اسرائیلی پولیس کی سیکیورٹی میں 54 یہودی قبلہ اول میں داخل

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 9th October 2018, 6:00 PM | عالمی خبریں |

مقبوضہ بیت المقدس 9اکتوبر ( آئی این ایس انڈیا ؍ایس او نیوز) یہودی شرپسندوں کی طرف سے مسلمانوں کے قبلہ اول پر دھاووں اور مقدس مقام کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ روز54 یہودی شرپسندوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسلمانوں کے تاریخی مقدس مقام کی بے حرمتی کے اشتعال انگیز اقدام کا ارتکاب کیا۔

اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز قبلہ اول پر دھاوا بولنے والے یہودی اشرار میں متعددیہودی طلبا شامل تھے۔ یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ کے ’مراکشی دروازے‘ کے راستے صبح اور شام کے اوقات میں اندر داخل ہوتے اور مذہبی رسومات کی ادائی کی آڑ میں قبلہ اول کی بے حرمتی کرتے رہے۔ خیال رہے کہ مسجد اقصیٰ کا باب المغاربہ سنہ 1967کے بعد قابض صہیونیوں کے نرغے میں ہے اور یہودی اسی دروازے کو قبلہ اول میں دھاووں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس موقع پر اسرائیلی فوج نے اور پولیس نے آباد کاروں کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کر رکھی تھی۔ مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ کل بدھ کو قبلہ اول پر دھاوے بولنے والے آباد کاروں میں مذہبی پیشوا بھی شامل تھے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں نے مسجد میں گھس کر مذہبی رسومات کی ادائی میں اشتعال انگیز حرکات کا ارتکاب کیا۔ اس موقع پر یہودی عورتیں اور بچے بھی مسجد میں آئے جنہیں پولیس کی طرف سے فول پروف سیکیورٹی مہیا کی گئی تھی۔ یہودی آباد کاروں کے تازہ دھاوے ایک ایسے وقت میں مارے جا رہے ہیں جب اسرائیلی انتظامیہ نے یہودی آباد کاروں کے لیے دن میں دو بار مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی اجازت دے رکھی ہے۔ یہودی شرپسند تین گھنٹے صبح اور تین گھنٹے شام کو مسلمانوں کے قبلہ اول میں داخل ہوکر مذہبی رسومات کی ادائی کی آڑ میں مقدس مقام کی بے حرمتی کرتے ہیں۔یہودی آباد کاروں کے ہمراہ ان کے مذہبی پیشوا اور ربی بھی موجود تھے جنہوں نے قبلہ اول میں داخل ہونے کے بعد وہاں پر مزعومہ ہیکل سلیمانی پر روشنی ڈالی اور یہودیوں کو تاکید کہ وہ مذہبی تعلیمات پرعمل پیرا رہتے ہوئے ہیکل سلیمانی کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔ بعض فلسطینی شہریوں کے شناختی کارڈ ضبط کرلیے گئے اور انہیں مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائی سے روک دیا گیا۔ یہودیوں کی مسجد اقصیٰ میںآمد کے موقع فلسطینی نمازیوں کی بڑی تعداد بھی پہنچ گئی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی