4800لکچرارس اور معاون لکچرارس کا تقرر عنقریب:جی ٹی دیوے گوڈا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th July 2018, 11:28 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،11؍جولائی(ایس او نیوز) ریاستی وزیر برائے اعلیٰ تعلیمات جی ٹی دیوے گوڈا نے کہاہے کہ سرکاری کالجوں میں لکچرارس ، معاون لکچرارس اور دیگر 4800اسامیوں کو ترجیحی بنیاد پر پر کرنے کے لئے محکمے نے قدم اٹھائے ہیں۔

آج ریاستی اسمبلی میں وقفۂ سوالات کے دوران امیش جی یادو کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ لکچرارس اور معاون لکچرارس کی 3800اسامیاں اور ایک ہزار دیگر اسامیوں کو جو پالیٹکنک کالجوں سے جڑی ہوئی ہیں ان میں پرنسپل کے عہدے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ عنقریب ان تمام اسامیوں کو پر کرنے کے لئے قدم اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ شمالی کرناٹک میں مقرر کئے گئے لکچراروں کو تعیناتی کی بنیاد پر قدیم میسور علاقوں میں مقرر کرنے کی تجویز پر غور کیا جائے گا۔

وزیر موصوف نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے کسی بھی کالج کے لکچرار کا تبادلہ کرنے یا انہیں لکچرارکی خدمت سے ہٹاکر کسی اور قسم کی خدمت پر مامور کرنے کی کوئی تجویز حکومت کے سامنے ہے اور نہ ہی قانون میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

جنوبی ہند کے مشہور ومعروف عالم دین حضرت مولانا زکریا والا جاہی کا انتقال

نوبی ہند کے مشہور ومعروف،ممتاز جیدعالم دین زکریا صاحب والا جاہی طویل علالت کے بعد آج صبح 10؍بجے اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ مولانا کو شیواجی نگرکے براڈوے کی ان کی رہائش پر آخری دیدار کے لئے رکھا گیا تھا۔

یڈیورپا میرے صبر کا امتحان نہ لیں؛ حکومت کو گرانے کی بارہا کوشش بی جے پی کو زیب نہیں دیتی: کمار سوامی کا بیان

وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپا کو متنبہ کیا ہے کہ بارہا ریاستی حکومت کو گرانے کی کوشش کرکے وہ ان کے صبر کا امتحان نہ لیں۔اگر یہ کوشش جاری رہی تو یڈیورپا کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش پرسدرامیا نے کہا؛ اپوزیشن کار ول ادا کرنے کی بجائے بی جے پی بے شرمی پر اتر آئی ہے

سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی  حکمران اتحاد کی رابطہ کمیٹی کے چیرمین سدرامیا نے کہا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کو ایک تعمیری اپوزیشن پارٹی کا رول ادا کرنا چاہئے، لیکن ایسا کرنے کے  بجائے انتہائی بے شرمی سے یہ پارٹی ریاستی حکومت کو گرانے کی کوششوں کو اپنا معمول بناچکی ہے۔