بنگلہ دیش عام انتخابات:پرتشددجھڑپوں میں 17ہلاک سخت کشیدگی اورسیاسی تناؤ کے درمیان پولنگ۔انتخابی دھاندلیوں کے الزامات

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 31st December 2018, 11:51 AM | عالمی خبریں |

ڈھاکہ31؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) بنگلہ دیش میں اتوارکو سخت کشیدگی اور سیاسی تناؤ کے درمیان پارلیمانی انتخابات کے لئے ووٹنگ ہوئی۔اس دوران سیاسی کارکنوں میں جھڑپوں اورپولیس فائرنگ میں 17 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق بنگلہ حکومت نے مخالفین کو کنٹرول کرنے کے لئے نہ صرف انٹرنیٹ سرویس بند رکھی بلکہ ایک اہم ٹی وی چینل کی نشریات پر پابندی بھی لگادی۔ بنگلہ دیش میں الیکشن کمیشن نے اتوار کو ہونے والے عام انتخابات میں ملک کے طول و عرض سے لگائے جانے والے دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔الیکشن کمیشن کے ایک ترجمان کے حوالے سے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اطلاع دی ہے کہ اگر دھاندلی کے الزامات کی تصدیق ہو گئی تو الیکشن کمیشن چارہ جوئی کرے گا۔

بی بی سی کے بنگلہ سروس کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں پولنگ کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات میں اب تک17 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔حزب اختلاف کی بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کا کہنا کہ ڈھاکہ میں پارٹی کے مرکزی امیدوار کو چاقو کا وار کر کے زخمی کر دیا گیا۔رائٹرز نے پولیس حکام سے بات کر کے خبر دی ہے کہ حزب اختلاف کے امیداور صلاح الدین احمد پر حملے کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

دریں اثنا انتخابی کمیشن کے ترجمان ایس ایم اسدالدین زمان نے کہا ہے اگر کمیشن کے اپنے ذرائع نے دھاندلی کے الزامات کی تصدیق کردی تو قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی کی جائے گی.رائٹرز نے اپنے نامہ نگاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ان انتخابات میں پولنگ کا تناسب کم رہنے کا امکان ہے۔ تجزیہ کارروں کے مطابق ان انتخابات میں شیخ حسینہ واجد کی کامیابی کے قوی امکانات ہیں جس کے بعد وہ تیسری مرتبہ منتخب ہونے والی وزیر اعظم بن جائیں گی ۔انتخابات کے دوران تشدد کے خدشات کے پیش نظر ملک گیر پیمانے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے اور تقریباً6لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کو ملک کے طول و عرض میں تعینات کیا تھا۔سکیورٹی خدشات کے باعث ملک بھر میں بڑی تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔انتخابات میں تقریباً دس کروڑ لوگ ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ان انتخابات میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کے جیتنے کے امکانات روشن ہیں کیونکہ ان کی اہم مخالف بیگم خالدہ ضیا بدعنوانی کے الزامات میں جیل میں ہیں۔

ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ ووٹنگ کے اختتام تک ہائی سپیڈ موبائل اور انٹرنیٹ مواصلات کو بند کر دیا گیا تھا تاکہ افواہوں اور پروپگینڈا کے نتیجے میں کوئی بدامنی نہ پیدا ہو سکے۔ووٹنگ سے تھوڑی دیر قبل بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے چٹاگانگ (لکھن بازار، چٹاگانگ، حلقہ10) میں ایک بیلٹ باکس کو ووٹوں سے بھرا ہوا پایا۔جب اس بوتھ کے پریزائڈنگ آفیسر سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر کے اس پولنگ سٹیشن پر صرف سرکاری پارٹی کے نمائندے تھے اور یہی حال کئی دوسرے پولنگ اسٹیشنوں کا تھا۔بنگلہ دیش 16 کروڑ آبادی والا مسلم اکثریتی ملک ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات سے لے کر غربت و افلاس اور بدعنوانی کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔

جولائی 2016 میں دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک بڑی بیکری پر دولت اسلامیہ کی جانب سے کیے جانے والے دھماکے کے بعد سے حکومت نے اسلام پسند عسکریت کے خلاف انتہائی سختی کا مظاہرہ کیا ہے۔یہ ملک حال میں پڑوسی ملک میانمار کے لاکھوں روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کے سبب سرخیوں میں رہا ہے۔ حکومت کی بین الاقوامی سطح پر ان لوگوں کو ملک میں پناہ دینے کے قدم کی تعریف کی گئی ہے لیکن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے اس کی سخت تنقید بھی کی جا رہی ہے۔یہ انتخابات دسیوں ہزار نوجوانوں کے مظاہرے کے بعد ہو رہے ہیں جس میں انھوں نے سڑک پر ہونے والی اموات کے خلاف احتجاج کیے تھے۔ یہ بنگلہ دیش کے نوجوانوں کی جانب سے غصے کے اظہار کا غیر معمولی اقدام تھا جسے حکام اور حکومت نواز گروپوں نے سختی سے دبا دیا تھا۔ایک 17سالہ لڑکے نے اگست میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھاکہ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ بدعنوانی ختم ہو اور بتاشے کی طرح لائسنس دینا بند ہو۔پر تشدد واقعات کے ساتھ انتخابی مہم کا آغاز ہوا اور حکومت نے اپنے مخالفین کی آواز دبانے کے لیے ان پر کریک ڈاؤن کیا۔ اس حکومت کے بارے میں ناقدین کا خیال ہے کہ یہ گذشتہ دس برسوں میں مزید آمریت پسند اور استبدادی ہوئی ہے۔

شیخ حسینہ عوامی لیگ کی سربراہ ہیں اور اس پارٹی کا2009سے ملک میں اقتدار جاری ہے۔ وہ تیسری بار عہدے کے لیے انتخابات لڑ رہی ہیں۔ان کے والد شیخ مجیب الرحمان جو ملک کے پہلے صدر تھے انھیں آزاد بنگلہ دیش کا بانی کہا جاتا ہے۔ انھیں1975میں قتل کر دیا گیا تھا۔خالدہ ضیا کی نیشنل پارٹی (بی این پی) نے2014میں گذشتہ عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا کیونکہ عوامی لیگ نے ایک نگراں حکومت کے زیر انتظام انتخابات کرانے سے انکار کر دیا تھا۔اب بہت سے تجزیہ نگار اس فیصلے پر سوال کرتے ہیں کہ آیا وہ ہوشمندانہ فیصلہ تھا! پارٹی سربراہ خالدہ ضیا کو رواں سال بدعنوانی کے الزامات میں جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی انتقام ہے۔ان کے تازہ جرم کے تحت انھیں رواں انتخابات میں انتخاب لڑنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔خالدہ ضیا کی عدم موجودگی میں عوامی لیگ کے سابق وزیر اور شیخ حسینہ کے حلیف کمال حسین حزب اختلاف جاتیہ اویکیا فرنٹ کی رہنمائی کر رہے ہیں جس میں بی این پی بھی شامل ہے۔بہر حال81سالہ وکیل جنھوں نے ملک کے آئین کی تشکیل کی ہے وہ ان انتخابات میں امیدوار نہیں ہیں۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حزب اختلاف کی جیت ہوتی ہے تو کون ان کا سربراہ ہوگا۔بہت سے سرگرم کارکنوں، مبصرین اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کا پولنگ سے قبل کہنا تھا کہ یہ انتخابات صاف شفاف نہیں ہوں گے۔

بی این پی کی قیادت والے حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اگر انتخابات واقعی صاف شفاف ہوئے تو عوامی لیگ کو اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی۔انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ووٹنگ سے قبل حکومت نے دھمکانے کی مہم کا سہارا لیا ہے۔ادارے کے ایشیا ڈائرکٹر بریڈ ایڈمز نے کہاکہ حزب اختلاف کے اہم ارکان اور حامیوں کو گرفتار کر لیا گیا، بعض کو قتل کیا گیا ہے جبکہ بعض لا پتہ بھی ہیں جس سے خوف اور گھٹن کا ماحول پیدا ہوا اور یہ کسی بھی قابل اعتبار انتخابات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔بی این پی کا کہنا ہے کہ ان کے ہزاروں ارکان اور رضاکاروں کے خلاف گذشتہ سال پولیس مقدمات درج کیے گئے ہیں۔حکومت نے حزب اختلاف کو نشانہ بنانے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔جمعے کو شیخ حسینہ نے بی بی سی کو بتایاکہ ایک جانب تو الزامات لگا رہے ہیں اور دوسی جانب وہ ہماری پارٹی کے ارکان اور رہنماؤں پر حملے کر رہے ہیں۔ یہی اس ملک کا المیہ ہے۔ انھیں عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔جاتیہ اویکیا فرنٹ یا قومی اتحاد فرنٹ نے کہا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آتے ہیں تو وہ اظہار رائے آزادی اور میڈیا پر لگی پابندی کو ہٹا لیں گے۔وہ حکومت کے احتساب کی بھی بات کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسی پارلیمان چاہتے ہیں جس میں کسی پارٹی کی مدت پر حد قائم کی جاسکے۔بی این پی کے ساتھ شامل پارٹی جماعت اسلامی کو انتخابات میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ملی ہے لیکن ان کے20امیدوار بی این پی کے امیداوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں۔

شیخ حسینہ کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کا اتحادجنگی مجرموں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔جبکہ ان کی پارٹی بنگلہ دیش کی مجموعی ملکی پیداوار کی ترقی کی شرح کو دس فیصد تک لانے اور آئندہ پانچ سالوں میں ڈیڑھ کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے پر انتخابات لڑ رہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

2014 کے لوک سبھا انتخابات میں تمام ای وی ایم ہیک کئے گئے تھے: امریکن سائبر ایکسپرٹ کا دعویٰ؛ کیا ای وی ایم نے بی جے پی کو اقتدار دلایا ؟

 امریکہ میں مقیم ایک سائبر ماہر سید شجاع نے دعویٰ کیا ہے کہ   ہندستان میں    سال 2014میں ہوئےعام انتخابات میں استعمال کی گئی  الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کو  ہیک کیا گیا تھا۔ 543 سیٹوں والے اس الیکشن میں بی جے پی کو282 سیٹوں پر شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی اور سن 1984 کے بعد پہلی ...

بنگلہ دیش انتخابات میں شیخ حسینہ کامیاب، اپوزیشن نے نتائج ماننے سے کیا انکار

خبر رساں اداروں کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکمران جماعت عوامی لیگ نے اتوار 30 دسمبر کو ہونے والے عام انتخابات میں اپوزیشن کے مقابلے میں بڑی برتری حاصل کر لی ہے اور حتمی نتائج میں عوامی لیگ کو کل 350 نشستوں میں سے 281 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ایرانی حکومت ٹوئٹراستعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے ممنوع ہے : امریکی سفیر

جرمنی میں امریکی سفیر رچرڈ گرینل کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت خود ٹویٹر کا استعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے اس کا استعمال روکا ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی سے منسوب ٹویٹر اکاؤنٹ کھولے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔اگرچہ ایرانی میڈیا نے مذکورہ ...