برطانوی پارلیمنٹ کے 20 فیصد ملازمین جنسی ہراسانی کا شکار، رپورٹ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th February 2018, 11:35 AM | عالمی خبریں |

لندن 9فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) برطانوی پارلیمنٹ میں کام کرنے والے ہر پانچ میں سے ایک فرد کو گزشتہ برس جنسی ہراسانی اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔جمعرات کو برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں کام کرنے والے ہر پانچ میں سے ایک فرد کو گزشتہ برس کے دوران جنسی طور پر ہراساں کیا گیا یا اسے غیر مناسب سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ اس رپورٹ میں اس طرح کے رویوں سے بچنے کے لیے شکایات جمع کرانے کا ایک نیا نظام لانے کے ساتھ ادارے کے کلچر میں بنیادی تبدیلیاں لانیاور اس جرم میں ملوث افراد کے لیے سزا کی سفارش کی گئی ہے۔ہاؤس ا?ف کامن کی سربراہ اینڈریا لیڈسم کا اس موقعے پر کہنا تھا کہ ا?ج کا دن برطانوی پارلیمنٹ اور سیاست کے لیے بہت اہم ہے۔ جنسی ہراسانی سے متعلق نیا نظام اور قانون لانے کی وجہ سے ہماری پارلیمنٹ دنیا بھر کی بہترین پارلیمنٹ بن جائے گی جو اپنے ملازمین کو کام کرنے کے دوران انہیں عزت بھی دیتے ہیں۔برطانوی پارلیمان کی طرف سے تیار کرائی گئی اس رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کے 20 فیصد افراد نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت کی اور ایسی شکایات کرنے والی خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں دو گنا تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

ایران میں رواں سال تین کم سن بچوں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا:یو این

ایران میں کم عمر افراد کو سزائے موت دیے جانے اور ان سزاؤں پر عمل درآمد میں ماضی کی نسبت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال 2018 کے پہلے ڈیرھ ماہ میں ایران میں تین کم عمر افراد کو پھانسی دے کر موت سے ہم کنار کردیا گیا۔