پاکستان: مبینہ گستاخ رسول کو قتل کرنے کے الزام میں تین بہنیں گرفتار

Source: S.O. News Service | Published on 20th April 2017, 7:37 PM | عالمی خبریں |

اسلام آباد،20اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)صوبہ پنجاب ضلع پسرور میں 3 برقع پوش بہنوں نے 13 سال قبل مبینہ طور پر توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے ایک شخص کو فائرنگ کر کے قتل کردیا۔واقعے کے بعد پولیس تینوں بہنوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی جن کی شناخت امینہ، افشین اور رضیہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔مقامی اخبار”ڈان نیوز“کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ 3 خواتین ایک مذہبی رہنما مظہر حسین سید کے گھر پر گئیں اور ان کے بیٹے سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔جس وقت 45 سالہ فضل عباس ان خواتین کے سامنے آئے تو تینوں بہنوں نے اپنے ساتھ لائے گئے آتشی اسلحہ سے اس پر فائرنگ کردی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔
فضل عباس کی ہلاکت کے بعد خواتین نے نعرے لگائے کہ انھوں نے مبینہ طور پر توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے کو قتل کردیا ہے۔ملزمان خواتین نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا کہ فضل عباس نے 2004 میں توہین رسالت کا ارتکاب کیا تھا، 'لیکن ہم اسے اس وقت قتل نہ کرسکیں کیونکہ ہم اس وقت بہت کم عمر تھیں۔پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فضل عباس کے خلاف 2004 میں پسرور سٹی تھانے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفع 295 سی کے تحت توہین رسالت کے ارتکاب کی ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی تاہم وہ بیرون ملک فرار ہوگیا تھا۔پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم حال ہی میں بیرون ملک سے وطن واپس آیا تھا اور اس نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی تھی۔ بعد ازاں پولیس نے فضل عباس کی لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے پسرور سول ہسپتال منتقل کردیا۔
 

ایک نظر اس پر بھی

سینٹ لوئس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں

2011ء میں ایک سیاہ فام امریکی ڈرائیور انتھونی لامار اسمتھ کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے پولیس افسر کو ایک عدالت کی طرف سے بری کر دیے جانے کے بعد سینٹ لوئس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

لندن بم دھماکے میں ملوث افراد کی تلاش اور شناخت کا عمل جاری

برطانوی پولیس نے کہا ہے کہ اس نے اتوار کے روز لندن ٹرین بم دھماکے میں ملوث ایک اور مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے تھے۔ دھماکے کے بعد لندن پولیس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایک 21 سالہ شخص کو گرفتار کیا تھا۔