گودھرا ٹرین کے 11 مجرمین کی سزائے موت ، عمرقید میں تبدیل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th October 2017, 10:58 AM | ملکی خبریں |

احمدآباد،9/اکتوبر(ایس او نیوز/ایجنسی) گجرات ہائیکورٹ نے 2002 ء میں گودھرا ٹرین آتشزنی کے مقدمہ کے ان تمام 11 مجرمین کی سزائے موت کو سزائے بامشقت عمرقید میں تبدیل کردیا ہے تاہم دیگر 20 مجرمین کو دی گئی فی کس 20 سال سزائے قید کو برقرار رکھا ہے ۔ ہائیکورٹ نے پنے اس تاثر کا اظہار بھی کیا کہ ریاستی حکومت اور ریلویز امن و قانون برقرار رکھنے میں ناکام رہی اور انھیں تمام متاثرین کے ورثاء کو معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت کی ۔ 27 فبروری کو ایودھیا سے واپس ہونے والی سابرمتی ایکسپریس کے کوچ S-6 کو گودھرا ریلوے اسٹیشن کے قریب نذر آتش کردیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں 59 افراد جھلس کر فوت ہوگئے تھے ۔ ان میں اکثر کارسیوک تھے جو اُترپردیش کے ایودھیا میں پوجا کے بعد واپس ہورہے تھے ۔ اس واقعہ کے بعد سارے گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے اور تشدد و آتشزنی کے واقعات میں 1200 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے ان میں تقربباً تمام مسلمان ہی تھے ، جسٹس اننت ایس داوے اور جسٹس جی آر اُدھوانی پر مشتمل ایک ڈیویژن بنچ نے آج اپنے فیصلے میں کہاکہ وہ ان تمام 11 افراد کو بدستور مجرم قراردی ہے جنھیں تحت کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دی تھی لیکن ان 11 مجرمین کی سزائے موت کو سزائے عمرقید بامشقت میں تبدیل کیا گیا ہے ۔ تاہم دیگر 20 مجرمین کو ایس آئی ٹی کی خصوصی عدالت کی طرف سے دی گئی سزائے عمر قید کو ہائیکورٹ نے بدستور برقرار رکھا ہے ۔ گودھرا ٹرین آتشزنی واقعہ میں فوت ہونے والوں کے خاندان کو فی کس 10 لاکھ روپئے معاوضہ ادا کرنے ریاستی حکومت اور ریلویز کو ہدایت دیتے ہوئے ہائیکورٹ نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ ریاستی حکومت امن وقانون برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئی اور ریلویز نے بھی کچھ نہیں کیا۔ عدالت نے کہاکہ اس واقعہ میں زخمی ہونے والوں کو ان کی معذوری کی نوعیت کے مطابق معاوضہ ادا کیا جانا چاہئے ۔ ڈیویژن بنچ نے یہ بھی کہا کہ فیصلہ کے اعلان میں تاخیر پر اُس کو افسوس ہے کیونکہ اپیلوں پر سماعت بہت پہلے ہی مکمل کی جاسکتی تھی ۔ ہائیکورٹ نے اپیلوں پر سماعت کے بعد فیصلہ کیلئے زخمی گواہوں ، مسافرین ، ریلوے ملازمین ، ریلوے پروٹکشن فورس کے اہلکاروں ، گودھرا کے دو ملازمین پولیس ، گجرات ریلوے پولیس ، فارنسک لیباریٹریز کے ماہرین اور اقبالی بیانات پر انحصار کیا۔ 63 ملازمین کو بری کئے جانے کے خلاف خصوصی تحقیقاتی ٹیم ( ایس آئی ٹی ) کی طرف سے دائرکردہ مرافعات کو مسترد کردیا ۔ ایس آئی ٹی نے بعض مجرمین کی سزاؤں میں اضافہ کی درخواست بھی کی تھی جو مسترد کردی گئی ۔ ایس آئی کی خصوصی عدالت نے یکم مارچ 2011 ء کو معلنہ اپنے فیصلے میں 31 ملزمین کو جرم کا مرکتب قرار دیا تھا اور 63 کو منسوبہ الزامات سے بری کردیا تھا ۔ 11 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی اور 20 افراد کو عمرقید دی گئی تھی ۔ تحت کی عدالت نے استغاثہ کے اس استدلال سے اتفاق کیا کہ اس واقعہ کے پیچھے سازش کارفرما تھی ۔ تمام 31 افراد کو ہندوستانی تعزیری دفعات قتل ، اقدام قتل اور مجرمانہ سازش کے تحت جرم کا مرتکب قررا دیا گیا تھا ۔ بری ہونے والوں میں کلیدی ملزم مولانا عمرجی ، گودھرا میونسپلٹی کے اُس وقت کے صدر محمد حسین کلوٹا ، محمد انصاری اور اُترپردیش میں گنگاپور کا ساکن نانومیاں چودھری شامل ہے۔ گودھرا ٹرین واقعہ کی تحقیقات کے لئے حکومت گجرات نے ناناوتی کمیشن کا تقرر کیا تھا جس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سابرمتی ایکسپریس کے S-6 کوچ میں بھڑک اُٹھنے والی آگ کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ اس کوچ کو آگ لگائی گئی تھی ۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی پر لالو کا وار ، کیا سخت تبصرہ ،چائے نہیں چرس بیچتے تھے مودی ،جے شاہ کے بہانے اینٹی کرپشن کے دعووں پرراجدلیڈرنے نشانہ پرلیا

آرجے ڈی صدر لالو پرساد مسلسل وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی پر حملہ کر رہے ہیں۔ اب انہوں نے وزیر اعظم پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ چائے نہیں چرس بیچتے تھے ۔

گجرات میں پھر وکاس کی شوشہ بازی ، روڈ شو میں بھیڑ کم ،ہماری سرکار وکاس کیلئے پابندعہد : مودی 

ملک میں وکاس کے نام پر وناش نے اپنے پاؤں پسار لیے ، نوٹ بندی ملک کی معیشت کو لے ڈوبی اور رہی سہی کسر جی ایس ٹی نے پوری کر دی؛ لیکن ان تمام حالات کے بعد بھی گجرات اسمبلی الیکشن کے تناظر میں وکاس کا کارڈ کھیلا جا رہا ہے۔

وسندھرا کے بل پر راہل کا تیکھا طنز،ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں ، یہ 2017ہے 1817نہیں : راہل گاندھی

کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے ایک متنازع آرڈیننس کے متعلق راجستھان کی وزیراعلی وسندھرا راجے کو ٹوئٹ کرتے ہوئے کہاکہ میڈم! ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں یہ 2017ہے ،1817نہیں ہے ۔