مظفرنگر فساد کیس میں 7 قصورواروں کو ملی عمر قید کی سزا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 9th February 2019, 1:24 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی،9؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) 5 سال پہلے مظفر نگر میں ہوئے فسادات کیس میں مقامی عدالت نے جمعہ کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے تمام قصورواروں کو عمر قید کی سزا دی ہے۔ اس سے پہلے عدالت نے کوال گاؤں میں ایک حملے میں دو نوجوانوں کے قتل کے الزام میں بدھ کو سات افراد کو قصوروار ٹھہرایا۔

بتایا جاتا ہے کہ اسی حملے کے بعد 2013 میں مظفر نگر میں فساد بھڑک گیا جس میں 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ضلع پراسیکیوٹر راجیو شرما نے بتایا کہ ایڈیشنل ضلع اور سیشن جج ہمانشو بھٹناگر نے 27 اگست، 2013 کو گورو اور سچن کے قتل کرنے اور فسادات کے جرم میں مزمل، فرقان، ندیم، جہانگیر، افضل اور اقبال کو مجرم قرار دیا۔ سرکاری وکیل انجم خان نے بتایا کہ بلند شہر جیل میں بند مزمل و یڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش ہوا، کافی تحفظ نہیں مل پانے کے سبب اس کو عدالت میں پیش کیا نہیں کیا جا سکا۔گورو کے والد روندر کمار نے 7 افراد کو مجرم ٹھہرائے جانے کے بعد کہا کہ ہمیں کورٹ پر اعتماد تھا اور یہ بھی جانتے تھے کہ اس میں کئی سال لگ جائیں گے، اب دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے، صرف ہم جانتے ہیں کہ ہم نے اسے ہمیشہ کے لئے کیا کھو دیا۔وہیں گورو کی ماں نے بات چیت میں کہا کہ ملزمان کو موت کی سزا ملنی چاہئے۔

انہوں نے بغیر کسی وجہ کے میرے بیٹے کو مار ڈالا۔ابتدائی انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق جانسٹھ تھانے کے تحت آنے والے کوال گاؤں کے دو نوجوانوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ کورٹ نے استغاثہ کے 10 گواہوں اور بچاؤ میں اترے 6 گواہوں کی جرح کے بعد 7 لوگوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ استغاثہ کے وکیل کی طرف سے دی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2013 کے فسادات کے بعد 6000 سے زیادہ معاملے درج کئے گئے اور فسادات میں مبینہ کردار کے لئے 1480 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا، معاملے کی تفتیش کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے 175 مقدمات میں فرد جرم داخل کیا تھا۔ دریں اثنا 8 فروری کو سزا کا اعلان ہونے کے بعد ملزم طرف ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تیاری میں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار میں پیش آیا چھ سالہ بچی کے ساتھ عصمت دری کا وحشیانہ معاملہ؛ پوکسو ایکٹ کے تحت وحشی ملزم گرفتار

کاروار کے کوڈی باغ میں ایک 6سالہ بچی کے ساتھ آبروریزی کا وحشیانہ معاملہ سامنے آیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ بچی کے ساتھ زبردستی منہ کالا کرنے والے نوجوان کا نام ونودبابنی نائک(36سال) ہے۔

اترکنڑا ضلع میں ’بیٹی بچاؤ،بیٹی پڑھاؤ‘ منصوبہ جاری نہیں کیا گیا ہے: جعلسازوں سے عوام کو  چوکنا رہنے کی اپیل

محکمہ بہبود و  خواتین و اطفال کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ مرکزی سرکار کی ’بیٹی بچاؤ،بیٹی پڑھاؤ‘ اسکیم کے تحت 2لاکھ روپے امداد دلانے کے نام پر کچھ غیر مجاز اداروں، تنظیموں اور افراد کی جانب سے لڑکیوں کی ذاتی معلومات ایک نمونہ فارم پر درج کرنے اوردھوکہ دہی کرنے کی بات ...

کاروار میں سی برڈ نیول بیس کی سرحد پر داخل ہونے پر ماردینے کی وارننگ کا بورڈ چسپاں کرنے پر عوام میں سخت ناراضگی

  سی برڈ بحری اڈے کی  سرحد میں غیر قانونی طور پر گھسنے کوشش کرنے پر ماردینے کی وارننگ والا بورڈ چسپاں کرنے کے بعد کاروار کے بینگا سے انکولہ کے ہارواڑ تک کے عوام نے  سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے  اسے شہری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مودی حکومت نے لوک سبھا میں ’آر ٹی آئی‘ ختم کرنے والا بل پیش کیا: کانگریس

  کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ’کم از کم گورنمنٹ اور زیادہ سے زیادہ گورننس‘ کی بات کرنے والی مرکزی حکومت لوگوں کے اطلاعات کے حق کے تحت حاصل حقوق کو چھین رہی ہے اور اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

منگلورو میں ڈینگی سے ٹی وی جرنلسٹ ہلاک 

بی ٹی کے لئے ویڈیو جرنلسٹ کے طور خدمات انجام دینے والے ناگیش پاڈوکی موت کے ساتھ منگلورو میں ڈینگی بخار سے ہونے والی ہلاکتوں میں ایک او ر اضافہ ہواہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل ڈینگی بخار میں مبتلا تین افراد کی موت واقع ہوچکی ہے۔