سکھ مخالف فسادات: عدالت میں سی بی آئی نے کی سجن کمار کی ضمانت کی مخالفت 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th March 2019, 11:55 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی ، 15 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مرکزی جانچ بیورو نے جمعہ کو سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے کیس میں کانگریس کے سابق ایم پی سجن کمار کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے ان کی اپیل مسترد کی جائے۔

تفتیشی بیورو نے دعوی کیا کہ سجن کمار نے سکھ مخالف فسادات سے متعلق معاملات کی سماعت میں خلل ڈالنے اور گواہوں کو متاثر کرنے کے لیے سیاسی رسوخ کا استعمال کیا۔جسٹس ایس اے بوبڈے اور جسٹس ایس عبدالنذیر کی بنچ کے سامنے سی بی آئی نے سجن کمار کی ضمانت کی بھی مخالفت کی اور دلیل دی کہ انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا تو اس لیڈر کے خلاف زیر التواء دیگر مقدمات کی منصفانہ اور آزادانہ طریقے سے سماعت نہیں ہو سکے گی۔بنچ نے مختصر سماعت کے بعد سجن کمار کی عرضی 25 مارچ کیلئے ملتوی کر دی۔

کانگریس کے 73 سالہ اس سابق ایم پی نے دہلی ہائی کورٹ کے 17 دسمبر، 2018 کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج دے رکھا ہے۔کورٹ نے کمار کی اپیل پر غور کرتے ہوئے ان کی سزا معطل رکھنے اور ضمانت کی عرضی پر سی بی آئی سے جواب مانگا تھا۔سی بی آئی نے اپنے جواب میں کہا کہ ان کا کافی سیاسی رسوخ ہے اور وہ اپنے خلاف زیر التوا معاملوں میں گواہوں کو متاثر اور دہشت زدہ کرنے کے قابل ہیں۔تفتیشی بیورو نے یہ بھی کہا کہ سجن کمار کے سیاسی اثرات نے آزاد تحقیقات کو روکنا شامل ہے انہوں نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے شکار لوگوں کے لئے انصاف کے عمل کو پٹری سے ہی اتار دیا تھا۔کمار کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے تفتیشی بیورو نے کہا کہ اس درخواست گزار جیسے بااثر لیڈروں نے اقلیتی کمیونٹی کے ارکان کو نشانہ بنا کر ان پر حملہ کروایا جس میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے ان کا ساتھ دیا تھا۔بیورو نے کہا کہ مقدمے کی سماعت میں خلل ڈالنے اور گواہوں کو متاثر کرنے کے لیے اپنے سیاسی رسوخ استعمال کرنے کے کمار کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے ان کی سزا برقرار رکھی جانی چاہئے اور انہیں ضمانت نہیں دی جانی چاہئے۔

تفتیشی بیورو نے کہا کہ بے خوف گواہوں اور متاثرین نے 34 سال قانونی جنگ لڑی جس کا نتیجہ کمار کے مجرم کے طور پر ہوا۔بیورو نے کہا کہ اس سابق ایم پی کے ساتھ اس کی عمر کی بنیاد پر بھی کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جانی چاہئے۔

ہائی کورٹ نے 17 دسمبر، 2018 کو سجن کمار کو جنوبی مغربی دہلی میں چھاؤنی کے راج نگر پارٹ 1 میں 1 اور 2 نومبر، 1984 کو پانچ سکھوں کے قتل کے معاملے میں بری کرنے کے نچلی عدالت کے 2010 کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے مجرم ٹھہرایا اور انہیں تاعمر قید کی سزا سنائی۔اس معاملے میں عدالت نے پانچ دیگر مجرموں کو بھی مجرم ٹھہرانے اور مختلف مدت کی سزا دینے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی 31 اکتوبر، 1984 کو ان کے دو سکھ ملازموں کے ذریعہ قتل کئے جانے کے بعد سکھ مخالف فسادات بھڑک اٹھے تھے،ان فسادات کے دوران فسادیوں نے 2700 سے زیادہ سکھوں کو قومی دارالحکومت میں قتل کر دیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

دہشت گرد ہر مذہب میں ہیں: کمل ہاسن

تنازعات میں گھرے اداکار لیڈر کمل ہاسن نے جمعہ کو کہا کہ ہر مذہب میں دہشت گرد ہوتے ہیں اور کوئی بھی اپنے مذہب کوبہترین ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

بی جے پی کو280 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی، این ڈی اے کی سیٹیں 300 سے متجاوز ہوں گی: پی مرلیدھر راؤ

بی جے پی لیڈر رام مادھو کے تخمینے کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر لیڈر پی مرلیدھر راؤ نے کہا کہ بھگوا پارٹی کو 280 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی جبکہ این ڈی اے کے سیٹوں کی تعداد 300 کے پار ہوں گی۔

مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملہ: اے ٹی ایس کی عدالت سے غیر حاضری کے معاملے میں عدالت کا دخل دینے سے انکار

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ متاثرین جانب سے خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل عرضداشت جس میں اس معاملے کی سب سے پہلے تفتیش کرنے والی تفتیشی ایجنسی ATSکی عدالت سے غیرحاضری پر سوال اٹھایا گیا تھا کو عدالت نے یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ اے ٹی ایس کو پابند کرنا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے ...

لوک سبھا انتخابات 2019: بہار میں 1 لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے جیتنے والوں کا بھی اس بار ٹکٹ کٹ گیا

بہارمیں 19 مئی کو ہونے والے آخری مرحلے کی پولنگ میں نالندہ، پٹنہ صاحب، پاٹلی پتر، آرا، بکسر، سہسرام، ککاراکٹ،جہان آباد کی سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس بار بہار میں ایک نئے طرح کے اعداد و شمار دیکھنے کو مل رہا ہے۔