اونیوز) ریاستی اسمبلی انتخابات میں پولنگ کا مرحلہ ختم ہونے کے بعد امیدوار بڑھتی ہوئی دل کی دھڑکنوں کے ساتھ نتائج کے انتظار میں بے قرار بیٹھے ہیں۔ 

ضلع شمالی کینرا کی 6نشستوں پر انتخاب لڑنے والے امیدواروں کے نتائج کو اپنے اندر چھپائے رکھنے والی ووٹنگ مشینوں کو کمٹہ کے ڈاکٹر اے وی بالیگا کالج کے اسٹرانگ روم میں قید کردیا گیا ہے اور باہر سے پولیس کا سخت پہرہ لگادیا گیا ہے۔کمپاؤنڈ کی دیواروں پر باڑھ لگادی گئی ہے اور مین گیٹ سے بغیر خصوصی اجازت کے کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔کالج کے اطراف میں نگرانی کے لئے پولیس کے علاوہ نیم فوجی دستوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ تمام امیدوار 15مئی کا سورج نکلنے اور ووٹنگ مشین کے اندر چھپے ہوئے ووٹوں کا کرشمہ دیکھنے کے لئے بے چین ہیں۔یوں کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ ان ووٹنگ مشینوں میں امیدواروں کا مستقبل بندہے جس سے ان کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔کیونکہ اس بار یہاں پر جو الیکشن ہوا ہے اس میں امیدواروں کے درمیان زبردست مقابلہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس لئے جیتنے اور ہارنے والے امیدواروں کے بیچ ووٹوں کا فرق بہت زیادہ ہونے کی امید کم ہی ہے۔یہی وجہ کے عوام بھی یہ دیکھنے کے لئے بے قرار ہیں کہ کس کے گلے میں جیت کی وجہ سے پھولوں کی مالا پڑے گی اور کسے ہار کی وجہ سے شرمسار ہوناپڑے گا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں کی تقریباً تمام نشستوں پر بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ہی راست مقابلہ دیکھنے کو ملا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے امیدوار اقلیتوں کے ووٹوں کی وجہ سے اپنے نتائج متاثر ہونے کا حساب و کتاب جوڑ رہے ہیں۔ اقلیتی علاقوں میں پولنگ کی شرح کو سامنے رکھتے ہوئے بی جے پی کی طرف سے اپنی جیت اور ہار کے بارے میں اندازہ لگایا جارہا ہے۔ جیسے بھٹکل کے شہری علاقے میں 49حلقے ایسے ہیں جہاں اقلیتوں کے ووٹ بہت زیادہ ہیں ، اسے سامنے رکھ کر بی جے پی والے اندازہ لگارہے ہیں کہ ان پولنگ اسٹیشنوں میں اقلیتوں کی طرف سے 50فیصد سے اگر کم پولنگ ہوتی ہے تو ا س کا بالواسطہ فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ اورکانگریس کی طرف سے یہ حساب لگایا جارہا ہے کہ اگر یہ شرح 50فیصد سے آگے نکلتی ہے تو پھراس کے لئے جیت کی راہ آسان ہوجائے گی۔اس طرح ہر علاقے میں سیاسی پنڈت اپنے اپنے طور پر حساب لگانے اور نتائج کی پیش گوئی کرنے میں مصروف ہیں ، جبکہ بالیگا کالج کے کمرے میں قید الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں تمام راز اپنے اندر چھپائے بیٹھی ہیں کہ 15مئی کی صبح ہوتو پھر سب کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیں گی۔

ایک نظر اس پر بھی

اڈپی: بھاسکر شیٹی مرڈر کیس کے ملزم نرنجن بھٹ کوسپریم کورٹ سے بھی نہیں ملی ضمانت

مشہور تاجر بھاسکر شیٹی کے سنسنی خیز قتل کے اہم ملزم نرنجن بھٹ کی ضمانت کی عرضی سپریم کورٹ نے بھی مسترد کردی ہے۔واضح رہے کہ نرنجن بھٹ پیشے سے ایک نجومی ہے اور الزام ہے کہ 28جولائی 2016کوبھاسکر شیٹی کی بیوی اور بیٹے کے ساتھ مل کر قتل کی سازش رچنے اور لاش کے ٹکڑے کرکے ’ہوما‘ کی آگ میں ...

اُڈپی : رافیل گھپلے کے خلاف ضلع کانگریس کا احتجاج : احتجاجی ریلی میں لاٹھیوں کی نمائش

نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی بی جے پی کی  حکومت 41ہزار کروڑ روپیوں کے رافیل جنگی جہاز گھپلے کے متعلق شفاف جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے اُڈپی ضلع کانگریس کی قیادت میں منگل کو اُڈپی ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو احتجاج کیا گیا۔

بھٹکل کی رکشاموگیر اٹیا پٹیا کھیل کی ریاستی ٹیم کے لئے منتخب

شرالی کے سینٹ تھامس کوٹے باگیلو اسکول کی طالبہ کماری رکشا جنّا موگیر  اٹیا پٹیا نامی کھیل کی ریاست کرناٹکا کی ٹیم کے لئے منتخب ہونےکی جانکاری بھٹکل تعلقہ اٹیا پٹیا فیڈریشن کے اعزازی سکریٹری نے پریس ریلیز کے ذریعے دی ہے۔

بھٹکل کے نیمدی کیندرا کو مناسب عمارت میں منتقل کرنے کا مطالبہ؛ سماجی کارکن فیاض ملا نے  ڈی سی کو سونپا میمورنڈم

شہر کا اٹل جی جن سنہی مرکز  مقامی انتظامیہ کے ایک تنگ کمرے میں کام انجام دینے کی وجہ سے ضروریات کے لئے پہنچنے والے عوام کو کافی دقت ہورہی ہے۔ بھٹکل بلدیہ کے نامزد ممبر اور سماجی کارکن فیاض ملا نے اترکنڑا ڈپٹی کمشنر سے کاروار میں ملاقات کرتے ہوئے مرکز کو  کسی دوسری مناسب جگہ ...

ہوناور میں ہوئے سڑک حادثہ میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر ہوگئی چھ؛ منی پال اسپتال میں ایک خاتون کی ہوئی موت

تین روز قبل ہوناور تعلقہ کے کرکی نیشنل ہائی وے پر ہوئے سڑک حادثے میں پانچ لوگوں کی موت واقع ہوگئی تھی اور آٹھ لوگوں کو شدید زخمی حالت میں اُڈپی، منی پال اور مینگلور اسپتالوں میں داخل کیا گیا تھا،  اس تعلق سے منی پال سے خبر ملی ہے کہ اسپتال میں ایڈمٹ ایک خاتون  زخموں کی تاب نہ ...