طالبان کے حملے میں بارہ پولیس اہلکار ہلاک

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 23rd July 2018, 12:11 PM | عالمی خبریں |

کابل 23جولائی(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے غزنی میں طالبان کے ایک حملے میں کم از کم 12 مقامی پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ حالیہ کچھ دنوں میں افغان فورسز کے خلاف طالبان کے حملوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے پولیس کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا گیا اور حملہ آور اس عمارت میں داخل ہو گئے۔

مقامی حکام کے مطابق طالبان کے حملے کے بعد مقامی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہو گیا، جو چھ گھنٹوں تک جاری رہیں۔ اس واقعے میں کم از کم دیگر 20 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

صوبائی کونسل کے رکن عصمت جماردول نے ڈی پی اے کو بتایا کہ طالبان کی کوشش تھی کہ ضلعی مرکز قارا باغ پر قبضہ کر لیں، تاہم سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں انہیں پسپا ہونا پڑا۔

واضح رہے کہ حالیہ کچھ ہفتوں میں غزنی صوبے میں طالبان کی جانب سے منظم حملوں میں خاصی شدت پیدا ہوئی ہے۔ غزنی صوبے کی پارلیمان کے رکن عارف رحمانی نے حال ہی میں اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں کہا تھا کہ گزشتہ دو ماہ میں ان حملوں میں قریب پانچ سو سکیورٹی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ جمعے کو قندوز صوبے میں طالبان کے ایک حملے میں بھی 12 پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں قندوز اور غزنی کا ایک بڑا حصہ طالبان کے قبضے میں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بوئنگ 737 طیاروں کے سافٹ ویئر کو مزید بہتر بنانے کی منظوری

 امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے بوئنگ 737 میکس طیاروں کے سافٹ ویئر کو بہتر بنانے اور پائلٹوں کی تربیت میں تبدیلی کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رپورٹ مقامی میڈیا نے دی ہے۔ دو بڑے حادثوں کے بعد کئی ممالک نے ان طیاروں کی پرواز پر روک لگا دی ہے۔

مفتی تقی عثمانی پرقاتلانہ حملہ شرمناک، دہشت گردی انتہائی مذم عمل اوربزدلانہ حرکت 

پاکستان کے معروف عالم دین اور نامور محقق مولانا مفتی تقی عثمانی پر ہوئے قاتلانہ حملہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے معروف دانشور ڈاکٹر محمد منظورعالم نے کہاکہ یہ حملہ دہشت گردی اور بزدلانہ حرکت ہے جس کی کسی بھی سماج میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروئی ضروری ہے ...

اﷲ اکبراﷲ اکبرکی صداؤں سے گونج اٹھا نیوزی لینڈ حملے کے بعد پہلی نمازجمعہ کی ادائیگی ۔اجتماع میں وزیراعظم سمیت بڑی تعداد میں غیرمسلموں کی بھی شرکت

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر گزشتہ جمعہ ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کی جانب سے خوفزدہ اور افسردہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی نے انسانیت میں انقلاب برپاکردیا ہے۔