اسپیشل رپورٹس http://www.sahilonline.net/ur/special-report ساحل آن لائن: ریاست کرناٹک سے شائع ہونے والا تین زبانوں کا منفرد نیوز پورٹل جو ساحلی کینرا کی خبروں کے ساتھ ساتھ ریاستی، قومی اور بین الاقوامی خبروں سے آپ کو باخبر رکھتا ہے۔ اسپیشل رپورٹس اسلام میں عورت کے حقوق ...............آز: گل افشاں تحسین http://www.sahilonline.net/ur/women-rights-in-islam-article-by-gul-afsha-tehseen-deoband صدیوں سے انسانی سماج اور معاشرہ میں عورت کے مقام ومرتبہ کو لیکر گفتگو ہوتی آئی ہے ان کے حقوق کے نام پر بحثیں ہوتی آئی ہیں لیکن گذشتہ چند دہائیوں سے عورت کے حقوق کے نام پرمختلف تحریکیں اور تنظیمیں وجود میں آئی ہیں اور صنف نازک کے مقام ومرتبہ کی بحثوں نے سنجیدہ رخ اختیار کیا ہے۔ اور بعض مسائل کے حوالے سے حکومت ہند اور ان کے نمائندہ بھی گفتگو کرنے لگے ہیں بابری مسجد، مسلم پرسنل لابورڈ اور مولانا سید سلمان ندوی : سوشل میڈیا پر وائر ل سید سعادت اللہ حسینی کی ایک تحریر http://www.sahilonline.net/ur/babri-masjid-muslim-personal-law-board-and-maulana-syed-salman-nadvi-social-media-viral-column بابری مسجد ،پرسنل لابورڈ اور مولانا سلمان ندوی صاحب وغیرہ سے متعلق جو واقعات گذشتہ چند دنوں میں پیش آئے ان کے بارے میں ہرطرف سے سوالات کی بوچھار ہے۔ ان مسائل پر اپنی گذارشات اختصار کے ساتھ درج کررہاہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی صحیح اور مبنی برعدل و اعتدال ، سوچ کی طرف رہنمائی فرمائے ،آمین۔ آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ ماضی اور حال کے آئینے میں ..... آز: محمد عمرین محفوظ رحمانی (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) ۔ http://www.sahilonline.net/ur/all-india-muslim-personal-law-board-at-a-glance-in-past-and-future-by-secretary-aimplb-umrain-mehfooz-rehmani آج جمعہ بعد نماز مغرب سے حیدرآباد میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا تین روزہ اجلاس شروع ہورہا ہے، جس میں مسلمانوں کے شرعی مسائل پر کھل کر گفتگو ہوگی۔ اسی پس منظر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ایک تعارف بورڈ کے سکریٹری کے ذریعے ہی یہاں قارئین کے لئے پیش خدمت ہے رٹا اسکولنگ سسٹم؛ کیا اس " گلے سڑے " اور " بوسیدہ " نظام تعلیم کو ہی جاری رکھا جائے گا ؟ تحریر: جہانزیب راضی http://www.sahilonline.net/ur/by-heart-schooling-system-need-to-consider-article-by-jahanzaib-razi شمالی یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک فن لینڈ بھی ہے جو رقبے کے لحاظ سے 65 ویں جبکہ آبادی کے اعتبار سے دنیا میں 114 ویں نمبر پر ہے ۔ ملک کی کل آبادی 55 لاکھ کے لگ بھگ ہے ۔ لیکن آپ کمال دیکھیں اس وقت  تعلیمی درجہ بندی کے اعتبار سے فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے جبکہ ” سپر پاور ” امریکا 20ویں نمبر پر ہے ۔2020 تک فن لینڈ دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں مضمون ( سبجیکٹ ) نام کی کوئی چیز اسکولوں میں نہیں پائی جائیگی ۔ مصنوعی آنکھ۔۔لاکھوں زندگیوں کی روشنی لوٹا سکتی ہے http://www.sahilonline.net/ur/speical-report-masnooyi-aankh وہ دن اب کچھ زیادہ دور نہیں ہے جب بینائی سے محروم افراد اپنے اردگرپھیلے ہوئے رنگوں کو دیکھ سکیں گے کیونکہ سائنس دانوں نے حال ہی میں مصنوعی آنکھ بنانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ریاست کرناٹک کو بھگوارنگ میں رنگنے کی کوشش http://www.sahilonline.net/ur/bjp-attempting-pre-poll-communal-polarisation-in-karnataka 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اوربھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کے حوصلے ابھی تک اس لئے بھی بلند ہیں کہ ریاستوں کے اسمبلی اور کارپوریشن انتخابات میں بھی انہوں نے کامیابی حاصل ہے ۔ تین طلاق پر غیر متوازن سزا ......آز: حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی http://www.sahilonline.net/ur/unbalanced-punishment-on-triple-talqa-by-maulana-wali-rehmani-general-secretary-all-india-muslim-personal-law-board اندازہ ہے کہ ۲۸؍دسمبر ۲۰۱۷ء کو مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرشاد پارلیمنٹ میں وہ بل پیش کردینگے، جسکا تعلق تین طلاق سے ہے ایوان زیریں کے ٹیبل پر رکھے جانیوالے اس بل کا نام دی مسلم ومن (پروٹیکشن آف رائٹس آن مریج) بل ۲۰۱۷ء ہے اس کا تعلق ایک ساتھ تین طلاق دینے سے ہے ۔۔۔۔ سپریم کورٹ نے ۲۲؍اگست ۲۰۱۷ء کو فیصلہ سنادیا تھا کہ اگر شوہر نے تین طلاق ایک ساتھ دیدی تو وہ بے اثر ہوگی ازدواجی زندگی پر اس طلاق کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ قانونی مثالوں کی روشنی میں اگر اس تین طلاق کو سمجھا جاسکتا ہے تو یہ کہ اس طرح کی بات ایک ’’نامناسب‘‘ لفظ تھا، جو زبان سے نکل گیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں ایسی طلاق کی حیثیت اس سے کچھ زیادہ نہیں ہے۔ تنازعات کو جنم دینے والی اننت کمار ہیگڈے کی زبان کے دام لگے ایک کروڑ روپے ! http://www.sahilonline.net/ur/will-pay-rs-1-crore-for-ananth-kumar-hegdes-tongue ہبلی عید گاہ میدان کے تنازعے کے دوران وہاں بھگوا جھنڈا لہرا کر ہندوؤں کے دلوں کو متاثر کرنے اور پانچ بار رکن پارلیمان بننے والے اننت کمار ہیگڈے اب تک گمنامی رہنے کے بعد وزیر بنتے ہی اخباروں کی سرخیوں اور لوگوں کی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ سر پرکبھی ٹوپی تو ماتھے پہ تِلک ۔کاگیری کاہے یہ بھی ناٹک ! (خصوصی رپورٹ) http://www.sahilonline.net/ur/artice-on-vishweshwar-hegde-kageri-by-radhakrishna-bhat سیاست کا دوسرا نام سوائے ناٹک بازی کے اور کچھ نہیں ہے۔ اور جب بھی انتخابات قریب آتے ہیں تو پھرسیاست کے نت نئے بہروپ سامنے آنے لگتے ہیں، جو اپنے اپنے ووٹ بینک کو متاثر کرنے کے لئے کرتب بازیاں شروع کرتے ہیں۔ گجرات نے جنگ آزادی کی قیادت کی ہے ،فرقہ پرست طاقتوں کو آگے بڑھنے سے روکنا بھی اس کی اہم ذمہ داری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نقطہ نظر : ڈاکٹر منظور عالم http://www.sahilonline.net/ur/gujarat-has-led-freedom-war-prevent-communal-forces-from-moving-forward-is-also-the-main-responsibility-says-dr-manzoor-alam گجرات انتخابات کی تاریخ قریب آچکی ہے ،ممکن ہے جس وقت آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہوں اس کے ایک دن بعد گجرات میں رائے شماری کا سلسلہ شروع ہوجائے ،9 اور 14 دسمبر کو دو مرحلوں میں ووٹنگ ہونی ہے جبکہ 18 دسمبر کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا ۔گجرات کے رواں انتخابات پر پورے ہندوستان کی نظر ہے ،خاص طور پر حکمراں جماعت بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی گجرات انتخابات جس انداز سے لڑرہے ہیں اس سے پتہ چل رہاہے کہ یہ صوبائی انتخاب کے بجائے لوک سبھا کا الیکشن ہے ،عام انتخاب ہورہاہے انقلابی سیرت سے ہم کیوں محروم ہیں؟ .................آز: مولانا سید احمد ومیض ندوی http://www.sahilonline.net/ur/why-muslims-are-far-away-from-the-education-of-messenger-hazrat-muhammed-article-by-syed-ahmed-wameez-nadvi-hyderabad سیرتِ رسول آج کے مسلمانوں کے پاس بھی پوری طرح محفوظ ہے، لیکن ان کی زندگیوں میں کسی طرح کے انقلابی اثرات نظر نہیں آتے، آخر وجہ کیا ہے؟ موجودہ دور کے ہم مسلمان صرف سیرت کے سننے اور جاننے پر اکتفاء کرتے ہیں، سیرتِ رسول سے ہمارا تعلق ظاہری اور بیرنی نوعیت کا ہے۔حالانکہ س سیرت کی امتیازی خصوصیت ہے، جس نے بھی اس کو گلے سے لگایا اس کی زندگی کی کایا پلٹ گئی، صحابہؓ سیرتِ رسول سے پہلے کچھ نہ تھے، سیرتِ رسول کے بعد سب کچھ ہوگئے، اونٹوں کے چرواہے انسانیت کے قائد ورہنما بن گئے، جہالت وظلمت کے رکھوالے علم وہدایت کی شمعیں جلانے لگے، حیوانیت وبربریت کا مظاہرہ کرنے والے انسانیت کا درس دینے لگے، یہ سب نبی کی انقلابی سیرت کی تاثیر کا نتیجہ تھا۔۔۔ سہراب الدین انکاؤنٹر معاملہ : تین سال پہلے ہوئی جج کی موت پر اب اُٹھے سوال ؛ کیا ان کا قتل ہوا تھا ؟ http://www.sahilonline.net/ur/cbi-court-judge-in-gujarats-sohrabuddin-encounter-case-murdered-scared-family-finally-speaks-up-about-shocking-facts سہراب الدین کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر کی شنوائی کر رہے سی بی آئی جج برج گوپال ہرکشن لویا ، جن کی یکم دسمبر 2014 میں موت واقع ہوئی تھی، اب تین سال بعد اُن کی موت پر سوالات اُٹھ کھڑے ہوگئے ہیں۔  انگریزی ماہنامہ کاروان نے ایک رپورٹ شائع کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ  سی بی آئی جج برج گوپال ہرکشن لویا کی  بہن انورادھا بیانی نے  الزام لگایا ہے کہ جسٹس موہت شاہ (جو اس وقت  ممبئی ہائی کورٹ کے  چیف جسٹس تھے )نے ان کے بھائی کو 100کروڑ روپے کی پیش کش کی تھی کہ  وہ سہراب الدین انکاؤنٹر معاملے میں ملزمین کے حق میں فیصلہ سنائیں ۔کاروان کے سینئر صحافی نرنجن ٹکلے نے اپنی رپورٹ میں جسٹس برج گوپال لویا کی بہن سے ملاقات کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کو ان کے بھائی نےموت سے کچھ ہفتےپہلےدیوالی کے موقع پراپنےآبائی گھر ’گاتےگاؤں‘ میں یہ باتیں بتا ئی تھیں۔رپورٹ کے مطابق جسٹس لویا کے والد ہر کشن نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے ۔ بھٹکل اسمبلی حلقے میں کھیلا جارہا ہے ایک نیا سیاسی کھیل! کون بنے گا کانگریسی اُمیدوار ؟ http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-assembly-constituency یہ کوئی ہنسی مذاق کی بات ہرگز نہیں ہے۔بھٹکل کی موجودہ جو صورتحال ہے اس میں ایک بڑا سیاسی گیم دکھائی دے رہاہے۔ کیونکہ 2018کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں لگی ہوئی سیاسی پارٹیاں اپنا امیدوار کون ہوگا اس پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ مخالف پارٹیوں سے کون امیدوار بننے پر ان کی جیت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں اس پہلو پر بھی بڑی اہمیت کے ساتھ غورکررہی ہیں۔ سعودی عربیہ میں شہزادوں کی گرفتاریاں؛ کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن یا خاندانی دشمنیاں ؟ http://www.sahilonline.net/ur/saudi-arabia-arrest-of-princes-and-review-the-arrest-based-on-corruption-true-or-what-are-the-reasons سعودی عربیہ میں حال ہی میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں اور شہزادوں سمیت  وزراء اور اہم  سرکاری عہدیداروں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں، اُس سے نہ صرف سعودی عربیہ  بلکہ پوری اسلامی دنیا پر گہرا  پڑا ہے اور مسلمان سعودی عربیہ میں ہونے والے واقعات پر تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ پہاڑ کھود کر راستے بنا لیتی ہیں ..... آز: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان http://www.sahilonline.net/ur/existent-communities-do-not-complain-they-make-roads-digging-the-mountains-article-by-dr-zafrul-islam-khan بہت عرصہ قبل میں نے ایک انگریز مفکر کا مقولہ پڑھا تھا کہ جب تک میری قوم میں ایسے سر پھرے موجود ہیں جو کسی نظریے کو ثابت کرنے کے لئے اپنا گھر بار داؤ پر لگاکر اس کی تحقیق کرتے رہیں، کسی چیز کی تلاش میں صحراؤں میں گھومتے رہیں اور پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کی جد وجہد کرتے نظرآتے رہیں، اس وقت تک مجھے اپنی قوم کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ 612بچوں کے قاتلوں کو پھانسی کب؟۔۔۔۔۔۔تحریر :ڈاکٹر میاں احسان باری http://www.sahilonline.net/ur/children-killers-executions-water-dead-shortage تھر اور چولستان موت کے کنوئیں اور ایسی گہری کھائی ہیں جہاں آج تک ہزاروں نو مولود کم سن اور کم عمر بچے صرف غذائوں کی قلت اور پانی کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہو کرمدفون ہیں ان علاقوں میں کوئی باقاعدہ قبرستان نہ ہیں لوگ دور دراز پانی کی تلاش میں گھومتے پھرتے اور ذاتی طور پر بنائی گئی جھونپڑیوں میں رہائش پذیر  ہیں جونہی بچہ فوت ہوتا ہے اترکنڑا ضلع میں بندوق برداروں کی تعداد صرف ایک فی صد: لائسنس کی تجدید کو لے کر اکثر بے فکر http://www.sahilonline.net/ur/karwar-uttar-kannada-district-licence-gunmen-are-very-least-and-not-worry-about-renewal اترکنڑا ضلع جغرافیائی وسعت، جنگلات سے گھراہواہے اس کی آبادی میں خاصی ہے لیکن ضلع میں صرف ایک فی صد لوگ ہی بندوق رکھتے ہیں،ضلع میں فصل کی حفاظت کے لئے 8163اور خود کی حفاظت کے لئے 930سمیت کل 9093لوگ ہی لائسنس والی بندوقیں رکھتے ہیں۔ گوری لنکیش کے قتل میں قانون کی ناکامی کا کتنا ہاتھ؟ وارتا بھارتی کا اداریہ ............ (ترجمہ : ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ ) http://www.sahilonline.net/ur/murder-of-gauri-lankesh-and-failure-of-law-authoriday-editorial-by-kannada-vartha-bharathi-mangalore-translated-by-dr-haneef-shabab گوری لنکیش کے قاتل بہادر تو ہوہی نہیں سکتے۔ساتھ ہی وہ طاقتور اورشعوررکھنے والے بھی ہیں۔ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایک تنہا اور غیر مسلح عورت پر سات راؤنڈگولیاں چلانے والے کس حد تک بزدل اورکس قسم کے کمینے ہونگے۔مہاتما گاندھی کو بھی اسی طرح قتل کردیا گیا تھا۔وہ ایک نصف لباس اور لوٹے والے فقیر تھے۔ صرف زبان پر رام نام کے علاوہ ان کے پا س کوئی بھی ہتھیار نہیں تھا۔سخت ضعیفی الگ تھی۔ایسی شخصیت کا مقابلہ فکر اور سوچ کی سطح پر کرنے کی طاقت نہ رکھنے اور انہیں گولی مارکر ہلاک کرنے والے گوڈسے کی نسل کے لوگ پورے ملک میں اسی بزدلانہ انداز میں پرتشدد سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یومِ اساتذہ اور ہمارا معاشرہ ؛ (غوروفکر کے چند پہلو) از :ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی ،صدر شعبہ اردو؛ گورنمنٹ ڈگری کالج ، سونور ضلع ہاویری http://www.sahilonline.net/ur/teachers-students-relation-and-society-by-dr-shah-rashad-usmni-special-article ہمارا معاشرہ سال کے جن ایام کو خصوصی اہمیت دیتاہے ، ان میں سےایک یومِ اساتذہ بھی ہے، جو 5ستمبر کو ہر سال پورے ملک میں منایاجاتاہے۔ اس موقع پر جلسے ، مذاکرے اور اس نوعیت کے مختلف رنگا رنگ پروگراموں کا انعقاد کرکے ایک قابل احترام اور مقدس پیشہ میں مصروف اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتاہے۔ کیا کابینہ کی توسیع میں آر ایس ایس کا دخل تھا ؟ http://www.sahilonline.net/ur/modi-cabinet-reshuffle-rss-saved-uma-bharti-from-cabinet-axing-say-sources اتوار کے روزہونے والی کابینی رد وبدل میں محض وزیر اعظم نریند مودی کی ہی مرضی نہیں بلکہ اس میں آر ایس ایس کا بھی دخل برابر کا تھا۔ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو اس توسیع میں وزیر اعظم کی مرضی اتنی نظر نہیں آئی جتنا سنگھ کا اثر دکھائی دیا۔ توسیع کے کسی بھی فیصلے سے ایسا محسوس نہیں ہوتا ہے کہ وزیر اعظم ڈھونگی بابا کے چنگل میں پھنسی ایک لڑکی کا وہ خط جس نے گرمیت رام رحیم کی پول کھولی http://www.sahilonline.net/ur/the-letter-which-led-to-gurmeet-ram-rahim-singhs-conviction-in-rape-case یہ خط اس ڈھونگی بابا کے چنگل میں پھنسی ایک لڑکی نے اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو لکھا تھا۔ اسی خط کی بنیاد پر سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے رام رحیم کو زانی قرار دیا۔ کرنل پروہت کو سپریم کورٹ سے ملی ضمانت کے پس منظر میں ریٹائرآئی جی پی مہاراشٹرا ایس ایم مشرف کے چبھتے ہوئے سوالات http://www.sahilonline.net/ur/why-col-purohit-has-granted-bail-s-m-mushrif-rises-questions-on-terror-accused-purohit مالیگائوں بم بلاسٹ معاملے میں کرنل پروہت کو ضمانت ملنے پر Who Killed Karkare ? کے رائٹر اورسابق انسپکٹر جنرل آف پولس ایس ایم مشرف نے کچھ چبھتے ہوئے سوالات کے ساتھ سنسنی خیز خلاصہ کیا ہے، جس کو ایک مرہٹی نیوز چینل نے پیش کیا ہے۔ اُس کا مکمل ترجمہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔ رضا مانوی: ایک مخلص استاذ۔ایک معتبر صحافی ...... آز: ڈاکٹر محمد حنیف شباب http://www.sahilonline.net/ur/raza-manavi-sincere-lecturer-a-credible-journalist محمد رضامانوی ! کنڑ اصحافت میں ایم آر مانوی کے طور پر معروف ایک معتبر اورسرگرم شخصیت کا نام ہے جو حق و انصاف پر مبنی صحافتی خدمات میں مصروف وارتابھارتی اور ساحل آن لائن کے قافلے میں شامل ہے۔لیکن عام اردو داں طبقے میں اور خاص کر بھٹکل کے مسلمانوں میں آپ شمس انگلش میڈیم کے انتہائی ذمہ دار اور ایک مخلص استاد کی حیثیت سے زیادہ معروف ہیں جوگزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے طلبہ کی تعلیم و تربیت کے فرائض دینے میں اپنا خونِ جگر صَرف کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔اور اسی حوالے سے آج انہیں اہل بھٹکل کی جانب سے "بیسٹ ٹیچر آف دی ایئر"کے زمرے میں" رابطہ ایوارڈ"سے سرفراز کیا گیا ہے بھٹکل کے لذیذ سالن کی فہرست میں جگہ بناتا آلِیب بے :خریداری کے لئے گاہکوں کی بھاگ دوڑ http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-famous-dish-mashroom-alif-be-gain-the-market سال بہ سال بھٹکل چمیلی کی طرح مشروم المعروف الف بے کی فروخت کاری میں اضافہ دیکھا جارہاہے، گذشتہ ہفتہ سے مین روڈ کے کناروں پر مشروم کابیوپار زوروں پر ہے، نورمسجد، پرانے بس اسٹانڈ کے قریب والی مارکیٹ اور ساگر روڈ سے جب راہ گیر ،بائک سوار، مرد وخواتین سمیت عوام گزرتے ہیں تو سڑک کنار ے پر بیچنے کے لئے رکھی گئی مشروم دیکھ کر رک جاتےہیں للچاتے ہوئی نظروں سے آگے بڑھ کر خریدنےمیں مصروف دیکھے گئے۔ اسلامی تہذیب کی خصوصیات اور مسلمانوں کی موجودہ ضرورت ۔۔۔از:مولانااسرارالحق قاسمی http://www.sahilonline.net/ur/islami-tehzeeb-ki-kususiyat-aur-musalmanau-ki-maojuda-zarurat-special-report-by-asrarul-haq-qasmi موجودہ مغربی تہذیب کوئی نوعمر تہذیب نہیں ہے۔دراصل اس کی جڑیں ہزاروں سال پرانی یونانی اور رومی تہذیبوں سے پیوستہ ہیں۔یونانی تہذیب مغربی ذہنیت کا سب سے پہلا اور واضح نمونہ تھی۔ راجیہ سبھا انتخابات: ایک سیٹ کے لئے پہلے کبھی نہیں مچا ایسا گھماسان؛ گجرات میں کانگریس کے چھ اراکین بی جے پی کے پالے میں http://www.sahilonline.net/ur/rajya-sabha-election-no-such-frustation-seen-for-a-gujrat-seat-ever-before-bjp-bought-congress-mlas-alleged-congress  گجرات سمیت کئی ریاستوں میں آئندہ 8/ اگست کو راجیہ سبھا انتخابات ہونے ہیں. لیکن گجرات میں راجیہ سبھا کی تین نشستوں کے لئے ہونے والا راجیہ سبھا انتخابات دو چار حریفوں کی وجہ سے بحث کا مرکز بن گیا ہے. بی جے پی نے دو سیٹوں کے لئے قومی صدر امت شاہ اور سمرتی ایرانی کو امیدوار بنایا ہے. جبکہ تیسری نشست کے لئے کانگریس کے باغی سابق ممبر اسمبلی بلونت راجپوت کو میدان میں اتارا ہے. نئے صدر جمہوریہ کے انتخاب و خطاب پر تنازع ۔۔۔۔۔ آز: امام الدین علیگ http://www.sahilonline.net/ur/controversy-over-selection-of-new-president-and-his-speech-article-by-imamuddin-alaig ٓر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے رام ناتھ کووند نے ملک کے 14ویں صدر جمہوریہ کے طورپر حلف لے لیا ہے۔ حلف برداری کے بعد نو منتخب صدر جمہوریہ نے اپنے پہلے خطاب میں کثرت میں وحدت ، ملک کے کثیر ثقافتی معاشرے ، مساوات اور بھائی چارہ جیسے گرانقدر اور اطمینان بخش لفظوں کا استعمال کیا ۔اگر بات صرف لفظوں کی کی جائے تو یہ کچھ لوگوں کے لیے وقتی طور پر تسلی بخش ثابت ہوسکتے ہیں لیکن اگر ملک کو درپیش نازک حالات اور مستقبل کے خطرات کو نظر میں رکھا جائے تو الفاظ اپنے معانی کھودیتے ہیں اور اگر کوئی اہمیت رہ جاتی ہے تو صرف عمل اور اقدام کی۔ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ بدترین سلوک کے لئے مودی حکومت اور بی جے پی پر کڑی تنقید۔۔۔ نیویارک ٹائمز کا اداریہ http://www.sahilonline.net/ur/new-york-times-slams-modi-govt-for-indias-rising-intolerance مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ بیف کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں سر زد ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے نیو یارک ٹائمز نے17جولائی کو جو اداریہ تحریر کیاہے اس کا ترجمہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے: ہجوم کے ہاتھوں تشدد کا فروغ بہت خطرناک۔۔۔۔۔۔از:راجیش جوشی http://www.sahilonline.net/ur/hujum-ke-hathon-tashuad-ka-faroog-bahut-khatarnak-rajesh-joshi پاجامہ قمیض پہنے، ہاتھ میں ڈبا لیکر جنگل کی طرف 'کھلے میں رفع حاجت' کے لیے جانے والے دیہاتی آدمی کے پیچھے کچھ خواتین اور لڑکیاں دوڑ رہی ہیں۔ گائے اور ہندُوتو: جھوٹ اور سچ - آز: شمس الاسلام http://www.sahilonline.net/ur/cow-and-hindu-truth-and-wrong 'رام'، 'لو جہاد' اور 'گھر واپسی' (مسلمانوں و عیسائیوں کو جبریہ ہندو بنانا) جیسے معاملات کے بعد ہندُتووادی طاقتوں کے ہاتھ میں اب گئو رکشا کا ہتھیار ہے۔ مقدس گائے کو بچانے کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کو متشدد بھیڑ کے ذریعے گھیر کر مارپیٹ یہاں تک کہ قتل کر ڈالنے، ان کے اعضاء کاٹ  ڈالنے اور ان کے ساتھ لوٹ مار کرنے کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں۔ دوخبریں،دو کہانیاں اورالیکٹرانک مفکرین کی گل افشانیاں ....... آز: نایاب حسن http://www.sahilonline.net/ur/two-news-two-stories-special-report-on-mehmood-madani-group-and-modi-meet-what-is-the-reality 9؍مئی کوجمعیت علماے ہند(م)کی نمایندگی میں ایک وفد نے پی ایم مودی سے ملاقات کی،مودی وزیر اعظم ہیں تو ان سے ملناملانا کوئی انوکھامعاملہ نہیں ہونا چاہیے تھا،مگر بعض اسباب ایسے تھے کہ جن کی وجہ سے اس ملاقات پر سوالات اٹھنایقینی تھا۔ویسے سوالات کرناکوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہونا چاہیے،سوالات سے ہی انسان کا ذہن کلیئر ہوتااور شکوک و شبہات ختم ہوتے ہیں۔ ماہی گیری کشتیوں پر لائٹنگ کا استعمال بند؛ بھٹکل کے ماہی گیر پریشان http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-use-of-lightining-for-fishries-dangerous-for-fishing موسم گرماکی وجہ سے سمندرمیں مچھلی شکار نہیں ہونے کو ےلے کر ماہی گیر کی تکالیف بیان سے باہر ہے۔ مچھلی کی امید لے کر سمندر میں لائٹنگ کے ذریعے مچھلی شکار کے لئے گئے ماہی گیر خالی ہاتھ لوٹ رہے ہیں۔ بھٹکل کے سی سی ٹی وی کیمرے کیا صرف دکھاوے کےلئے ہیں ؟ http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-cctv-camera-remembering-only-on-festive-occassion-after-that-nobody-talk شہر بھٹکل پرامن ، شانتی کا مرکز ہونے کے باوجود اس کو شدید حساس شہروں کی فہرست میں شمار کرتے ہوئے یہاں سخت حفاظتی اقدامات کی مانگ کی جاتی رہی ہے۔مندرنما ’’ناگ بنا ‘‘میں گوشت پھینکنا، شرپسندوں کے ہنگامے ، چوروں کی لوٹ مار جیسے جرائم میں اضافہ ہونے کے باوجود شہری عوام حفاظتی اقدامات سےبے اطمینانی کااظہار کئے جانے پر بھٹکل مین روڈ، مارکیٹ جیسے مختلف مقاما ت پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات کو سخت کیاجانا طئے ہوا۔ جس کے لئے شہر کے کچھ مالداروں نے بھی معاشی طورپر تعاون کیا تو لاکھوں روپئے کی لاگت سے شہر کے مختلف جگہوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے اور اسکی بہتر تشہیر بھی کی گئی اور عوام نے ایک گونہ اطمینان کی سانس لی،چلو! آخر کچھ تو ہوا۔ طلاق: مسلمانوں کا ایجنڈ ا کیا ہو؟ کنڑا ہفتہ وار’’ سنمارگہ‘‘ میں ایڈیٹر عبدالقادر کوکیلا کی تحریر http://www.sahilonline.net/ur/talaq-what-is-muslim-agenda-by-akkukkila-translationrauoof-ahmed-savanur ملک بھر میں جاری طلاق کی بحث کا سدباب دوطریقوں سےکرسکتےہیں۔ پہلا یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر پورا الزام دھر کر خاموش ہوجائیں۔ دوسرا انہی موضوعات کو بنیاد مان کر مسلم ملت کی داخلی ترقی کے لئے حکمت عملی ترتیب دیں ۔ طلاق کے گرد گھومنے والی ٹی وی چینلس کی بحث میں ہوسکتاہے اشتعال انگیزی ہو اور اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین میں بھی مبالغہ آرائی ہو۔لیکن اس کامطلب ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں میں طلاق کی شرح بالکل صفر ہے، ہے نا! تو پھر مسلمانوں کے موجودہ حالات کیسے ہیں؟ بھٹکل شہر کے کامیاب تاجر محمد ابوبکر قمری کے جانشینوں کے خوابوں کی تعبیر ’’قمری ٹاور‘‘کا شاندار افتتاح http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-new-qamari-tower-inuagurated-at-shamshuddin-circle-abubaker-qamari انسان کڑی محنت ،مخلصانہ کوششوں کے ذریعے اپنی بہتری اور ترقی کی طرف گامزن ہوتاہے تو فطرت بھی اس کا استقبال کرتی ہے اور وہ سب کچھ نوازتی جاتی ہے جس کی وہ تمنا کرتاہے۔ ایسی ہی ایک مثال بھٹکل کے مثالی تاجر محترم ابوبکر قمری ہیں۔ خلیج میں اپنی بہترین کمائی کو الوداع کہہ کرسال 1982میں بھٹکل میں ایک چھوٹی سے دکان ’’اسٹیل سنٹر‘‘ کے نام سے اپنی تجارت شروع کرنے والے شہر کے مشہور ومعروف تاجر ابوبکر قمری کامیابی کی منزلوں کو طئے کرتے ہوئےاپنے جانشین عرفات، آفتاب اور عمارکے بھرپور تعاون سے جدید زمانے کے تقاضوں کے تحت پینٹنگ کے میدان میں نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ بھٹکل میں آرام دہ اورجدید سہولیات سے آراستہ اپارٹمنٹس کا شاندار منصوبہ "اوشیانک"؛ پہلے 25 اپارٹمنٹس بُک کرنے والوں کو لکی ڈراء کے ذریعے انعامات http://www.sahilonline.net/ur/oceanic-excellent-apartment-equipped-with-comfortable-and-modern-facilities-launched-in-bhatkal-jali-road بھٹکل جالی روڈ پر آرام دہ اور جدید سہولیات سے آراستہ67 اپارٹمنٹس کا شانداررہائشی منصوبہ "اوشیانک Oceanic" لانچ کیا گیا ہے۔ جو کہ خاص کر بزنس مین، این آر آئیز اور ایکزیکٹیو کلاس کے افراد کے لئے نہایت ہی موزوں سمجھا جارہا ہے ۔یہ اپارٹمنٹس ان لوگوں کے لئے کشش کا سبب بنے گاجو اعلیٰ معیارر زندگی اورشایانِ شان لگژری رہائشی اپارٹمنٹ کا خواب دیکھتے ہیں اور جدید زمانے کے تقاضوں اور بلند معیار کے مطابق جینے کے عادی ہیں۔ اور یہ سب کچھ بالکل مناسب دام اور  دو سال کی ادائیگی (فری انٹرسٹ )کی سہولت کے ساتھ دستیاب ہے۔ گئوکشی کے خلاف نفرت آمیز مہم کو کاؤنٹر کرنے کی حکمت عملی! .... آز: امام الدین علیگ http://www.sahilonline.net/ur/strategy-to-counter-the-hate-campaign-against-cow-slaughter ریاست تلنگانہ میں بی جے پی کے رکن اسمبلی ٹی راجا سنگھ نے میڈیا کے سامنے کھلے عام جس طرح کا بیان دیا ہے وہ اس ملک کے مستقبل کے حوالے سے فکر کرنے والوں کے لیے واقعی صدمہ انگیز اور پریشان کن بیان ہے۔ ٹی راجا سنگھ نے واضح طور پر لاقانونیت کی پشت پناہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ گائے اور رام مندر کے لیے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے حق میں ہیں۔انھوں نے اپنے بیان میں جنونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'گائے سے بڑھ کر ہمارے لیے کچھ نہیں، یہاںتک کہ گائے سے بڑھ کر انسان کی جان بھی نہیں ہے۔ایک طرف انتہاپسندی کے جنون میں ڈوبے ان جیسے لیڈران کے بیانات تو دوسری طرف گئو رکشا کے نام پر قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے معاملوں میں پولیس اور انتظامیہ کی بے حسی اور جانبداری! امیر شریعت سادسؒ ، نقوش و تاثرات :عروس جمیل در لباس حریر ۔۔۔۔۔ آز: فضیل احمد ناصری القاسمی http://www.sahilonline.net/ur/impressions-and-feedback-on-ameer-e-shariat-fuzail-ahmed-nasiri-al-qasimi امارت شرعیہ(بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ)ہندوستان کے ان سرکردہ اداروں میں سے ہے،جن پر اہل اسلام کو ہمیشہ فخر رہا۔یہ روز اول سے ہی ملت اسلامیہ ہندیہ کی قیادت بہتر انداز میں کرتی رہی ہے، یہ ادارہ’’ مفکر اسلام‘‘ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃاللہ علیہ کے خوابوں کی تعبیر ہے، اس کاقیام 1921ء میں ہوا۔ اس کی تاسیس اور کارناموں پر اب صدی گزرنے کو ہے۔ حق جل مجدہ نے اس عظیم ادارے سے عظیم الشان کام لئے، اس کافیضان ہنوز جاری اور اس کا جلوہ آج بھی برقرار ہے۔برطانوی اقتدار والے ہندوستان جیسے مسلم اقلیتی ملک میں امارت اور وہ بھی شرعی امارت کا خواب دیکھنا بھی بڑی بات تھی، چہ جائے کہ اسے شرمندہ تعبیر کرلینا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد صاحب نے صحرا میں چاہ کنی کا نادر المثال کا رنامہ انجام دیا۔ کیا سنگھ پریوار ثابت کرناچاہتا ہے کہ جناح کا نظریہ درست تھا ؟............... سعید حمید http://www.sahilonline.net/ur/kya-sangh-parivar-sabit-karna-chahta-hai-ke-jana-ka-nazriya-durust-tha-special-report-urdu-times سنگھ پریوار نے اسکرپٹ لکھا ہے۔ اندرونی سیاسی صورتحال کی رپورٹس کے پس منظر میں پارٹیاں جیتنے والے امیدواروں کی تلاش میں لگ گئیں http://www.sahilonline.net/ur/karwar-winning-parties-background-reports-political-situation-candidates آئندہ اسمبلی انتخابات جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں، سیاسی پارٹیوں کی منصوبہ بندی کا عمل تیز ہوتا جارہا ہے۔ کہتے ہیں کہ سیاسی صورتحال سے متعلق اپنی اپنی خفیہ رپورٹ کو نظر میں رکھتے ہوئے اب کانگریس، جے ڈی ایس او ربی جے پی میں توجہ اس بات پر مرکوز کی جارہی ہے کہ انتخابات میں علاقہ وار سطح پر پارٹی کے لئے جیت حاصل کرنے والا امیدوار کون ہے۔ آئندہ ودھان سبھاالیکشن کے پیش نظر بھٹکل کے سیاسی ماحول کو گرمانے کی کوششیں شروع http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-vidhan-sabha-election بھٹکل میں آنے والے ودھان سبھا الیکشن کے پیش نظر سیاسی ماحول کو گرمانے کی کوششیں رفتار پکڑنے لگی ہیں۔اس ضمن میں پارٹیوں کے لئے آکسیجن کی طرح ضروری" دل بدلی" کا پہلا دور ختم ہوگیا ہے، یوپی کے انتخابی نتائج؛ دعوتی نقطۂ نظر سے بعض تشویشناک پہلو .................. محمد الياس ندوي بهٹکلی http://www.sahilonline.net/ur/results-of-uttara-pradesh-election-and-some-serious-side-by-maulana-ilyas-jakti-nadvi-bhatkal دنیا میں فیصلے خوش فہمیوں پر نہیں حقائق پر ہوتے ہیں:۔ اترپردیش میں انتخابات کے عوام کے لیے غیرمتوقع لیکن خواص کے لیے عین متوقع نتائج پر جو تبصرے اور تجزیے مجموعی طور پر سننے ،دیکھنے اور پڑھنے کو مل رہے ہیں وہ بحیثیت مسلمان اور امت دعوت حیرت میں ڈالنے والے ہیں ،اکثر لوگوں کاکہنا ہے کہ بلیٹ مشینوں میں ہیرا پھیری ہوئی اور یہ اسی کا نتیجہ تھا ، بعضوں کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے آپسی انتشار اور ان کے ووٹوں کی تقسیم نے زعفرانی پارٹی کو اکثریت میں پہنچایا، کچھ ملّی قائدین مسلمانوں کو تسلّی دے رہے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف یہ ان کا وقتی اتحاد ہے ،خود ان میں اس قدر خلفشار ہے کہ چند ہی دنوں میں یہ لوگ آپس میں لڑجھگڑکراقتدار سے محروم ہوجائیں گے۔ بھٹکلی احباب کی کمپنی ’’کونفی بیگ ‘‘ میں اب آرہی ہے خصوصی چِپ، موبائل کے ذریعے بچوں کی ٹریکنگ ممکن ہوگی http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-confy-bag-new-creation-in-bag-making-technology مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے 2000نئے نوٹوں میں چپ نصب کئے جانے اور نوٹوں کی گڈیوں کا پتہ لگانے کو لے کر بہت ساری افواہیں پھیلائی گئیں وہ سب خبریں اب پرانی ہوچکی ہیں ۔ آربی آئی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوٹوں میں ایسا کچھ نہیں ہے ، اس خبر کے جھوٹی ہونے کی بات بھی پرانی ہوچکی ہے ۔ لیکن تازہ خبر یہ ہے کہ بھٹکل میں اسکول بیگوں میں چِپ نصب کئے جانے کو لے کر جدید تخلیق سامنے آئی ہے، جو صرف شہر بھٹکل کے لئے نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے ایک تجسس بھری تخلیق ہوسکتی ہے۔ بھٹکل کی نوائط برادری کا جذبۂ اخلاص جس کی تشہیر ہونی چاہیے۔۔۔۔(محمد رضا مانوی کی کنڑا تحریر کا اُردو ترجمہ) http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal_people_helping_nature_spl_story_by_mrmanvi ساحل سمندر کے خوبصورت قدرتی نظارے سے گھِرا ہوا شہر بھٹکل اکثر وبیشتر اخبارات کی منفی سرخیوں میں رہا کرتا ہے۔لیکن اس بارایک مثبت خبر کے لئے اسے بین الاقوامی سطح پر اخباروں کی زینت بننا چاہیے تھا۔کیونکہ اپنے وطن سے ہزاروں کیلومیٹر دورگزشتہ نو مہینوں سے کوما کی حالت میں سعودی عربیہ کے ایک اسپتال کے اندر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا بھٹکل کے شہری ابوبکر ماکڑے کوصرف اپنے اخلاص کے بل بوتے پربحفاظت وطن واپس لانے کاجوکام نوائط برادری کے احباب نے انجام دیا ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اگر ایجنڈا ترقی کا ہے تو فرقہ پرستی کی باتیں کیوں؟ کیا اشتعال انگیزی پر گرفت نہ کرنے کا مطلب رضا مندی  نہیں ؟ http://www.sahilonline.net/ur/agar-agenda-tarqi-ka-hai یوں تو بی جے پی لیڈر سال بھر ملک کی ترقی، حالات بدلنے کی باتیں کرتے نہیں تھکتے لیکن جب الیکشن ہو وہ بھی ملک کی سب سے بڑی اور سبب سے حّساس ریاست اُتر پردیش میں بلی تھیلے سے باہر آ ہی جاتی ہے یو پی اسمبلی انتخابات: سب کی نگاہیں دلت مسلم پر مرکوز ۔۔۔۔ از:عبد المعید ازہری http://www.sahilonline.net/ur/uttara-pradesh-assembly-election یہ موجودہ سیاست کی ناکامی ہے یا سیاست دانوں کی نا اہلی ہے کہ سیاست کا با ضابطہ تعمیر ترقی کا خاکہ تعصب اور بے ایمانی کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔ آج کے انتخابات کیلئے پیسہ، پاور اور ظلم و زیادتی لازم ہوتے جا رہے ہیں۔ دنگے اور فرقہ وارانہ فسادات کسی بھی انتخابی مہم کا اہم حصّہ ہوتے جا رہے ہیں۔ نئی نسل کے لیے ایک بہترین دینی تحفہ مولانا الیاس ندوی کی مجالس نبوی ﷺ http://www.sahilonline.net/ur/an-introduction-of-majilse-nabi-s-by-maulana-ilyas-nadvi-rauoof-ahmed-savanur حضورﷺ کی سیرتِ مقدسہ ایک بے مثال،ابدی عملی نمونہ ہے ، جو زندگی کےاعلیٰ وارفع مقصد کے حصول میں بہتر سے بہتررہنمائی کرتاہے تو  چھوٹے  چھوٹے ، معمولی مسائل کو بھی اپنے اندر سمیٹا ہواہے اور اس کی اہم اور خاص خصوصیت یہ ہےکہ یہ عملی نمونہ دنیا کے ساتھ اخروی زندگی کی کامیابی کی ضمانت بھی ہے۔اس کی گواہی خود  قرآن کریم  نے دی ہے تو  وہیں صحابہ کرام رضی اللہ کی جیسی عظیم شخصیات کی سیرتیں روشن دلیل ہیں۔موجودہ دنیا جن کو مفکرین ، مصلحین ، دانشور ، فلسفی کہتی ہے،ان کے تعلق سے صرف یہی کہا جاسکتاہے کہ وہ صرف قال کی حد تک ہی محدود ہیں اور دنیا نے ان مہان ہستیوں کی طرف سے پیش کئے گئے نظریات، فلسفہ یا پیغام کی عملی شکل  دیکھنے سے قاصر ہے، خود انہیں بھی اس کے عملی نفاذ پر اعتماد نہیں تھا اس کے برعکس خاتم النبین حضرت محمد ﷺ  کی سیرت بہت ہی آسان اور سہل انداز میں عمل پیش کرتی ہےتاکہ دنیا کو اس پر عمل کرنے میں کوئی دقت نہ ہو۔ یہ کوئی فلسفہ یا فکر نہیں بلکہ رشد وہدایت اورر دنیاو آخرت کی کنجی ہے حیوان کو انسان بنانے کی عملی صورت ہے آج دنیا جسے شخصی تعمیر(پرسنالٹی ڈیولیپمنٹ )کا پرفریب نا م دیا  ہے در حقیقت حضرت محمد ﷺﷺ کی سیرت ہی وہ  گائیڈنس ہے جو ہمیں  دنیا میں سب سے بہتر پرسنالٹی کی تعمیر میں  ممد و معاون ہے ، اس کے علاوہ جو کچھ ہے  وہ خس وخاشاک۔ بہاری نوجوان کو ملی دوبارہ ہوش و حواس کی زندگی؛ گنگولی کے معروف سوشیل ورکر ابراہیم ایم ایچ کی کوششوں کا نتیجہ http://www.sahilonline.net/ur/a-mental-youth-of-bihar-got-senses-due-to-help-of-gangoli-247 گنگولی سے ساحل آن لائن کے نمائندے اور معروف سوشیل ورکر ابراہیم کی کوشش اور کیرالہ میں بے یار ومددگار افراد کے لئے سہارا بننے والے ادارے 'سنیہا لیہ'کے تعاون سے برسوں سے پاگل پن کا شکارہوکر در بدر بھٹکنے والے بہاری نوجوان کو دوبارہ ہوش و حواس کی زندگی ملی اور اپنے خاندان کے ساتھ اس کا ملاپ ہوگیا۔ مسلمانوں کے داخلی انتشار کا سد باب کون کرے؟ از:عبدالمعیدازہری http://www.sahilonline.net/ur/musalmano-ke-dakhili-intishar-ka-sadde-bap-kon-kare جہاں اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اسلام، انسانیت کی بنیاد پر اتحاد واتفاق اور رواداری کا مذہب ہے، وہیں یہ بات بھی افسوس کے ساتھ قابل یقین اور سبق آموز ہے کہ پوری دنیا کو اتحاد کی دعوت دینے والے مسلمان خود کئی فرقوں اور جماعتوں میں بٹ گئے ہیں۔ ساکشی کی دیدہ دہنی:بی جے پی کی نا معقول و ضاحت اور الیکشن کمیشن کی بے بسی تحریر:حامد اکمل http://www.sahilonline.net/ur/article-on-sakshi-mahraj-by-hamid-akmal بی جے پی کے تئیں کسی سنجیدگی اور شائستگی کا حسنِ ظن رکھنا خود فریبی کے مترادف ہے۔ لیکن اس کی ایسی حرکات کو معاف کرنا یا نظر انداز کرنا تہذیب ، شائستگی اور قومی یکجہتی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ بی جے پی قائدین مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں مسلسل دریدہ دہنی کرتے رہتے ہیں اسے ان کی عادت قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ فوج کو گھٹیا کھانا، مجرم کون ہے؟ ....... تحریر: منصور عالم قاسمی(ریاض، سعودی عرب) http://www.sahilonline.net/ur/bsf-jawan-tej-bahadur-yadavs-video-on-poor-quality-of-food-who-is-guilty جموں کشمیرمیں تعین ۹۲ویں بٹالین کا جوان تیج بہادر یادو پچھلے دو دنوں سے سوشل میڈیا سے لے کر پرنٹ میڈیا تک موضوع بحث؛بی ایس ایف افسران اور سرکار کے لئے باعث ندامت و خجالت بنا ہوا ہے اور کیوں نہ ہوکہ اس نے ایک ایسی خامی کو بر سر عام کردیا ہے جس سے ملک میں شدید غم و غصہ کی لہر پائی جا رہی ہے اوربیرون ممالک ہندوستان اورطاقتور ترین ہندوستانی افواج کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ بھٹکل میں ایسا بھی ہوتا ہے : ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے             از:قادر میراں پٹیل http://www.sahilonline.net/ur/its-also-happen-in-bhatkal-if-i-have-a-fertile-moist-soil  میں کسی کام سے باہر تھا گھر لوٹتےہوئے شمس الدین سرکل سے آٹو میں سوار ہوکر گھرپہنچا ۔ گھر پہنچنے کے بعد آٹو ڈرائیور سے کرایہ کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے 40روپئے بتایاتو میں نے اس سے پوچھا کہ ابھی آدھ گھنٹہ پہلے یہاں سے وہیں گیا جہاں سے تمہارا رکشا میں نے پکڑا ہے ، اس آٹووالے نے 30روپئے لئے، ایک ہی فاصلہ ہے مگر 10روپئے زیادہ کیوں ؟ تو اس نے کہاکہ جناب ! جس طرف وہ جارہاتھا اس کو وہیں کا کرایہ مل گیا اسی لئے اس نے 30روپئے لئے، لیکن مجھے یہاں سے واپس جانا ہے راستے میں مسافر ملنے کی کوئی گارنٹی نہیں ، اب اگر آپ بھی وہیں واپس جائیں گے تو میں آپ سے 30روپئے ہی لوں گا۔ ڈرائیور کی دلیل معقول لگی اور اس کے سمجھانے کا انداز بھی نرم ساتھا۔ بہر حال میں نے 40روپئے دے دئیے ۔ پھر اس سے پوچھا کہ یہ رکشا تمہارا خود کاہے؟ نہیں۔۔۔۔ دوسرے کا ہے۔ایک رقم پر ہمارا معاہدہ ہے، اس سے زیادہ کرایہ مل گیا تو میر اہے……………! یوپی انتخاب: منظرنامہ پر ابھرتے نقوش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راحت علی صدیقی قاسمی http://www.sahilonline.net/ur/up-election-scenario-of-rising-impressions ہندوستان کی عظیم ریاست اتر پردیش میں انتخابی عمل کا اعلان ہوچکا،تمام سیاسی جماعتیں اور دھڑے اس صوبہ کی سیاسی اہمیت سے بھرپور واقف ہیں،ان کے علم میں ہے،یہاں فتح کا پرچم لہرانا،نمایاں مقام اور کامیابی حاصل کرنا کیا معنی رکھتا ہے،یہاں کی کامیابی دہلی کی راہیں ہموار کرتی ہے، مقدر کا ستارہ روشن کرتی ہے اور کسی بھی لیڈر کے سیاسی قد کو بلند کرتی ہے، اسمبلی انتخابات میں سماجوادی کا جھگڑا اورمسلمانوں کی ذمہ داری! تحریر:ڈاکٹراسلم جاوید http://www.sahilonline.net/ur/clash-of-up-election-and-duty-of-muslims آزاد ہندوستان کے سبھی انتخابات کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں عین ووٹنگ کے زمانے میں خود کو سیکولر ہونے کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعتیں اپنی برتری کا احسا س دلانے کیلئے ہمیشہ اقلیتوں کوکئی ٹکڑوں میں منقسم کرکے انہیں تتر بتر کرکے مفلوج کرتی رہی ہیں اور مسلمانوں کے ووٹ کو منتشر کرنے کرنے کیلئے سارے سازشی حربے اختیار کرتی رہی ہیں ہندی میں خطاب کرنے اب میدان میں اُترے گی ممتا بینرجی؛ کیا ان کا اُترنا وزیراعظم مودی کیلئے خطرے کی گھنٹی تو نہیں ؟ http://www.sahilonline.net/ur/alarm-bell-for-modi-mamata-banerjee پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹوں پرپابندی کی وجہ سے پیدا شدہ کرنسی بحران کے بعد مرکزی حکومت کے خلاف مورچہ کھولنے والی ممتا بنرجی ہندی بیلٹوں میں وزیر اعظم مودی کا مقابلہ کرنے کیلئے اب ہندی زبان پر عبور حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔  نشہ آور اشیاء معاشرہ کی موت.....از:سید محمد زبیر مارکیٹ بھٹکل http://www.sahilonline.net/ur/the-impact-of-drugs-on-society-by-syed-md-zubair-market سگریٹ،گٹکھا،گانجہ،بھنگ،چرس،کوکین،،افیم ،ہیروئین،وہسکی،،حشیش  وغیرہ نشہ آور اشیاء جن کے نام سن کر گھن آتی تھی جس کو جاہل اجڑ گنوار  اجڑی گلیوں جھونپڑ پٹیوں اور پسماندہ طبقہ کے لوگ استعمال کرنے کا شعور پایا جاتا تھا سالار قوم بھٹکل؛محی الدین منیری رحمۃ اللہ علیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔از:سید محمد زبیر مارکیٹ  http://www.sahilonline.net/ur/salar-e-qaum-bhatkal-mohiddin-muniri جناب محی الدین منیری مرحوم سے بھٹکل کا کون شخص واقف نہیں ہے ہندوستان کے مشاہیر شخصیات کی صفوں میں آپ کا شمار ہوتا ہے منیری کی شخصیت ہر دلعزیز تھی بااثر تھے ایک سراپا متحرک اور فعال شخصیت کا نام منیری تھا شاید انھیں چین سے بیٹھنا ہی نہیں آتا تھا بجلی کی طرح وہ اپنے اندر تڑپ رکھتے تھے۔ کیا نوٹ بندي کے طوفان کے بعد بھی اُترپردیش کے 'دنگل' میں چل پائے گا پي ایم مودی کا جادو؟ http://www.sahilonline.net/ur/will-pm-modis-demonetisation-gamble-pay-off-or-derail-bjps-campaign-in-up وزیر اعظم نریندر مودی نوٹ بندي کے طوفان پر سواری جاری رکھ سکتے ہیں، کیونکہ نفاق ہونے کے علاوہ قومی سطح پر ان کی مخالفت کرنے والوں کے پاس ساکھ کی کمی ہے اور عام لوگوں میں پریشانیوں کا سامنا کرنے کا غیر معمولی صبرپایا جاتا ہے۔ اس درمیان گجرات، مہاراشٹرا، راجستھان اور چندی گڑھ کے کارپوریشن انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ملی جیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب تک وزیر اعظم میں لوگوں کا اعتماد بنا ہوا ہے. اسٹیو فوربس کی نظر میں نوٹ بندی عوام کی جائیداد پر غیر اخلاقی ڈاکہ ہے http://www.sahilonline.net/ur/demonetisation-is-immoral-theft-of-peoples-property-steve-forbes نوٹ بندی کو غیر اخلاقی مہم قرار دیتے ہوئے مشہور ومعروف انگریزی میگرئین فوربس کے چیف ایڈیٹر اسٹیو فوربس نے اسے عوامی جائیداد پرڈاکہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق  نہ انسانی فطرت کبھی بدلی ہے، نہ بدلے گی، اور غلط کام کرنے والے لوگ غلط کام کرنے کے لئے راستہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں، اس لئے بھارت کی حکومت کی طرف سے کرپشن، کالے دھن اور دہشت گردی کے سائے سے نجات حاصل کرنے کے لئے اٹھائے گئے نوٹ بندی کے قدم سے کچھ حاصل نہیں ہو پائے گا کلیجہ منہ کو آتا ہے ........................ از:محمد ولی اللہ ابن محمد زبیر تیسی مدہوبنی  http://www.sahilonline.net/ur/kaleja-munh-ko-aata-hai-special-report آج عالم اسلام سنگینی حالات سے دوچار ہے ، پوری دنیا کے مسلمان مختلف مصائب میں گرفتار ہے ،باطل قوتوں کی طرف سے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر زندگی تنگ کی جا رہی ہے ،ہرچہار جانب سے مسلمانوں کو گھیرا جا رہا ہے ، حلب(شام) کا سقوط اور خاموش تماشائی بنی دنیا ....... مھدی حسن عینی کے قلم سے http://www.sahilonline.net/ur/falls-of-syria-and-world-is-silence-article-written-by-mehdi-hassan-aini مغیبات و بشارتوں کے ملک سیریا میں جب سےبشارالاسدکے ہاتھ میں زمام اقتدار آیا ہے.. اس نےتاتاریوں کےطرز پر سنیوں کاقتل عام،ان کی آبادیوں کوتاراج کرکےانکے بچوں وعورتوں پرنیوکلیائی ہتھیاروں کا استعمال کرکے پورےسیریامیں سنیوں  پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے، کئی لاکھ لوگ ہجرت کرگئے، جو رہ رہے ہیں وہ درختوں کے پتےاور کتے بلی کھانے پر مجبور ہیں، مؤرخ جب تاریخ لکھے گا تو اس میں یہ ضرور لکھے گا کہ ملک شام کی عوام پر بشار نے وہ ظلم ڈھائے جو آج تک  کسی کافر نےبھی مسلمانوں پرنہیں ڈھائے لیکن افسوس اس بات پر ھیکہ امت مسلمہ خاموش تماشائی بنی ہوئی یہ سب کچھ دیکھتی رہی۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے http://www.sahilonline.net/ur/and-that-we-will-see  نوٹ بندی کے بعدسے پوراملک لائنوں میں کھڑاہے اور عام انسانوں کی زندگیاں دوبھرہوگئی ہیں،جبکہ کچھ لوگ اور طبقات ایسے بھی ہیں،جن کے لیے سرکارکایہ فیصلہ گویا”نعمتِ غیر مترقبہ“ثابت ہورہاہے،ہمارے وزیر اعظم مسٹرمودی کو بھرم ہے کہ ہزاراورپانچ سوکے نوٹ بندکردینے سے ملک میں بدعنوانی اور کالے دھن کی ذخیرہ اندوزی پر لگام لگے گی طلاق ثلاثہ پر عدلیہ ریمارک۔۔۔,مسلمانوں کے درمیان تفریق کی دیوار کھڑی کرنے کی کوشش http://www.sahilonline.net/ur/court-remarks-on-triple-talaq-try-to-create-divisions-among-muslims-wall اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وطن عزیز میں دیگر ممالک کی طرح مسلمانوں کے مختلف فرقے اور مسالک پائے جاتے ہیں،جن میں سے حضرات غیر مقلدین کو چھوڑ کر لگ بھگ سبھی مسلمان فقہاء ائمہئ کرام کی تقلید کرتے ہیں اور فقہائے کرام کے یہاں ڈھیر سارے مسائل میں اختلافات موجود ہیں۔مگران اختلافات کی وجہ سے نہ تو ائمہ کرام کی ذات کو سب وشتم کا نشانہ بنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے اور نہ ان اہل اللہ کی نیت پر ہمیں شک کرنے کی اجازت حاصل ہے جنید:تیری جدائی میں سب رو رہے ہیں  از:نازش ہماقاسمی  http://www.sahilonline.net/ur/pakistan-plane-carrying-junaid-jamshed-crashed کچھ حادثے ایسے ہوتے ہیں جن سے لاکھ چاہتے ہوئے بھی انسان پیچھا نہیں چھڑاپاتا ہے۔ وہ حادثہ دل و دماغ کو ایک دم سے مفلوج کرکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو مفقود کردیتاہے اور ذہن بار بار اس حادثے کی نفی کرتا ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہواہوگا۔ وہ اس حادثہ میں بچ گئے ہوں گے لیکن وہ رونما ہوچکا ہوتا ہے۔ موت اسکی ہے کرے جسکا  زمانہ افسوس.................. از:احتشام الحق قاسمی رامپوری   http://www.sahilonline.net/ur/maut-uski-hai-kare-jiska-zamana-afsos-az-ehtishamul-haq-qasmi-rampuri پچهلے دوروز میں دو عظیم حادثے هوئے  جس نے بر صغیر هندوپاک کو هلا کر رکهدیا۔ایک چنئ کی وزیراعلی  جے للیتا طویل علالت کے بعد اپولو هستپال میں زندگی کی جنگ هار گئیں اور اس دارفانی سے کوچ کرگئیں دوسرے پاکستان کے مشهور مبلغ اسلام  جنید جمشید ایک طیاره حادثه میں شهید هوگئے بابری مسجد کا زخم چاہ کے بھی بھر نہ سکا  http://www.sahilonline.net/ur/special-report-on-babri-masjid 6-دسمبر  کی آمد کے ساتھ بابری مسجد کا غم تازہ ہونے لگتا ہے۔ کم از کم ہم اور ہماری پیشرو نسل کے لئے یہ ایک غم ہے جو آخری سانس تک کم نہیں ہوسکتا۔ نئی نسل البتہ بابری مسجد کی شہادت کے غم میں شامل ضرور رہتی ہے۔ مگر تاریخی حقائق سے وہ پوری طرح سے واقف ہیں یا نہیں‘ یہ یقینی نہیں ہے۔ اوربھی غم ہیں زمانے میں ’محبت‘ کے سوا! محمد شارب ضیاء رحمانی http://www.sahilonline.net/ur/why-govt-is-silence-over-the-death-of-changing-currency-notes دوہرے رویئے اورپروپگنڈوں کی سیاست بی جے پی کی پہچان ہوگئی ہے۔جب یوپی اے حکومت نے 2005سے پہلے کے نوٹ کوبدلنے کااعلان کیاتھا تو بی جے پی نے اسے غریب مخالف بتاکرسخت مخالفت کی تھی،آج وہی قدم غریب پرورہے۔دہشت گردی کے خاتمہ کی بات کی جاتی ہے تولگتاہے کہ اس ناسورکے سدباب پرحکومت سنجیدہ ہے لیکن سادھوی پرگیہ،اسیماننداوراسرائیل سے متعلق اس کاموقف الگ ہوجاتاہے۔ کشمیرمیں ڈیڑھ سودنوں سے پوری زندگی مفلوج ہے،زیرِسماعت قیدی کوانکاؤنٹرکے بہانے اڑادیاجاتاہے، نوٹ بندی،سفاک سیاست اورجانوں کازیاں از:نایاب حسن http://www.sahilonline.net/ur/notbadi-article-by-nayab-hassan جب سے مرکزی حکومت نے پانچ سو اور ہزارروپے کے پرانے نوٹوں پرپابندی کا اعلان کیاہے،تب سے پورے ملک میں گویانفسی نفسی کا عالم ہے،ہر چہارجانب افراتفری مچی ہوئی ہے،لوگ اپنے دوسرے سارے مسائل اور پریشانیوں کوبھول کر اپنے کمائے ہوئے پیسوں کوبدلوانے کے لیے جہاں تہاں صف بستہ کھڑے ہیں، اسرائیلی پارلیمان میں اللہ اکبر کی صدا از:شمس تبریز قاسمی http://www.sahilonline.net/ur/israels-parliament-muslim-mp-allah-akbar دنیا کے کسی مسلم ملک کی پارلیمنٹ میں آج تک اللہ اکبر کی صدابلندنہیں ہوئی،کسی مسلم پارلیمان میں اذان نہیں پڑھی گئی،انٹرنیٹ پر ہم نے بہت سرچ کیا ،لیکن کہیں بھی یہ معلومات نہیں مل سکی کہ کسی مسلم ملک کی پارلیمنٹ میں کبھی اذان دی گئی ہو ، ڈونالڈ ٹرمپ، وسوسے اور توقعات آز؛ منصور عالم قاسمی، http://www.sahilonline.net/ur/american-president-donald-trump-thoughts-and-expectations-by-mansoor-alam-qasimi 9/11/2001 کے حملے نے امریکہ کو چونکایا تھا، ٹھیک 15/ سال بعد اب ایک بار پھر9/11 کو امریکہ نے دنیا کو چونکا دیا ہے،امریکی انتخابی تاریخ کا سب سے بڑا الٹ پھیر کرتے ہوئے انتہائی نا پسندیدہ شخص ڈونالڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب جیت لیا۔ تین شادیاں کر چکے،چھ گرل فرینڈرکھ چکے،اپنی ہی بیٹی سے عشق لڑانے کی چاہت رکھنے والے یہ وہی ڈونالڈ ٹرمپ ہیں جوچند ماہ قبل فقط صنعتکار اور ریئل اسٹیٹ کاروباری کے حوالے سے معروف تھے، ٹرمپ کی جیت نے ساری دنیا کو حیرت میں ڈالدیا ہے آز: پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید http://www.sahilonline.net/ur/trump-wins-is-bound-to-surprise-the-world ڈونالڈ ٹرمپ 14جون 1946کو امریکہ کے کے شہر نیو یارک سٹی میں ایک اسٹیٹ بلڈر کے گھرانے میں پیدا ہوئے ۔پنسلونیہ یونیور سٹی سے معاشیات میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ٹرمپ نے کاروباری میدان میں بہت نام اور پیسہ کمایا۔ان کو 2016کے دنیا کے 324 دولت مند ترین افراد میں گنا جاتا ہے۔ بھٹکل: مرڈیشور کے سرخاب بنے سمندری ساحل کو دوکانداروں کا تحفظ (وسنت دیواڑیگا کی خصوصی تحریر) http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-murdeshwar-sea-shore-protecting-by-vendors ملک کا مشہور سیاحتی مقام مرڈیشورکا ساحلی کنارہ ہر روز سیاحوں کے ہجوم میں ڈوب جاتاہے۔ اور یہ صرف ایک خوب صورت ، دل فریب ساحلی منظر دینے والا مقام ہی نہیں بلکہ روزانہ سیکڑوں خاندانوں کی کفالت بھی کرتاہے ۔ مگر آج یہ حسین ساحل ایک ایسا سرخاب بن گیا ہے جہاں تک کوئی بھی پہنچ نہیں پارہاہے۔ساحلی کنارے غفلت کا شکار ہوکر دن بدن اپنی خوبصورتی کھوتا جارہاہے، ایسے میں پیٹ کی مجبوری کے لئے چھوٹے چھوٹے دوکاندار ، باکڑا والوں نے گذشتہ ایک دہے سے اپنا سنگھ قائم کرکے یہاں صفائی مہم مناکر اپنے ساتھ ساحل کو بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ کیا حقیقتًا اسلام عورتوں کا دشمن ہے ؟؟؟مدہوبنی  سے محمد ولی اللہ ابن محمد زبیر قاسمی کی خصوصی رپورٹ http://www.sahilonline.net/ur/islam-is-actually-the-enemy-of-women-special-report-of-waliuallh-qasimi عصر حاضر کے ہر کس و ناکس خواہ وہ پانچ دس سال کا معصوم بچہ کیوں نہ ہو یہ بات انکو بخوبی معلوم ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے تھے اور عورت ذات کو ایک حقیر سی شئی تصور کی جاتی تھی تاریخ کے اوراق ،زمین کی پستی و آسمان کی بلندی پر  کی ہر شئی عینی شاہد ہیکہ قبل اسلام یہودیوں کے یہاں کافی عرصہ تک اس بارے میں اختلاف رہا ہے کہ عورت انسان ہے یا نہیں ؟ بھٹکل کی سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے والے جانور اور نام نہاد گو رکشھکوں کی خاموشی (وسنت دیواڑیگا کی خصوصی رپورٹ) http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-wandering-animals-thieves-and-gau-rakshaks گذشتہ چار پانچ سالوں سے شہرمیں جانوروں اور کتوں کی آوارہ گردی میں حددرجہ اضافہ ہواہے، ان کا کوئی انتظام بھی نہیں ہے ، ان کی کوئی حفاظت کرنےو الا بھی نہیں ۔ جب جانوروں کو لے جاتے ہیں تو نام نہاد محافظ پیدا ہوجاتے ہیں، کلی طورپر جانوروں کا معاملہ پولس کے لئے سردرد بنا ہے۔ اتحاد نہیں تو فساد کے لئے کمر بستہ ہوجائیں; خصوصی رپورٹ: مھدی حسن عینی قاسمی http://www.sahilonline.net/ur/not-ready-to-unite-then-be-ready-for-violence-special-report-by-mehdi-hassan-aini-qasimi  ۲۹ ستمبر کو لکھنؤ میں بریلوی مشرب کے راہ نما مولانا توقیر رضا خان اور دیوبندی مشرب کے راہنما مولانا محمود مدنی کے ایک اسٹیج پر آجانے کے بعد دوسرے ہی دن مولانا توقیر رضا خان نے مجھ سے پوچھا کہ اب اتحاد تو ہوگیا لیکن کرنا کیا ہے؟ کہیں حملہ بولنا ہے یا کچھ طے شدہ چیزیں ہیں جن پر ایک ہو کر قدم اٹھانا ہے؟ تقریباً یہی سوال آج ہر دوسرا مسلمان کررہا ہے بھٹکل:جنگل کے اندھیرے میں گزر بسر کرنے والا مراٹھی طبقہ : خوف وہراس کے سائے میں انسان کی تلاش http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-a-brief-story-of-talukas-kumari-marathi-community یہ کوئی بلگام کی سرحدپر ہنگامہ کرنے والے تو نہیں، مہا دائی ندی کے پانی کے لئے کبھی تکرار بھی نہیں کی، اس کے باوجود یہ سب مراٹھی کہلاتےہیں۔ مراٹھا جنگ کے دوران مخالف فوج کی چڑھائی کے بعد خوف کے مارے محفوظ مقام کی تلاش کرتےہوئے جنگل میں بس کر صدیاں گزرگئیں مگر ابھی تک باہر نہیں نکلے ہیں۔ ملک کو آزاد ہوئے 7دہے گزرنے کے بعد بھی انہیں باہر کا خوف ستارہاہے۔ مسلم پرسنل لااوریکساں سول کوڈ:چندقابلِ غورپہلو از:مولانااسرارالحق قاسمی http://www.sahilonline.net/ur/civil-code-all-india-muslim-personal-law-board تین طلاق ،تعددِازدواج،حلالہ وغیرہ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کے ذریعہ داخل کئے گئے حلف نامہ کے بعدپورے ملک میں بحث ومباحثہ کی ایک نئی فضاتیار ہوگئی ہے۔حکومت کی نیت اس سلسلے میں کیاہے ،وہ بھی کھل کر سامنے آگیاہے۔ ناکامی چھپانے کیلئے چھوڑا گیایکساں سول کوڈ کا شوشہ ! از: ڈاکٹراسلم جاوید http://www.sahilonline.net/ur/left-to-hide-failure-of-the-civil-code ہماراوطن ہندوستان مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا گہوارہ ہے،رنگا رنگ تہذیب اس کی خاصیت ہے ،اورہمارا جمہوری آ ئین پوری آزادی اوراختیارات کے ساتھ ہر کسی کو اپنے مذہب و عقیدہ پر عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ خوبصورت سیاحتی مقام مرڈیشورمیں عوام کا ہجوم مگر سہولیات نہ ہونے سے سیاح پریشان ؛ ضلعی انتظامیہ پر غفلت کا الزام http://www.sahilonline.net/ur/murdeshawar-ruined-happening-at-murdeshawar دنیا بھر میں سیاحت کے لئے مشہور مرکز مکمل طورپر برباد کی طرف گامزن ہے، سال بہ سال مرڈیشور کوآنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوتاجارہاہے، لیکن یہاں بنیادی سہولیات نہیں کے برابر ہیں، اور اسی طرح ترقی کی امید بھی ماند پڑتی جارہی ہے۔ سرجیکل اسٹرائک: اصل نشانہ تو کچھ اور ہے! آز: مولانا اسرارالحق قاسمی http://www.sahilonline.net/ur/surgical-strike-the-target-is-something-else-special-report-by-maulana-asrarul-haque-qasimi مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے اب تک مختلف موقعوں پر یہ بات بار بار مشاہدے میں آتی رہی ہے کہ جیسے اب ملک میں جمہوریت کی جگہ آمریت نے لے لی ہے اور حکمران وقت اختلاف رائے برداشت کرنے کے بالکل بھی روادار نہیں ہیں۔ حکومت جو چاہے سو کرے آپ کو من و عن قبول کرنا ہوگا، اگر نہیں کرتے اور اختلاف ظاہر کرتے ہیں تو فوراًآپ پر غدار وطن کا الزام تھوپ دیا جائے گا کامن سول کوڈ ایک پہیلی جو حل نہیں ہوسکتی .... رپورٹ: مھدی حسن عینی قاسمی http://www.sahilonline.net/ur/common-civil-code-is-a-puzzle-that-can-not-be-solved ایک بار پھر سے مودی سرکار کا اسلام دشمن چہرا سامنے آگیا ہے.مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ  میں ’ طلاقِ ثلاثہ‘ کے خلاف حلف نامہ داخل کرکے  کامن سول کوڈ کا دبے لفظوں میں مطالبہ کردیا ہے. آئیے سب سے پہلے یہ جانیں کہ  مسلم پرسنل لاء کسے کہتے ہیں اور مشترکہ سول کورڈ کا نفاذ ہوبھی سکتا ہے یا نہیں؟؟ بھٹکل کی سڑکیں اور فُل ٹرافک جام : پیدل سواروں اور راہ گیروں کے لئے راستوں پر چلنا دشوار http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-traffic-jam-problem-in-bhatkal دن بدن راکٹ رفتار سے ترقی کی طرف گامزن شہر بھٹکل میں فُل ٹرافک جام ، اتنا جام ہوتاہے کہ بعض دفعہ عورتوں، عمررسیدہ بزرگوں اور بچوں کو سڑک پار کرنا محال ہوجاتا ہے۔ سمندر کنارے کھڑے ہوکر دیکھیں تو حد نگاہ تک جس طرح پانی ہی پانی نظرآتاہے بالکل اسی طرح بھٹکل شہر میں جہاں دیکھو وہاں سواریوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ ایک طرف بس اسٹانڈ، بالکل اس کے روبرو پرائیوٹ بس کی بھاگ دوڑ، آس پاس آٹو رکشا اسٹانڈ، سڑک کے اس پار ٹمپو اسٹانڈ ، ان سب جھمیلوں کے بیچ میں سے گزرنے والی قومی شاہراہ پر ممبئی ، گوا سمیت ملک کے مختلف مقامات کو جانے والی سوپر اسپیڈ سواریویوں کا گذر، اس منظر سے ہی پتہ چل جاتاہے کہ شہر بھٹکل کی سڑکیں کتنی مصروف ہیں۔ بھٹکل کے ماہی گیروں کے مسائل پر ساحل آن لائن کی ایک خاص وڈیو رپورٹ http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-fishermen-problems-and-govt-negligence-sahilonline-special-video-report-khabar-khas-nazar-khas بھٹکل کے ماہی گیرکس طرح سمندری موجوں کو چیرتے ہوئے مچھلیوں کا شکار کرتے ہیں اور اس سفر کے دوران اُنہیں کس طرح کے مسائل سے جوجنا پڑتا ہے، ان سب پر مشتمل ساحل آن لائن نے اس ہفتے ایک خصوصی وڈیو رپورٹ پیش کی ہے بھٹکل:جھوٹی یقین دہانیوں میں ہی بوسیدگی کا شکار پلی ندی کا پُل: عوامی نمائندوں کا منتظر http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-shirali-alvekodi-palli-river-bridge-rotting-away-false-assurances یہاں عوام مسجد کو ’’پَلیِّ‘‘ کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں ، تعلقہ کے شرالی سے الویکوڑی جانے کے لئے سفر کرتے ہیں تو وہاں ایک ندی بہتی نظر آئے گی ، ندی کے بالکل پاس ہی مسجد ہونے کی وجہ سےیہ ندی ’’ پلی ندی ‘‘کے نام سے معروف و مشہور ہے۔ ندی کو پار کرنے کے لئے زمانہ قدیم پہلے جو برج تعمیر کیا گیاتھا وہ بوسیدہ ہوگیا ہے ، سیاست دانوں کے جھوٹی یقین دہانیوں کی بدولت یہ پُل خطرے میں ہے اور اس پر گزرنے والے مسافر جان مٹھی میں باندھ کر گزرنے کی شکایت کررہے ہیں۔ سول سروسس کے امتحانات اور مسلم نوجوان تحریر: آفتاب حسین کولا http://www.sahilonline.net/ur/civil-service-exams-and-muslim-youths-by-aftab-hussain-kola-translated-by-dr-haneef-shabab ہندوستان میں اکثر مسلم نوجوان اپنی اعلیٰ تعلیم کے لئے ڈاکٹر، انجینئریا ایم بی اے کا شعبہ اختیار کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے دیگر پیشہ وارانہ شعبہ جات اورخاص کر سول سروسس کے اہم ترین شعبے میں مسلمانوں کی نمائندگی بہت ہی کم نظر آتی ہے۔حالانکہ مسلمانوں میں تعلیم کا گراف کافی حد تک بڑھ گیا ہے مگر طلباء کی صحیح سمت میں رہنمائی کے فقدان کی وجہ سے حقیقی معنوں میں مسلم ملت کی سماجی ترقی کا رخ متعین نہیں ہوسکا ہے۔ یہ ہے شہر بھٹکل کا بس اسٹانڈ!۔۔۔ کیا یہ کلین بھٹکل۔گرین بھٹکل ہے؟! http://www.sahilonline.net/ur/this-is-the-bus-stand-of-bhatkal-is-this-clean-bhatkal-and-green-bhatkal ایک جانب سارے ملک میں سوچّتا ابھیان (صفائی مہم) چل رہی ہے تو دوسری جانب بھٹکل شہر میں کلین سٹی۔ گرین سٹی کی مہم چلائی جا ری ہے۔یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ کسی شہر کی ترقی کے بارے میں اندازہ لگانا ہوتو پھر وہاں کے بس اسٹانڈاوراس کے اطراف پر ایک نظر ڈالنا کافی ہوتا ہے۔ اس سے سارے شہر کی جو حالت ہے اس کا نقشہ سامنے آجا تا ہے۔ بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے! حفیظ نعمانی http://www.sahilonline.net/ur/bai-dair-ki-meherbaan-aate-aate دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ نہ سوچیں کہ میں جو کہہ رہا ہوں اس سے اسی(۸۰) فیصد لوگ ناراض ہوجائیں گے اور صرف ۲۰ فیصدی خوش ہوں گے لیکن اس کی پرواہ نہ کریں اور جسے حق سمجھیں وہ کہہ دیں۔ خبر خاص نظر خاص۔ کچھ ایسے مناظرجو آپ نے کبھی نہیں دیکھے ہونگے۔ دیکھئےکیا ہے خاص http://www.sahilonline.net/ur/khabar-khas-nazar-khas-lack-of-proper-waste-management-system-in-bhatkal کچروں کے ڈھیر میں کھڑی انیسانیت کی بے بسی اور انتطامیہ کی بے حسی پر ساحل آن لائن کی یہ ایک ایسی رپورٹ ہے جو آپ کو حیرت میں ڈالے گی ہند۔پاک تنازعات ازحکیم سراج الدین ہاشمی http://www.sahilonline.net/ur/hind-pak-tanazat اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کشمیر میں جتنے حالات خراب ہوئے وہ مودی حکومت کے دوران ہوئے، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جتنی کشیدگی اور تنازعات میں اضافہ ہوا ہے، وہ بھی مودی حکومت کے دوران ہی ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ ہند کی خارجہ پالیسی کی مذمت جتنی کی گئی وہ کانگریس کے دور حکومت میں بی جے پی نے کی، یوپی الیکشن: سیکولر پارٹیوں کا اتحاد ناگزیرمکرمی! http://www.sahilonline.net/ur/up-election-2017 آئندہ سال پانچ صوبوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، ان میں سب سے اہم یوپی کا انتخاب ہے، جس کا ہندوستان کے سیاسی داؤ پیچ کو سلجھانے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں اہم رول ہوتا ہے، چنانچہ تمام بڑی پارٹیوں کی نظریں اسی صوبے پر ٹکی ہوئی ہیں، بھٹکل: سڑی لکڑیوں سے بھی بدترحالت میں مہمان پولس کے رہائشی مکانات http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-police-guest-houses-are-in-bad-condition بھٹکل کے حالات کو کبھی پرامن ہونے نہیں دیا جاتا ، ابھی امن بحال ہونے کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں تو شرپسند عناصر اور فرقہ پرست سیاست دان کی کرتوتوں سے حالات بگڑنے کی اطلاعات ملتی ہیں۔ یعنی بھٹکل میں امن کو بحال رکھنے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ ویسے کوئی پولس افسر بھی ایسا نہیں ہوگا جو یہاں سرویس نہیں کی ہوگی۔ جوان سال عہدیداران انجمن سے ترقی انجمن کی بڑی امیدیں وابستہ۔ اسحاق شاہ بندری کو ایڈیشنل سکریٹری منتخب کرنے پرنقاش نائطی کی خصوصی تحریر http://www.sahilonline.net/ur/high-hopes-for-development-of-bhatkal-anjuman-with-young-and-energetic-office-bearers اضافی مدیر اعلی انجمن حامی المسلمین کے منصب پر منتخب عزیزم إسحاق شاہ بندری، ہمارے بہت ہی اچھے دوست اور اسکول کے ساتھی، نہایت سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ چونکہ انہوں نے انجمن اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول میں ایس ایس ایل سی  تعلیم حاصل کرنے کے بعد  شہر بنگلور میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے اچھی کمپنی کی نوکری جوئن کر لی تھی ہندوستان کی موجودہ سماجی و سیاسی صورتحال اور اس کا حل؟ از: اے ۔ سعید  http://www.sahilonline.net/ur/hindustan-ki-aujuda-siyasi-o-samaji-surat-hal-aur-iska-hal ہمارے ملک کی سماجی و سیاسی صورتحال دن بہ دن خطرے سے دوچار ہے۔ ہندتوا فاشسٹ تنظیمیں، بی جے پی ، این ڈی اے حکومت اور سرکاری مشینری ہمارے ملک کے عوام کے درمیان رائج ترقی پسند جمہوری خیالات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس وقت ملک میں لفظ ، "عدم رواداری" کا زیادہ چرچا ہورہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکرات ضروری از: مولانا اسرارالحق قاسمی  http://www.sahilonline.net/ur/the-negotiations-for-resolve-of-kashmir-issue اس وقت کشمیر ایک سلگتا ہوا ایسامسئلہ ہے جس کی تپش صرف وادیِ گل کی لطافت کو ہی نہیں جھلسا رہی ہے بلکہ سری نگر سے لے کر نئی دہلی تک اور ہند۔پاک تعلقات سے لیکر ملک کی یکجہتی تک سب کے لئے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ بہار میں سیلا ب ، ایک طرفہ تماشہ ہے!از:سلمان عبدالصمد http://www.sahilonline.net/ur/bihar-mai-sailab-ek-tarfa-tamasha ملک کی مختلف ریاستوں سمیت نہ صرف شمالی بہار بلکہ یہاں کے متعدد اضلا ع سیلاب سے متاثر ہیں۔ کوسی ، کملا ، بلان، سون اور دیگر ندیوں کے ساتھ ساتھ گنگا کی طغیانی بڑھتی جارہی ہے ، جس سے دارالحکومت پٹنہ پر بھی سیلابی قہر کا خطرہ منڈلا رہا ہے ۔ بے گھرغریبوں کے لئے مکانات کا منصوبہ "نیا گاوں "تباہ ہوگیا http://www.sahilonline.net/ur/homeless-housing-scheme-for-the-poor-new-village-destroyed یہ اس وقت کی بات ہے جب کرناٹکا میں ایس ایم کرشنا وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز تھے۔ انہوں نے بے گھر غریبوں کے چھوٹے چھوٹے مکانات تعمیر کرنے اور نیا گاوں بسانے کا منصوبہ بنایا جسے " نو گرام یوجنا" کا نام دیا گیا۔جس کے تحت خالی پڑی ہوئی ریوینیو جگہ پر 30x40 فٹ کے مکانات تعمیر کرکے غریبوں کواس کا مالک بنانا مقصود تھا۔ بھٹکل کی مساجد میں قائم شبینہ مکاتب کا نظام ملک کے دیگر علاقوں کے لیے مثالی http://www.sahilonline.net/ur/%D8%A8%DA%BE%D9%B9%DA%A9%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%AC%D8%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%85-%D8%B4%D8%A8%DB%8C%D9%86%DB%81-%D9%85%DA%A9%D8%A7%D8%AA%D8%A8-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85-%D9%85%D9%84%DA%A9-%DA%A9%DB%92 اسکولی بچوں کے لئے اسکول کی چھٹی کے بعد کے بعد مساجد میں دین کی بنیادی باتیں اور قرآن سکھانے کے ساتھ ساتھ اسلامی آداب اور دعائیں سکھانے کا نظم کرنا بڑی بات ہے۔بھٹکل کی مساجد کے تحت اس قسم کے شبینہ مکاتب کا انتظام کیا گیا ہے، بھٹکل:خون کا عطیہ دینے والے شہر میں خون ملتا ہی نہیں :باشندوں کی درد بھری کہانی :کیا عوامی نمائندے توجہ دیں گے؟ http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-blood-donor-city-does-not-have-blood-a-painful-story-of-citizens یہ بھٹکل باشندوں کی درد بھری کہانی ہے، یہاں ہرسال خون عطیہ کیمپوں کا اہتمام ہوتارہتاہے، تعلقہ کےمختلف ادارے، تنظیمیں سماجی خدمت کے نام پر پروگرام منعقد کرتے رہتے ہیں۔ مہاراشٹرا میں بیف پر پابندی کی نگرانی کے لئے سرکاری کمیٹی میں ہندتووا کارکنان کی شمولیت http://www.sahilonline.net/ur/members-of-hindutva-outfits-sign-up-to-track-ban-on-beef-indian-express مہاراشٹر ا حکومت کی طرف سے بیف کے استعمال پر لگی ہوئی پابندی اور جانوروں پر ظلم روکنے والے قانون پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے کے لئے سرکاری طور پر ایک ایسی ٹیم تشکیل دی جارہی ہے جس کے اراکین کو جانوروں کے "ویلفئیر افیسر"ہونے کا شناختی کارڈ دیا جائے گا گمنامی کی زندگی گزار رہا ہے بھٹکل میں اردو ادب و شاعری کو رواج دینے والا اپنے زمانے کا مایہ نازادیب و شاعر ڈاکٹر محمد حسین فطرت http://www.sahilonline.net/ur/special-report-on-great-poet-dr-mohammed-husain-fitrfat فطرت بھٹکلی بھٹکل میں اردو ادب کی روشنی عام کرنے والا اردو کاایک مایہ ناز شاعر ہے،لیکن اپنی زندگی کے پچاسی سال ادب و شاعری کی خدمت میں گزارنے والا یہ شاعر آج دنیا سے دور گمنامی کی زندگی گزار رہا ہے ۔