نالندہ میں آر جے ڈی رہنما کے قتل پر کشواہا نے آئینہ دکھایا، نتیش جی کم از کم اپنے آبائی ضلع کو تو بچا لیں: کشواہا 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 3rd January 2019, 9:16 AM | ملکی خبریں |

پٹنہ 3جنوری (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) نئے سال کے ابتدائی 48 گھنٹے کے اندر ہی تین فائرنگ کے واقعات نے بہار کی انتظامیہ پر ایک بار پھر سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔تازہ معاملہ صوبہ کے وزیر اعلی نتیش کمار کے آبائی ضلع نالندہ کا ہے جہاں بدھ کو آر جے ڈی لیڈر اندل پاسوان کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد آر ایل ایس پی صدر اوپیندر کشواہا نے نتیش پر نشانہ لگایا۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ نتیش جی! اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کا چن چن کر قتل ہورہا ہے ۔ آپ کی حکومت میں قتل، لوٹ، اغوا، جنسی درندگی جیسی وارداتیں تو عام ہو چکی ہیں،کم از کم آپ اپنے آبائی ضلع کو تو بچا لیجئے یا 2020 کے پہلے ہی بہار چھوڑنے کی تیاری ہے؟واضح ہو کہ یکم جنوری کو اندل پاسوان کا اپنے ہی گاؤں کے کچھ لوگوں سے کسی بات کو لے کر جھگڑا ہوا تھا۔ اسی بات کو لے کر گاؤں کے ہی کچھ نوجوانوں نے اندل پاسوان کا گولیوں سے بھون کر قتل کر دیا۔غور طلب ہے کہ قتل کے واقعہ کو جہاں انجام دیا گیا وہ علاقہ کافی بھیڑ بھاڑ والا علاقہ ہے۔ اس کے باوجود بھی مجرم آرام سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی دیہی عوام مشتعل ہو گئے اور ایک مکان کی توڑ پھوڑ کی اور آگ کے حوالے کر دیا۔ بھاری تعداد میں پہنچ کر پولیس صورتحال کو کنٹرول کر رہی ہے۔ اس واقعہ کے بعد پورے گاؤں میں افراتفری مچی ہے۔جائے واقعہ سے مہلوک آر جے ڈی لیڈر کی موٹر سائیکل برآمد کی گئی ہے۔ مجرموں نے آر جے ڈی لیڈر کے قتل کے بعد لاش کو گھسیٹتے ہوئے کھیت میں پھینک دیا تھا ۔
 

ایک نظر اس پر بھی

اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کا اُمیدوارکون ؟ راہول گاندھی، مایاوتی یا ممتا بنرجی ؟

آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کا اُمیدوار کون ہوگا اس سوال کا جواب ہرکوئی تلاش کررہا ہے، ایسے میں سابق وزیر خارجہ اور کانگریس کے سابق سنئیر لیڈر نٹور سنگھ نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ  اس وقت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی ...

مدھیہ پردیش میں 5روپے، 13روپے کی ہوئی قرض معافی، کسانوں نے کہا،اتنی کی تو ہم بیڑی پی جاتے ہیں

مدھیہ پردیش میں جے کسان زراعت منصوبہ کے تحت کسانوں کے قرض معافی کے فارم بھرنے لگے ہیں لیکن کسانوں کو اس فہرست سے لیکن جوفہرست سرکاری دفاترمیں چپکائی جارہی ہے اس سے کسان کافی پریشان ہیں،