سپریم کورٹ سکھ مخالف فسادات کے 186معاملات کی ہوں گی دوبارہ تحقیقات، سپریم کورٹ نے دیا حکم

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th January 2018, 12:36 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی ،10؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے آج کہا کہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق 186 معاملات کی جانچ پڑتال کے لیے وہ سپریم کورٹ کے سابق جج کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی تفتیشی ٹیم کا قیام کرے گی۔اس وقت کے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہوئے فسادات سے متعلق ان معاملات کی تحقیقات بند کر دی گئی تھیں۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس دھننجی وائی چندرچوڈ کی بینچ نے کہا کہ ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی صدارت والی اس مجوزہ کمیٹی میں پولیس کا ایک ریٹائرڈ اور ایک ملازم افسر شامل کیا جائے گا۔بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ ریٹائرڈ پولیس افسر ریٹائرمنٹ کے وقت پولیس انسپکٹر جنرل سے نیچے کے عہدے پر نہیں ہونا چاہئے۔عدالت نے کہا کہ اس کی طرف سے مقرر کمیٹی نے 241 مقدمات میں سے 186 مقدمات کو جانچ کے بغیر ہی بند کر دیا۔کورٹ نے کمیٹی کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کا جائزہ لیا جسے چمڑے کے باکس میں پیش کیا گیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

جے پی سی سے جانچ کرانے کا راستہ ا بھی کھلا ہے، عام آدمی پارٹی نے کہا،عوام کی عدالت اورپارلیمنٹ میں جواب دیناہوگا،بدعنوانی کے الزام پرقائم

آپ کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ رافیل معاملے میں جمعہ کو آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود متحدہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے اس معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کا اراستہ اب بھی کھلا ہے۔

رافیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ، راہل گاندھی معافی مانگیں: بی جے پی

فرانس سے 36 لڑاکا طیارے کی خریداری کے معاملے میں بدعنوانی کے الزامات پر سپریم کورٹ کی کلین چٹ ملنے کے بعد کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے بی جے پی نے جمعہ کو کہا کہ کانگریس پارٹی اور اس کے چیئرمین راہل گاندھی ملک کو گمراہ کرنے کیلئے معافی مانگیں۔

بے کار پڑا ہے بھٹکل بندر پر پینے کے صاف پانی کا مرکز۔ 12لاکھ روپے کا تخمینہ۔ ادھورا پڑا ہے منصوبہ

بھٹکل تعلقہ کے ماوین کوروے علاقے میں واقع بندرگاہ پر پینے کے صاف پانی کا ایک مرکز 12لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع ہوئے دو سال کا عرصہ گزرچکا ہے۔ ٹھیکے دار کی غفلت اور افسران کے کاہلی کی وجہ سے ابھی تک یہ منصوبہ پورا نہیں ہوا ہے اور عوامی استعمال کے لئے دستیاب ...