سپریم کورٹ پہنچی ای وی ایم کی جنگ، 21 اپوزیشن پارٹیوں کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کا نوٹس

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th March 2019, 9:10 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 15 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ای وی ایم اور وی وی پیڈ کو لے کر چھڑی جنگ اب سپریم کورٹ میں پہنچ گئی ہے۔آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو، دہلی کے وزیر اعلی اروندکجریوال سمیت 21 اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ درخواست پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا ہے۔کورٹ کی جانب سے اگلی سماعت میں الیکشن کمیشن کے ایک سینئر افسر کو عدالت میں پیش ہونے کو کہا ہے۔

دراصل اپوزیشن پارٹیوں کی درخواست میں اپیل کی گئی تھی کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کو ہدایات دے کہ وہ کل استعمال کی جا رہی ای وی ایم اوروی وی پیڈ  میں سے 50 فیصد ای وی ایم میں درج ووٹوں اور ان کی جوڑی دار وی وی پیڈ  میں موجود پرچیوں کا اچانک ملاپ کرکے دکھائے۔درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک الیکشن کمیشن 4.4 فیصد ای وی ایم اوروی وی پیڈ  ملاپ کرتا ہے۔

اب اس معاملے کی سماعت 25 مارچ کو ہوگی۔آپ کو بتا دیں کہ گزشتہ دنوں انتخابات کی تاریخوں کے اعلان سے پہلے اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان بڑی میٹنگ ہوئی تھی، اسی میٹنگ میں اس درخواست کو لے کر غوروفکر کیا گیا تھا۔

غور طلب ہے کہ اس بار لوک سبھا انتخابات میں ای وی ایم کے ساتھ ساتھ ويويپیٹ مشینوں کا بھی استعمال کیا جائے گا۔گزشتہ کئی انتخابات میں ایسا دیکھنے کو ملا ہے جب اپوزیشن پارٹیوں نے انتخابی نتائج پر سوال اٹھائے ہیں اور مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا تھا۔اپوزیشن نے اترپردیش اسمبلی انتخابات، دہلی الیکشن سمیت کئی دیگر ریاستوں کے انتخابات کے بعدای وی ایم پر تشویش ظاہر کی تھی۔اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو، بہار کے سابق نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو، دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال بھی وی ایم پر سوال کھڑے کر چکے ہیں۔اگرچہ، بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ہر بار یہی کہا گیا ہے کہ جب بھی اپوزیشن پارٹیاں انتخابات ہارتی ہیں تو ای وی ایم کا بہانہ کرتی ہے لیکن جب جیتتی ہیں تو خاموشی اختیار لیتی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

وزیراعظم مودی نے کابینہ سمیت سونپا صدرجمہوریہ کو استعفیٰ، 30 مئی کو دوبارہ حلف لینےکا امکان

لوک سبھا الیکشن کے نتائج کے بعد جمعہ کی شام نریندرمودی نے وزیراعظم عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے ساتھ  ہی سبھی وزرا نے بھی صدرجمہوریہ کواپنا استعفیٰ سونپا۔ صدر جمہوریہ نےاستعفیٰ منظورکرتےہوئےسبھی سے نئی حکومت کی تشکیل تک کام کاج سنبھالنےکی اپیل کی، جسے وزیراعظم نےقبول ...

نوجوت سنگھ سدھوکی مشکلوں میں اضافہ، امریندر سنگھ نے کابینہ سے باہرکرنے کے لئے راہل گاندھی سے کیا مطالبہ

لوک سبھا الیکشن میں زبردست شکست کا سامنا کرنے والی کانگریس میں اب اندرونی انتشار کھل کرباہرآنے لگی ہے۔ پہلےسے الزام جھیل رہے نوجوت سنگھ سدھو کی مشکلوں میں اضافہ ہونےلگا ہے۔ اب نوجوت سنگھ کوکابینہ سےہٹانےکی قواعد نے زورپکڑلیا ہے۔

اعظم گڑھ میں ہارنے کے بعد نروہوا نے اکھلیش یادو پر کسا طنز، لکھا، آئے تو مودی ہی

بھوجپوری سپر اسٹار نروہوا (دنیش لال یادو) نے لوک سبھا انتخابات کے دوران سیاست میں ڈبیو کیا تھا،وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر یوپی کی ہائی پروفائل سیٹ اعظم گڑھ سے انتخابی میدان میں اترے تھے لیکن اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کے سامنے نروہا ٹک نہیں پائے۔