اداریہ http://www.sahilonline.net/ur/editorial ساحل آن لائن: ریاست کرناٹک سے شائع ہونے والا تین زبانوں کا منفرد نیوز پورٹل جو ساحلی کینرا کی خبروں کے ساتھ ساتھ ریاستی، قومی اور بین الاقوامی خبروں سے آپ کو باخبر رکھتا ہے۔ اداریہ امن کے باغ میں تشدد کا کھیل کس لئے؟ خصوصی اداریہ http://www.sahilonline.net/ur/why-violence-in-peaceful-garden-special-editorial ضلع شمالی کینر اکو شاعرانہ زبان میں امن کا باغ کہا گیا ہے۔یہاں تشدد کے لئے کبھی پناہ نہیں ملی ہے۔تمام انسانیت ،مذاہب اور ذات کامائیکہ کہلانے والی اس سرزمین پر یہ کیسا تشددہے۔ ایک شخص کی موت اور اس کے پیچھے افواہوں کا جال۔پولیس کی لاٹھی۔ آمد ورفت میں رکاوٹیں۔ روزانہ کی کمائی سے پیٹ بھرنے والوں کے لئے فاقہ کشی کی نوبت۔ ٹوٹے ہوئے شیشوں والی دکانیں۔ نقصان زدہ موٹر گاڑیاں۔چار پانچ دنوں سے اپنے دروازے بند رکھی ہوئی دکانیں۔ اسکولوں کی طرف رخ کرنے سے گھبرائے ہوئے طلبا۔بازاروں میں گھومنے پھرنے سے گھبرائے ہوئے لوگ۔یہ ساری چیزیں ضلع کی خوبصورتی پر کلنک لگانے والی ہیں۔گشتہ چارچھ دنوں سے گزرنے والے حالات بدامنی کا پہاڑ جیسے لگ رہے ہیں۔ آخر یہ سب کسے چاہیے؟ کیا ساحلی پٹری کی تاریکی دور ہوگی ؟ یہاں نہ ہواچلے ، نہ بارش برسے : مگر بجلی کے لئے عوام ضرورترسے http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-when-will-coastel-darkness-gone-who-will-responsible ساحلی علاقہ سمیت ملناڈ کا کچھ حصہ بظاہر اپنی قدرتی و فطری خوب صورتی اور حسین نظاروں کے لئے متعارف ہو، یہاں کے ساحلی نظاروں کی سیر و سیاحت کے لئے دنیا بھر کے لوگ آتے جاتے ہوں، لیکن یہاں رہنے والی عوام کے لئے یہ سب بے معنی ہیں۔ کیوں کہ ان کی داستان بڑی دکھ بھری ہے۔ کہنے کو سب کچھ ہے لیکن نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں ہوا کا چلنا ممنوع ہے بارش تو ہونی ہی نہیں چاہئے ، اگر ہواچلی، بارش ہوئی تو منٹ بھرمیں گاؤں کا گاؤں اندھیرےمیں ڈوب جانے کے ساتھ نقصانات بھی پہنچتا ہے۔ کیاکیا سنائیں اور کیا کیا دکھائیں آپ کو۔ ہوکا چلنا گھروں کی چھتوں پر درختوں کا گرنا، جانی ومالی نقصانات ،ہزاروں بجلی کے کھمبے ، بجلی کے تاروں کا ٹوٹ کر گرنا ، بجلیوں کی گرج اور چمک سے عوام خوف کے مارے ادھر ادھر چلےجانا، بچے ڈر کے مارے دبک جانا، گویا خوف و ہراس کا ماحول۔ اندھیری نگری چوپٹ راجا۔ ہندوتوا فاشزم کا ہتھکنڈا "بہو لاؤ،بیٹی بچاؤ" ملک کے کئی حصوں میں خفیہ طور پر جاری http://www.sahilonline.net/ur/hindutva-lab-targetting-muslim-girls-bahu-lao-beti-bachao-andolan آر ایس ایس کے ہندو فاشزم کے نظریے کو رو بہ عمل لانے کے لئے اس کی ذیلی تنظیمیں خاکے اور منصوبے بناتی رہتی ہیں جس میں سے ایک بڑا ایجنڈا اقلیتوں کو جسمانی، ذہنی اور اخلاقی طور پر ہراساں کرنا اور خوف و دہشت میں مبتلا رکھنا ہے۔ حال کے زمانے میں سنگھ پریوار کی تنازعات کھڑا کرنے کے لئے صف اول کی تنظیم وشوا ہندو پریشد نے اپنی ذیلی تنظیم بجرنگ دل کے تعاون سے چلائی گئی مہمات "گھر واپسی"کے اہتمام اور "لو جہاد"مفروضے کے ذریعے ملک بھرمیں نفرت اور اشتعال کا ماحول پیدا کیاتھا۔جس کی مخالفت میں ملک کے سیکیولر اور امن پسند شہریوں نے آواز بھی بلند کی تھی۔ بھٹکل میں اندرونی نالیوں کے ابترحالات ؛ حل کے منتظر عوام :پریشان عوام کا وزیرا علیٰ سے سوال،  کیا ہوا تیرا وعدہ  ؟؟ http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-people-suffering-from-anxiety-of-drainage-system یہ بھٹکلی عوام کے لئے کسی سانحہ سے کم نہیں ہے، گرچہ یہاں کے عوام کے سامنے چاند سورج لانے کے وعدے کرنےکے باوجود عوام کے بنیادی سہولیات کی حالت دگرگوں اور قابل تشویش  کی حدتک جاری ہے، خاص کر بھٹکل شہر میں اندرونی نالیوں کا نظام عوام کو ہر طرح سے پریشان کررکھاہے۔ بھٹکل کے سڑک حادثات پرایک نظر : بائک کا سفر کیا………………سفر ہے ؟ غور کریں http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-traffic-problems-in-bhatkal-town ’’ مجھے بہت غرورتھا اپنی بائک پر، تیز رفتاری پر، توازن پر ، سمجھتاتھا کہ میں بائک چلانے میں ماہرہوں، جتنی بھی تیز رفتاری ہو اپنی بائک پر مجھے پورا کنڑول ہے ،کراس کٹنگ میں بھی میرا توازن نہیں جاتا، جب چاہے تب میں اپنی بائک کو اپنی پکڑ میں لاسکتاہوں۔ لیکن جب میرا حادثہ ہوا تو ہوش ٹھکانے آگئے ، کا ش ! میں وہ لمحہ کنڑول کر سکتا، میری ماں کے آنکھوں میں آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے، بھائی اور گھروالے کافی پریشان تھے، سچ پوچھئے تووہی سب سے زیادہ درد میں مبتلا تھا۔ حادثے سے گھروالے ، والدین سب پریشانیوں اور تکالیف کو جھیلتے ہیں، ہمارا کیا ، ہمیں صرف دردہوتاہے ، اسپتال میں داخل ہوجاتےہیں، اصل مصیبت تو گھروالوں پرپڑتی ہے ، میں تمام نوجوانوں اور دیگر افراد سے اپیل کرتاہوں کہ اپنے توانا جسم کو یوں جذبات کی لئے میں بہا لے نہ جاؤ اور گھروالوں کے لئے مصیبت کا باعث نہ بنو۔ ٹی وی، موبائیل اورسوشیل میڈیا کی چکاچوند سے اب کتب خانے ویران :بھٹکل سرکاری لائبریری میں27 ہزار سے زائد کتابیں مگرپڑھنے والا کوئی نہیں http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-mobiles-revolution-hitting-the-libraries-to-deserted جدید ٹکنالوجی کے دورمیں موبائیل ، لیپ ٹاپ، ٹیاب کی بھر مار ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور کو موبائیل دور کہا جاتاہے۔ واٹس اپ کی کاپی پیسٹ تہذیب ، تخلیق ، جدت اور سنجیدگی کو قتل کرڈالا ہے، جس کی وجہ سے بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ موبائیل کے ذریعے ہی ہرچیز حاصل کرنے کو ہی جب جائزٹھہرایا جارہاہے تو پھر اپنی تمام سہولیات سے آراستہ بھٹکل کی لائبریری ویران ہی ہوگی نا!۔ آزادی ، جدوجہد، مسلمان ، تاریخی سچائی اور ملک کی ترقی یوم آزادی مبارک ہو۔ http://www.sahilonline.net/ur/bhatkal-indian-independence-war-muslims-facts-and-development-of-country درختوں پر لٹکتی لاشیں ، سڑکوں پر سسکتی ، ٹرپتی جانیں، حد نگاہ سروں کا ڈھیر ، زمین کا چپہ چپہ خون سے لت پت، سرِبازار عصمتیں تارتار، گھر زنداں ، بازار مقتل،بے گور وکفن پڑی نعشیں ، قید و بند کی صعوبتوں کو خوش آمدید کہتے مجاہدین، تختہ دار پر انقلاب زندہ باد کا نعرہ دیتے ہوئے شہداء،ایسے طوفانِ بلا خیز ظلم وستم سے گزرنے کے بعد ملک کی پیشانی پر ’’آزادی ‘‘کا ستارہ چمکا تو ظلمتوں، غموں، بے قراریوں ، خوف وہراس کے کالے (اُجلے )بادل چھٹ چکے تھے ، گوری چمڑی والے اپنی بساط لپیٹ چکے تھے۔ جدھر دیکھوادھر ترنگا، ترنگا ، ترنگا۔ بھٹکل میں زکوٰة اور صدقات مانگنے والوں کی بھیڑ جمع ہونا شروع ہوگئی http://www.sahilonline.net/ur/holy-month-of-ramzan-and-thousands-of-beggars-in-bhatkal رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوگیا اس کے ساتھ ہی زکوٰة و صدقات کی تقسیم میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔بھٹکل کے خوشحال لوگوں کی طرف سے جس پیما نے پر صدقہ وخیرات کی جاتی ہے آس پاس کے علاقوں میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے  کنداپور سڑک حادثے میں ہلاک ہونے والے ایک ہی خاندان کے 6بچے۔۔اسپتال میں دل دہلانے والے مناظر۔۔محکمہ تعلیم اور اسکول انتظامیہ کے لئے لمحہ فکر http://www.sahilonline.net/ur/kundapur-accident-heart-rending-scenes-at-hospital کنداپور 22جون (ایس او نیوز) منگل کی صبح کنداپور تراسی کے قریب اسکول وین اور پرائیویٹ بس کے بھیانک حادثے میں ہلاک ہونے والے 8بچوں میں سے 6بچے ایک ہی خاندان کے بتائے جاتے ہیں۔ جب منی پال اسپتال میں ڈاکٹرکی طرف سے ہلاک ہونے والے بچوں کے ناموں کا اعلان کیا جارہا تھا تو وہاں پر موجود والدین کی آہ و بکا اور چیخ و پکار سے دیکھنے اور سننے والوں کاسینہ پھٹا جارہا تھا۔ کیوں نہ ہو۔جن ماں باپ نے آنکھوں میں مستقبل کے سپنے سجائے اپنے آنگن کے معصوم پھولوں اور آنکھوں کے تاروں کو اپنے ہی ہاتھوں سے سجاسنوار کر اسکول کے لئے بھیجا تھا، انہی جگرکے ٹکڑوں کو زخموں سے چور لاشوں کی شکل میں واپس گھر لے جانے کے بارے میں سوچ کر بھی روح کانپ جاتی ہے۔