2002گجرات فسادات: جج پی بی دیسائی نے ثبوتوں کو نظر انداز کردیا: سابق IAS افسر و سماجی کارکن ہرش مندرکا انکشاف

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 10th January 2019, 12:26 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

نئی  دہلی 10/جنوری  (ایس او نیوز)  خصوصی تفتیشی ٹیم عدالت کے جج پی ۔بی۔ دیسائی نے ان موجود ثبوتوں کو نظر انداز کیاکہ کانگریس ممبر اسمبلی احسان جعفری جنہیں ہجوم نے احمدآباد کی گلمرگ سوسائٹی میں فساد کے دوران قتل کردیا تھا انہوں نے مسلمانوں کو ہجوم سے بچانے اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سے فساد پر قابو کرنے کے لئے ہر ممکنہ رابطہ  کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان باتوں کا انکشاف سماجی کارکن ہرش مندر نے کیا ہے۔ ہرش نے کہا کہ ’’ فاضل جج جو کہ دسمبر 2017میں سبکدوش ہوگئے انہوں نے اس بات کو نظر انداز کیا کہ جعفری نے مرنے سے قبل بطور ممبر اسمبلی اعلیٰ پولس افسران و دیگر ذمہ داران بشمول اُس وقت کے وزیر اعلیٰ مودی سے رابط کرنے کی بہت کوشش کی تھی اور  فوج و پولس کے ذریعہ ہجوم کو قابو میں  کرنے اور فسادیوں سے مسلمانوں کو بچانے کی درخواست کی تھی۔

خیال رہے  کہ ہرش مندر  نے گجرات میں فسادات کی وجہ سے احتجاجاً   IASسے استعفیٰ دے دیا تھا، انہوں   نے حال ہی میں اجراء شدہ اپنی کتاب ’’ Partitions of the Heart: Unmaking the Idea of India‘‘ میں اس طرح کے   انکشافات کیے ہیں۔

66سالہ سماجی کارکن ہرش مندر جو  فسادات کے ملزمین سمیت  بھوکے و بے گھر افراد کے لئے  کام کرتے ہیں نے انتقال کرجانے والے  صحافی کلدیپ نیئر کی بات پیش کرتے ہوئے کہا ہے  کہ جعفری نے شدت سے انہیں فون کیا تھا اور کسی بھی مناسب انتظامیہ سے رابط کرکے انہیں بچانے کے لئے پولس یا فوج کو بھیجنے کی التجاء کی تھی۔ ہرش نے کہا کہ کلدیپ نے مرکزی وزیر داخلہ کو فون کرکے حالات کی سنگینی کو پیش کیا تھا۔ وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ وہ ریاستی حکومت سے مستقل ربط میں ہیں اور حالات پر نظر بنائے ہوئے ہیں۔ جعفری نے دوبارہ فون کیااور کلدیپ سے التجاء کی کہ وہ ہجوم کو انہیں قتل کرنے سے روکنے کے لئے کچھ اقدامات  کریں۔

کتاب کے ایک سبق ’’ Whatever happened in Gulberg Society‘‘ میں ہرش نے لکھا کہ جعفری نے ان لوگوں کی حفاظت کرنے کے لئے جو مانتے تھے کہ انکا اثر انہیں بچا سکتا ہے اپنی طاقت کی حد تک وہ سب کچھ کیاجو وہ کرسکتے تھے۔ ہرش نے کہا کہ جعفری نے ہجوم سے بھیک مانگی  کہ وہ وہاں موجود مسلمانوں کی جان کے بدلے انکی جان لے لیں۔ہرش نے لکھا  ہے کہ ’’ جب جعفری کو احساس ہوا کہ حکومت و انتظامیہ میں سے کوئی بھی انکی حفاظت کے لئے  آنے والا نہیں ہے تو انہوں نے اپنی لائسنس والی بندوق اٹھائی اور حملہ کر رہے ہجوم پر گولی چلا دی‘‘۔

ہرش نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ جعفری کے حفاظت کے لئے گولی چلانے کے آخری عمل کو ناجائز عمل قرار دیتے ہوئے جج نے سنوائی کے دوران صرف مودی کی جانب سے لئے گئے اقدامات کا ڈھنڈورا پیٹا ، جنہوں نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ جعفری نے پہلے ہجوم پر گولی چلائی تھی۔ ہرش نے کہا کہ ’’ وہ یہ کہنا بھول گئے کہ ہر شہری سے ہجوم کے اس عمل کے موقع پر یہی امید کی جاسکتی ہے، جس میں ہجوم نے پہلے ہی سے بہتوں کو ذبح کردیا تھا اور پولس نے جان بوجھ کر اس پر کوئی کاروائی نہیں کی تھی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ انکے نزدیک کیا ذبح کرنے والے ہجوم کی موجودگی میں جو قتل کرنے کی دھمکی دے رہا ہو اور جو تیزاب بم پھینک رہے ہوں تو وہاں پر موجود مظلوم مسلمانوں کو اپنی حفاظت کے لئے صرف درخواست ہی کرنا چاہیے تھا۔

کتاب کے مطابق احسان جعفری کی بیوی ذکیہ جعفری کو اس بات پر مکمل یقین ہے کہ انکے شوہر کو ایک سازش کے تحت مارا گیاجس میں مکمل انتظامیہ کا دخل ہے۔ہرش نے مزید کہا کہ فساد میں بچنے والوں نے جج کے سامنے پوری روداد  سنائی لیکن جج دیسائی کو صرف  اس بات پر یقین تھا کہ اس میں کوئی سازش نہیں تھی اور انتظامیہ نے اس فساد کو روکنے کے لئے وہ سب کچھ کیا جو کرسکتے تھے۔ہرش نے کتاب میں یہ بھی لکھا کہ احمدآباد میں بار بار فساد ہونے کی وجہ سے آبادی ہندو مسلم علاقوں میں بٹ گئی تھی۔ ہندو علاقوں میں گلبرگ آخری مسلم علاقہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ دیسائی نے تہلکہ رپورٹر کی جانب سے خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی  گفتگوؤں کو بھی نظر انداز کیااور کہا کہ کسی کو بھی اسٹنگ آپریشن کی بنیاد پر ملزم نہیں ٹہرایا جا سکتا۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس کی چھٹی فہرست جاری، مہاراشٹر کے 7 اور کیرالہ کے 2 امیدواروں کے ہیں نام

کانگریس پارٹی نے لوک سبھا انتخابات کے لئے امیدواروں کی چھٹی فہرست جاری کر دی ہے، چھٹی فہرست میں 9 امیدواروں کے نام شامل ہیں، ان میں مہاراشٹر کے 7 اور کیرالہ کے دو امیدواروں کے نام شامل ہیں، کانگریس پارٹی اب تک 146 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر چکی ہے۔

مودی پھر جیتے تو ملک میں شاید انتخابات نہ ہوں: اشوک گہلوت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے منگل کو نریندر مودی حکومت کے دور میں ’جمہوریت اور آئین‘ کو خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر عوام نے مودی کو پھر سے اقتدار سونپا، تو ہو سکتا ہے

شمالی کینرا پارلیمانی سیٹ کو جے ڈی ایس کے حوالے کرنے پر کانگریسی لیڈران ناراض؛ کیا دیش پانڈے کا دائو اُلٹا پڑ گیا ؟

ایک طرف کانگریس اور جنتا دل ایس کی مخلوط حکومت نے ساجھے داری کے منصوبے پر عمل کرکے سیٹوں کے تقسیم کے فارمولے پر رضامند ہونے کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف کچھ اضلاع سے کانگریس پارٹی کے کارکنان اور مقامی لیڈران میں بے اطمینانی کی ہوا چل پڑی ہے۔ جس میں ضلع اڈپی کے علاوہ شمالی کینرا ...

پاکستان پر فضائی حملے سے بی جے پی کے لئے پارلیمانی الیکشن کا راستہ ہوگیا آسان !  

پاکستان کے بہت ہی اندرونی علاقے میں موجود دہشت گردی کے اڈے پر ہندوستانی فضائی حملے سے بی جے پی کو راحت کی سانس لینے کا موقع ملا ہے اور آئندہ پارلیمانی انتخابات جیتنے کی راہ آسان ہوگئی۔اور اب وہ سال2017میں یو پی کے اسمبلی انتخابات جیتنے کی طرز پر درپیش لوک سبھا انتخابات جیتنے کے ...

ہندوستان میں اردو زبان کی موجودہ صورتحال، عدم دلچسپی کے اسباب اوران کا حل ۔۔۔۔ آز: ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

یہ آفتاب کی طرح روشن حقیقت ہے کہ اردو بھی ہندی، بنگلہ، تلگو، گجراتی، مراٹھی اور دیگر ہندوستانی زبانوں کی طرح آزاد ہندوستان کی قومی اور دستوری زبان ہے جو دستورِ ہند کی آٹھویں شیڈول میں موجود ہے۔ لہٰذا یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اردو ہندوستان کی زبان نہیں ہے۔ جو ایسا کہتا ہے اور ...

آننت کمار ہیگڈے۔ جو صرف ہندووادی ہونے کی اداکاری کرتا ہے ’کراولی منجاؤ‘کے چیف ایڈیٹر گنگا دھر ہیرے گُتّی کے قلم سے

اُترکنڑا کے رکن پارلیمان آننت کمار ہیگڈے جو عین انتخابات کے موقعوں پر متنازعہ بیانات دے کر اخبارات کی سُرخیاں بٹورتے ہوئے انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے، اُس کے تعلق سے کاروار سے شائع ہونے والے معروف کنڑا روزنامہ کراولی منجاو کے ایڈیٹر نے  اپنے اتوار کے ایڈیشن میں اپنے ...

کیا جے ڈی نائک کی جلد ہوگی کانگریس میں واپسی؟!۔دیشپانڈے کی طرف سے ہری جھنڈی۔ کانگریس کر رہی ہے انتخابی تیاری

ایسا لگتا ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات سے چند مہینے پہلے کانگریس سے روٹھ کر بی جے پی کا دامن تھامنے اور بی جے پی کے امیدوار کے طور پر فہرست میں شامل ہونے والے سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک کی جلد ہی دوبارہ کانگریس میں واپسی تقریباً یقینی ہوگئی ہے۔ اہم ذرائع کے مطابق اس کے لئے ضلع ...

ضلع شمالی کینرا میں پیش آ سکتا ہے پینے کے پانی کابحران۔بھٹکل سمیت 11تعلقہ جات کے 423 دیہات نشانے پر

امسال گرمی کے موسم میں ضلع شمالی کینرا میں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہونے کے آثار نظر آر ہے ہیں۔ کیونکہ ضلع انتظامیہ نے 11تعلقہ جات میں 428دیہاتوں کی نشاندہی کرلی ہے، جہاں پر پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔