سبریملا مندر میں عورتوں کی پوجا کا معاملہ۔ سنگھ پریوار رضاکاروں کا زبردست احتجاج۔کل 3جنوری کو مکمل بند کا اعلان

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 2nd January 2019, 9:49 PM | ساحلی خبریں | ملکی خبریں |

تھیرو اننت پورم2؍جنوری ( ایس او نیوز) کیرالہ کے مشہور زمانہ سبریملا آئیپّا مندر میں پچاس سال سے کم عمر کی خواتین کے داخلے پر لگی پابندی کو توڑتے ہوئے آدھی رات کو پولیس کے تحفظ میں دو خواتین کے اندر گھس کر پوجا کرنے کی خبر سے پوری ریاست کیرالہ میں کشیدگی پھیل گئی ہے اورسبریملا کرما سمیتی نے 3جنوری کوریاست گیرپیمانے پر صبح سے شام تک احتجاجی بند منانے کا اعلان کیا ہے۔

صدیوں پرانی روایت اور سپریم کورٹ کا فیصلہ: خیال رہے کہ صدیوں سے اس مندر میں دس اور پچاس سال کے درمیانی عمر والی خواتین کو مندر کے اندرحجرۂ مقدس تک جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ اس پابندی کے خلاف سپریم کورٹ میں شنوائی کے بعد عدالت نے یہ پابندی ہٹا دی تھی اور ہر عمر کی عورتوں کے لئے مندر کے دروازے کھول دینے کا حکم جاری کیا تھا۔

ہندوشدت پسندوں کی مخالفت: مگر مندر کمیٹی اور کٹر پنتھی ہندو تنظیمو ں کے علاوہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے اس اجازت نامے کو اپنے مذہبی معاملات میں مداخلت قراردیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی تھی اور کسی بھی حالت میں مندر کے اندر عورتوں کو داخلہ دینے سے انکار کردیا تھا ۔ جبکہ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عورتوں کومندر تک جانے کے لئے تحفظ فراہم کرنے کا یقین بھی دلایا تھا۔اس کشمکش کے دوران پچھلے ستمبر سے اب تک کچھ عورتوں نے مندر تک جانے کی کوشش بھی کی تھی، لیکن ہندوتنظیموں کے رضاکار اور آئیپّا بھکتوں نے شدید مزاحمت کرتے ہوئے انہیں آگے بڑھنے سے روکا تھا اور واپس لوٹنے پر مجبور کردیا تھا۔

آدھی رات کو خفیہ مہم: اب یکم جنوری کی رات کو 3.30بجے میڈیا اور خاص شخصیات کے لئے مختص راستے سے بِندو اور درگا نامی دو خواتین نے سادہ لباس والے پولیس اہلکاروں کے تحفظ میں مندر کے اندر جاکر بھگوان کا درشن کیاجس کا ویڈیو فوٹیج وائرل ہونے کے بعد ریاست کیرالہ میں کہرام مچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وائرل فوٹیج میں ایسا لگتا ہے جیسے ان دوخواتین میں سے ایک نے کالا برقعہ پہن رکھا ہے۔ان خواتین کاکہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے انہیں تعاون کا وعدہ کیاگیا تھا جس کے بعد انہیں خصوصی راستے سے مندر کے اندر داخلے کا موقع مل گیا۔ ویڈیو فوٹیج وائر ل ہوتے ہی مندر کمیٹی نے ہنگامی میٹنگ کے بعد ایک گھنٹے کے لئے مندر کو بھکتوں کے لئے بند کردیا تاکہ عورتوں کے داخلے سے جو ناپاکی ہوئی ہے ، اس کا’ شدھی کرن‘کیا جاسکے۔

حکومت کے خلاف شدید اشتعال: اس معاملے پر وزیر صنعت ای پی جیا رام نے کہا کہ’’ مندرکے پجاری کو مندر بند کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔یہ عدلیہ کو چیلنچ کرنے جیسا ہے۔ حکومت نے تو سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کرنے کے سلسلے میں اپنا رول ادا کیا ہے۔‘‘ کانگریسی لیڈر رمیشن چینی تھلا نے بائیں بازو کی حکومت کے خلاف سخت احتجاج کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’وجیان (وزیراعلیٰ) کو اس کی بھاری قیمت چکانی ہوگی ۔‘‘ جبکہ دوسرے کانگریسی لیڈر کے سدھاکرن نے کہا کہ وجیان ایک فاشسٹ ہے اور یہ دو خواتین اس کی کٹھ پتلیاں تھیں۔کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار بی جے پی کے ریاستی سکریٹری ایم ٹی رمیش نے کہی اور رات کے اندھیرے میں خواتین کو مندر کے اندر لے جانے کو بزدلانہ اقدام قرار دیا ہے۔

دھرمستھلا دھرم ادھیکاری بھی ناخوش: سبریملا مندر کے اندر خواتین کے داخلے پر دھرمستھلا کے دھرم ادھیکاری ڈاکٹر ویریندرا ہیگڈے نے اپنی ناراضی جتاتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے تھے ان کے دل کو اب ٹھنڈک ملی ہوگی۔ ہیگڈے کے مطابق یہ جو کچھ ہوا ہے ٹھیک نہیں ہے۔ اب لوگ مندر میں داخلے کے رسومات کی پابندی نہیں کر رہے ہیں۔ صبح میں مالا پہنتے ہیں اور دوپہر کو درشن کے لئے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ نوبت آگئی ہے۔

کمیونسٹ اور سنگھی کارکنان کے درمیان تصادم : مندر کے اندرخواتین کے داخلے کی خبر عام ہونے کے بعد سنگھ پریوار سے وابستہ تنظیموں کے کارکنان احتجاج کے لئے سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے ریاستی وزیراعلیٰ پینارائے وجیان کی حکومت کو اقتدار سے ہٹائے بغیر دم نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔مختلف مقامات سے بسوں پر پتھراؤ اور سڑکوں پر ٹائر جلاکر احتجاج کرنے کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔دارالحکومت تھیرواننت پورم میں سی پی آئی ایم اور سنگھ پریوار کارکنان کے تصادم کو روکنے اور مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے پانی کے توپ کے علاوہ آنسو گیس کا استعمال کیا۔ کوچی ، پالگھاٹ، کاسرگوڈ اور کوزی کوڈ جیسے شہروں سے بھی احتجاجی مظاہروں کی خبریں مل رہی ہیں۔اس کے علاوہ کیرالہ حکومت کے مختلف وزراء کی رہائش گاہوں کے سامنے یا ان کے کسی پروگرام کے مقام پر سنگھ پریوار کے کارکنان کی طرف سے احتجاجی مظاہرے کیے جانے کی بات بھی معلوم ہوئی ہے۔ 

اس دوران کیرالہ کے تاجروں کی سب سے بڑی انجمن KVVESنے دکانیں بند نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار کی ہڑتال کی وجہ سے تجارت کا نقصان ہوتا ہے۔مگر لگتا ہے کہ 3جنوری کا دن کیرالہ میں امن وامان کے لئے ایک اور مشکل دن ثابت ہوگا۔

ایک نظر اس پر بھی

21مارچ سے ایس ایس ایل سی امتحانات : اترکنڑا ضلع میں کل 9766طلبا و طالبات کی سالانہ امتحانات میں شرکت

طلبا کی تعلیمی  زندگی کا پہلا اہم مرحلہ   ایس ایس ایل سی کے سالانہ امتحانات 21مارچ 2019سے 04 اپریل 2019منعقد ہونگے ۔ جس کے لئے اترکنڑا ضلع محکمہ  تعلیمات عامہ پوری طرح تیار رہنے کی  ڈپوٹی ڈائرکٹر کے منجوناتھ نے اطلاع دیتے ہوئے جانکاری دی ہے کہ اترکنڑا تعلیمی ضلع کے 5تعلقہ جات میں ...

اُڈپی : آر ایس ایس مسلمانوں سے زیادہ دلت مخالف ہے: سابق بجرنگ دل لیڈر مہیندر کمار

 آر ایس ایس حقیقت میں  دلت، شودر، مظلوم ، پسماندہ طبقات ، ہندو  اور ملک مخالف ہےوہ  مسلم مخالف نہیں ہے ،کیونکہ  یہ سب صرف نوجوانوں کو غلط راستے پر لے جانےکے لئے انہیں استعمال کرتی ہے۔ اگر اس کو اب نہیں سمجھیں گے تو پھر ایک بار ملکی آزادی کے لئے جدوجہد کی ضرورت پڑے گی۔ سماجی مفکر ...

بھٹکل کے ایک اُردو اسکول کے کمپائونڈ میں خون کے دھبے اور کھڑکی کے ٹوٹے گلاس پائے جانے کے بعد زبردست ہاتھاپائی ہونے کا شبہ

یہاں مدینہ کالونی ، محی الدین اسٹریٹ  میں واقع  اُردو ہائیر پرائمری اسکول  کی دیوار اور صحن پرجابجا  خون کے دھبے سمیت ایک کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہوا پائے جانے  کے بعد شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہاں رات کو زبردست ہاتھاپائی یا ماردھاڑ کی واردات رونما ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد  اسکول کے ...

ضلع شمالی کینرا کا انتخاب۔ منووادی اور غیر منووادیوں کے درمیان مقابلہ ہے؛ سیکولراُمیدوار کو جیت دلانا اہم مقصد ہونا چاہئے؛ سابق وزیر آر این نائک کا بیان

درپیش پارلیمانی انتخابات اور خاص کرکے ضلع شمالی کینرا کی سیٹ کو کانگریس کی طرف سے جنتا دل ایس کو مختص کیے جانے کے بعد سابق وزیر اور کانگریسی لیڈر ایڈوکیٹ آر این نائک نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بار ہونے والا انتخاب پارٹیوں کی جیت یا پارلیمان میں امیدواروں کی تعداد بڑھانے والا ...

مودی پھر جیتے تو ملک میں شاید انتخابات نہ ہوں: اشوک گہلوت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے منگل کو نریندر مودی حکومت کے دور میں ’جمہوریت اور آئین‘ کو خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر عوام نے مودی کو پھر سے اقتدار سونپا، تو ہو سکتا ہے